Monday, 10 May, 2021
ہمارے بارے میں

مبصر ڈاٹ کام پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے چند صحافتی دوستوں کی مشترکہ کاوش کا نتیجہ ہے۔

مکمل پراجیکٹ سات زبانوں پر مشتمل ہے جن میں انگریزی،اردو،فارسی،عربی،ہندی،بنگالی اور پشتو شامل ہیں۔

فی الحال انگریزی اور اردو سیکشن میں خبروں اور تجزیات کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔باقی پانچ زبانوں میں ویب سائیٹ ابھی زیر تکمیل ہے۔

مبصر ڈاٹ کام کا مقصد معیاری خبریں،رپورٹس اور بے لاگ تجزیات قارئین تک پہنچانا ہے۔

ایڈیٹر: صفدر دانش
چیف نیوز ایڈیٹر: وحید اختر
ڈپٹی ایڈیٹر: ڈاکٹر قلب نواز
ایسوسی ایٹ ایڈیٹر: شہباز علی عباسی
نیوز ایڈیٹر: سدھیر کیانی
آئی ٹی انچارج: محمد عارف
ویب کنٹرولر: اسداللہ خان

 

 

مقبول ترین
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ملک کے 16شہروں میں کورونا کیسز کی شرح بہت زیادہ ہے، جہاں سول اداروں کی مدد کے لیے پاک فوج کی تعیناتی کردی گئی ہے۔ راولپنڈی میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار
یران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ’ان پر پاسداران انقلاب کی کارروائیوں کی حمایت کے لیے سفارت کاری کی قربانی دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔‘ عرب نیوز کے مطابق محمد جواد ظریف کے لندن میں ایران نیشنل ٹی وی چینل کو تین گھنٹے طویل انٹرویو میں ایرانی
قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے پر کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے لاہور کے مرکزی دھرنے سمیت ملک بھر میں احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ میڈیا کے مطابق حکومت کی جانب سے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق قرارداد
عوامی نیشنل پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کرلیا جس کے نتیجے میں اتحاد ٹوٹ گیا اور اے این پی رہنماؤں نے پی ڈی ایم کے تمام عہدے چھوڑ دیے۔ پشاور میں اے این پی کی مرکزی

کرونا وائرس اور احتیاتی تدابیر
کوہاٹ سے پہلے وہ قبائلی علاقے میں قیام پذیر تھے ان کا خاندان زراعت اور مال مویشی کی تجارت سے وابستہ تھا کوہاٹ کا یہ مقام جس کو جرم کہا جاتا ہے اس وقت چند گاؤں پر مشتمل تھا اور آج آبادی کے لحاظ سے بڑھ کر وہ ایک بڑا علاقہ بن چکا ہے
اس بات کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہ زندگی مکافات عمل ہے۔ کچھ لوگ اپنا کیا اسی دنیا میں کاٹ لیتے ہیں اور کچھ لوگ آخرت میں۔ مگر کوئی اس سے بچ نہیں سکتا یہ بات تو واضح ہے اسے کسی بھی صورت میں جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
آن لائن ایجوکیشن سسٹم تقریباً پوری دنیا میں رائج ہے ۔پاکستان میں بھی دو بڑی یونیورسٹیاں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اورورچوئل یونیورسٹی اس وقت ہزاروں اسٹوڈنٹ کو آن لائن ایجوکیشن فراہم کر رہی ہیں۔

کیا ملک میں کرفیو نافذ ہونا چاہیے؟
نتائج ملاحظہ کریں
پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں