جھنگ
Saturday, 27 June, 2026
تعارف

جھنگ صدر ایک قدیم شہر ہے جس کی تاریخ صدیوں پرانی ہے ، جھنگ کا پہلا شہر، ایک قبیلہ سردار رائے سیال نے 1288ء میں اپنے پیر و مرشد حضرت شاہ جلال بخاری کے کہنے پر آباد کیا۔ 

جھنگ کے پہلے حکمران مل خان 1462ء میں ہوئے۔ سیال قبائل نے جھنگ پر 360 سال حکومت کی اور آخری سیال حکمران احمد خان تھے، جنہوں نے 1812ء سے 1822ء تک حکومت کی، جن کے بعد حکومت سکھوں کے ہاتھ آئی، اور پھر ان سے انگریزوں کے قبضہ میں گئی۔ 

جھنگ دریائے چناب کے کنارے آباد وسطی پنجاب (پنجاب، پاکستان) کا شہر ہے، جغرافیائی اعتبار سے جھنگ کی سرحدیں شمال میں ضلع سرگودھا، شمال مشرق میں گوجرانوالہ، مشرق میں فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ، جنوب میں مظفر گڑھ اور خانیوال، مغرب میں لیہ اور بھکر اور شمال مغرب میں خوشاب سے ملتی ہیں۔تقریبا تمام علاقہ میدانی ہے، ماسوائے شمال کے جہاں ربوہ کے قریب دریائے چناب کے کنارے کیرانا پہاڑیوں کا سلسلہ ہے، جو آراولی سلسلوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ لیکن تحصیل چنیوٹ جو جھنگ کی تحصیل تھی ضلع بننے کے بعد اب ربوہ جھنگ کا حصہ نہ رہا ہے ۔

جھنگ کے مغرب میں تھل کا صحرائی علاقہ ہے جو دریائے جہلم کے کنارے سے شروع ہوتا ہوا خوشاب اور بھکر کے اضلاع تک جاتا ہے۔ گوجرانوالہ کے قریب پبانوالا سے بنجر زمین شروع ہوتی ہے جہاں سے زمین کی سطح 10 فٹ (3 میٹر) بلند ہوتی ہے، اور آگے بڑھتی ہوئی 30 فٹ (9 میٹر) تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ علاقہ جنوب میں 87 کلومیٹر تک اور چوڑائی میں تقریباّ 30 سے 40 کلومیٹر تک ہے۔ اس علاقہ میں ماضی میں جنگلات تھے اور یہ علاقہ کسی بھی قسم کی کاشت کے لیے موزوں نہیں تھا۔ انگریزی دور حکومت میں یہاں نہری نظام بنایا گیا اور 975 ایکڑ اراضی پر لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کی بنیاد رکھی گئی، جو آج ٹیکسٹائل کے شعبہ میں پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے۔ اس کے علاوہ دریائے چناب اور دریائے جہلم کے درمیان واقع کیرانا کا علاقہ جو گھوڑی والا تک پھیلا ہوا ہے، بھی ضلع جھنگ میں شامل ہے۔ دریاؤں کا قریبی نشیبی علاقہ جو سیلاب کی صورت میں زیر آب آ جاتا ہے ہتھر کہلاتا ہے جبکہ دریاؤں کے درمیان اونچائی والا علاقہ جو زیر آب نہیں آتا اتر کہلاتا ہے۔

جھنگ کی اکثریتی آبادی کی مادری زبان پنجابی ہے۔ اور بعض علاقوں میں سرائیکی بھی بولی جاتی ہے،جھنگ کے لوگ پُرامن ہیں جس کی واضح مثال جھنگ میں فرقہ وارانہ لہر کے بعد آج جھنگ کی زمین پر محبت ،بھائی چارہ قائم ہے سازشی عناصر مستقل طور پر جھنگ کے باسیوں میں اختلافات قائم نہ رکھ سکے ،جھنگ میں زیادہ تر سیال ،سید ،چوہدری ،ارائیں ،گجر ،بھٹی ،نول ،چدھڑ ،ملک سمیت تمام قوموں کے لوگ آباد ہیں ۔ اس کے علاوہ اردو بھی عام بولی جاتی ہے۔ ویسے یہاں کی پنجابی کا خاص لہجہ جھنگوی کہلاتا ہے۔ 

اسی علاقے سے ہیر رانجھا اور مرزا صاحباں جیسی رومانوی داستانوں کا جنم ہوا۔جھنگ کے علاقائی کھیل میں گھڑ سواری، نیزہ بازی، کبڈی، کاؤڈی،کشتی شامل ہیں اور شادی کی تقاریب میں برات کے موقع پر دھریس اور جھومرروایتی ڈانس ہیں جو مرد وخواتئن ڈھول کی تھاپ پر اپنی خوشیوں کا اظہار کر تے ہیں۔

جھنگ کی دھرتی کو مختلف ادوار میں متعدد صوفیائے کرام نے اپنا مسکن بنایا ہے جن کے دربار آج بھی زائرین کی توجہ کا مرکز ہیں اور اسی وجہ سے بعض کتابوں میں اسے صوفیائے کرام کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے۔

حضرت سلطان باہو، شاہ جیونہ، ماجھی سلطان، پیر تاج الدین اٹھارہ ہزاری، ہاتھیوان، پاکھرا سلطان، پیر عبد الرحمن اور خادم شاہ سمیت دیگر صوفیاء کے مزاروں پر لگنے والے سالانہ میلے اور عرس ان بزرگانِ دین سے عقیدت کے اظہار کا ذریعہ ہیں۔سلطان الفقر سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ ااور ہیر رانجھا کا دربار بھی آپ کو سر زمین جھنگ میں ان کے قصوں ،کہانیوں اور داستان آج بھی آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ 

جھنگ کی مٹی سے علمی ،سیاسی ،مذہبی اور شاعر۔ادیب اور سکالر ز نے جنم لیا اور انہوں نے اپنی جائے پیدائش کا نام جگ میں روشن کیا ،پاکستان بننے سے قبل علمی حوالہ سے مراکز قائم تھے ،جس کی مثال گورنمنٹ کالج جھنگ کا علمی مرکز ہے جو 1926ء میں قائم ہوا،اور اس ادارے سے فارغ التحصیل طلبا ء نے اس دھرتی کا نام روشن کیا ،ڈاکٹر عبدالسلام نوبل انعافتہ بھی ان طالب علموں میں سے ایک ہے ، جنہوں نے پوری دنیا میں اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کیا ان کا تعلق بھی جھنگ شہر کی سرزمین سے ہے۔

یہ بات بتانا بھی ضروری ہے کہ جب ڈاکڑ عبد السلام نوبل انعام لینے کے پہلی بار سٹیج پر گئے تو آپ شیروانی لباس زیر تن کیا ہوا تھا اور آپ نے وہاں سب سے پہلے سورت الملک کی تلاوت کی ترجمہ: پھر دوبارہ نظر دوڑائی، تمہاری نظر تھک ہار کر واپس آ جائے گی ۔ یہ اعزاز بھی جھنگ کو ہی حاصل ہے کہ ملک کے تمام بڑے اداروں میں اچھی اچھی پوسٹوں پر ملک کی خدمت میں مصروف عمل ہیں اور ملک کی ترقی میں اہم کر دار رہاہے۔اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔

سیاستدانوں میں سید عابد حسین جو قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھیوں میں سے تھے انکی صاحبزادی بیگم سیدہ عابد حسین اور انکے قریبی راشتہ دارسید فیصل صالح حیات ، صاحبزادہ نذیر سلطان ،مہر اسلم بھروانہ ،نواب امان اللہ خان سیال ، صاحبزادہ طاہر سلطان ، صاحبزادہ محبوب سلطان ،سید اسد حیات ،محترمہ غلام بی بی ،شیخ وقاص اکرم ،شیخ محمد اکرم ،مولانا محمد اعظم طارق ،مہر خالد محمود سرگانہ ،نجف خان سیال ،سمیت دیگر سیاستدا ن عوامی خدمت میں اپنی اپنی جگہ مصروف عمل ہیں ۔اور جھنگ کی عوام گاہے بگاہے انہیں اپنا نمائندہ بنا کر اسمبلیوں میں بھیجتی رہتی ہے۔

یہ بات الگ ہے کہ ہی لوگ عوام کی توقعات پر پورا اُترتے ہیں کہ نہیں یہ جھنگ کی عوام ہی بتا سکتی ہے۔

شنگھائی میں ’ڈزنی لینڈ‘ کا شاندار افتتاح
پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں