کراچی
Saturday, 27 June, 2026
تعارف

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور صنعتی، تجارتی، تعلیمی، مواصلاتی و اقتصادی مرکز ہے۔ کراچی دنیا کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ کراچی پاکستان کے صوبہ سندھ کا دارالحکومت ہے۔ شہر دریائے سندھ کے مغرب میں بحیرہ عرب کی شمالی ساحل پر واقع ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ اور ہوائی اڈہ بھی کراچی میں قائم ہے۔ 

کراچی 1947ء سے 1960ء تک پاکستان کا دارالحکومت بھی رہا۔ موجودہ کراچی کی جگہ پر واقع قدیم ماہی گیروں کی بستیوں میں سے ایک کا نام کولاچی جو گوٹھ تھا۔ انگریزوں نے انیسویں صدی میں اس شہر کی تعمیر و ترقی کی بنیادیں ڈالیں۔ 

1947ء میں پاکستان کی آزادی کے وقت کراچی کو نو آموز مملکت کا دارالحکومت منتخب کیا گیا۔ اس کی وجہ سے شہر میں لاکھوں مہاجرین کا دخول ہوا۔ پاکستان کا دارالحکومت اور بین الاقوامی بندرگاہ ہونے کی وجہ سے شہر میں صنعتی سرگرمیاں دیگر شہروں سے قبل شروع ہو گئیں۔ 

1959ء میں پاکستان کے دار الحکومت کی اسلام آباد منتقلی کے باوجود کراچی کی آبادی اور معیشت میں ترقی کی رفتار کم نہیں ہوئی۔

پورے پاکستان سے لوگ روزگار کی تلاش میں کراچی آتے ہیں اور اس وجہ سے یہاں مختلف مذہبی، نسلی اور لسانی گروہ آباد ہیں۔ کراچی کو اسی وجہ سے منی پاکستان (Mini Pakistan) چھوٹاپاکستان بھی کہتے ہیں۔

اکیسویں صدی میں تیز قومی معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ کراچی کے حالات میں بہت تبدیلی آئی ہے۔ کراچی کی امن عامہ کی صورتحال کافی بہتر ہوئی ہے اور شہر میں مختلف شعبوں میں ترقی کی رفتار میں بہت اضافہ ہوا ہے۔

کراچی دریائے سندھ کے دہانے کی شمالی حد پر واقع ہے۔ شہر ایک قدرتی بندرگاہ کے گرد وجود پایا۔ کراچی 52´ 24° شمال اور 03´ 67° مشرق پر واقع ہے۔

گذشتہ 150 سالوں میں کراچی کی آبادی و دیگر اعداد و شمار میں واضح تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ غیرسرکاری اور بین الاقوامی ذرا‏ئع کے مطابق کراچی کی موجودہ آبادی 24 ملین ہے۔ جو 1947ء کے مقابلے میں 37 گنا زیادہ ہے۔

آزادی کے وقت کراچی کی آبادی محض 4 لاکھ تھی۔ تقسیم ہند (1947) کے نتیجے میں دس لاکھ لوگ ہجرت کر کے کراچی میں آ بسے۔ شہر کی آبادی اس وقت 5 فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھ رہی ہے جس میں اہم ترین کردار دیہات سے شہروں کو منتقلی ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق ہر ماہ 45 ہزار افراد شہر قائد پہنچتے ہیں۔ کراچی دنیا کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے۔

کراچی ایک کثیر النسلی، کثیر اللسانی اور کثیر الثقافتی بین الاقوامی شہر ہے۔ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق کراچی کی 94 اعشاریہ 04 فیصد آبادی شہر میں قیام پذیر ہے۔ اس طرح وہ صوبہ سندھ کا سب سے جدید علاقہ ہے۔

کراچی میں سب سے زیادہ آبادی اردو بولنے والے مہاجرین کی ہے جو 1947ء میں تقسیم برصغیر کے بعد ہندوستان کے مختلف علاقوں سے آکر کراچی میں آباد ہوئے تھے۔ ہندوستان سے آئے ہوئے ان مسلم مہاجرین کو نو آموز مملکت پاکستان کی حکومت کی مدد سے مختلف رہائش گاہیں نوازی گئیں جن میں سے اکثر پاکستان چھوڑ کر بھارت جانے والی ہندو اور سکھ برادری کی تھی۔

شہر کے دیگر باسیوں میں سندھی، بلوچی، پنجابی، پٹھان، گجراتی، کشمیری، سرائیکی اور 10 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین شامل ہیں جو 1979ء میں افغانستان پر سوویت یونین کی جارحیت کے بعد ہجرت کرکے شہر قائد پہنچے اور اب یہاں کے مستقل باسی بن چکے ہیں۔ ان مہاجرین میں پختون، تاجک، ہزارہ، ازبک اور ترکمان شامل تھے۔ ان کے علاوہ ہزاروں بنگالی، عرب، ایرانی، اراکانی کے مسلم مہاجرین (برما کی راکھائن ریاست کے) اور افریقی مہاجرین بھی کراچی میں قیام پذیر ہیں۔ 

آتش پرست پارسیوں کی بڑی تعداد بھی تقسیم ہند سے قبل سے کراچی میں رہائش پذیر ہے۔ کراچی کے پارسیوں نے شہر کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اہم سرکاری عہدوں اور کاروباری سرگرمیوں میں بھرپور طریقے سے شامل رہے ہیں۔ آزادی کے بعد ان کی اکثریت مغربی ممالک کو ہجرت کرگئی تاہم اب بھی شہر میں 5 ہزار پارسی آباد ہیں۔ علاوہ ازیں شہر میں گوا سے تعلق رکھنے والے کیتھولک عیسائیوں کی بھی بڑی تعداد آبادی ہے جو برطانوی راج کے زمانے میں یہاں پہنچی تھی۔

شنگھائی میں ’ڈزنی لینڈ‘ کا شاندار افتتاح
پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں