![]() |
تہران - ایران نے جنگ بندی سے متعلق امریکی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی جنگ بندی کا فیصلہ صرف ایرانی شرائط کے مطابق ہوگا۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، تاہم انہیں غیرمناسب قرار دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ اختیار نہیں دے سکتا کہ وہ جنگ کے خاتمے کا وقت مقرر کریں۔
ایران نے ایک علاقائی ثالث کے ذریعے امریکا کو پیغام پہنچایا ہے کہ وہ اپنے دفاع کا حق جاری رکھے گا اور دفاعی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ایرانی شرائط پوری نہیں ہوتیں۔
ایرانی حکام کے مطابق جنگ بندی کے لیے اولین شرط حملوں کا مکمل خاتمہ اور ایرانی عہدیداروں کی ٹارگٹ کلنگ روکنا ہے۔ اس کے علاوہ ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنے کے لیے ٹھوس اور قابلِ ضمانت اقدامات کیے جائیں۔
ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ جنگ سے ہونے والے نقصانات کا مکمل تخمینہ لگایا جائے اور اس کے ازالے کی ضمانت فراہم کی جائے۔ مزید برآں، ایران پر جاری جنگ اور خطے میں دیگر مزاحمتی گروپوں کے خلاف کارروائیاں روکنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کرنا بھی جنگ بندی کے لیے اہم شرط ہے۔
ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ ایران کا ابتدائی ردعمل امریکا تک پہنچانے کے لیے پاکستان کے ذریعے بھیج دیا گیا ہے۔
ایران کی جنگ بندی کے لیے اہم شرائط:
حملوں اور ایرانی عہدیداروں کی ہلاکتوں کا فوری خاتمہ
جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنے کے لیے ضمانت شدہ اقدامات
جنگی نقصانات کا تخمینہ اور ادائیگی کی یقین دہانی
ایران اور خطے میں مزاحمتی گروپوں کے خلاف کارروائیوں کا خاتمہ
آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کا اعتراف
دوسری جانب خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کو 15 نکاتی تجاویز پیش کی گئی ہیں، جن میں پابندیوں میں نرمی بھی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی تجاویز میں ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو محدود یا ختم کرنے، آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے، اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایران اور امریکا کے درمیان سویلین جوہری تعاون کی پیشکش بھی ان تجاویز کا حصہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ