پشاور
Saturday, 26 September, 2026
تعارف

پشاور پاکستان کا ایک قدیم شہر اور صوبہ خیبر پختونخواہ کا صدر مقام ہے۔ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کا انتظامی مرکز بھی یہیں ہے۔ بڑی وادی میں بنا یہ شہر درہ خیبر کے مشرقی سرے پر واقع ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحد اس کے پاس ہی ہے۔ وسط ایشیاء اور جنوبی ایشیاء کی اہم گذرگاہوں پر واقع یہ شہر علاقے کے بڑے شہروں میں سے ایک اور ثقافتی لحاظ سے متنوع ہے۔ پشاور میں آب پاشی کے لئے دریائے کابل اور دریائے کنہار سے نکلنے والی نہریں گذرتی ہیں۔

پشاور کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور 1998 میں آبادی 2،982،816 تھی۔ آبادی میں اضافے کی شرح 3.29 فیصد ہےجو پاکستان کے دیگر شہروں کی اوسط سے زیادہ ہے۔

ضلع پشاور کا کُل رقبہ 1257 مربع کلوميٹر ہے۔
یہاں فی مربع کلو میٹر 2040 افراد آباد ہيں
سال 2004-05 ميں ضلع کی آبادی 2564000 تھی
دیہی آبادی کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے ۔
کُل قابِل کاشت رقبہ78930 ہيکٹر ہے

پشاور پاکستان کے نسلی اور لسانی اعتبار سے متنوع ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ اس کی شہری آبادی بڑھ رہی ہے جس کی وجوہات اردگرد کے دیہات اور خیبرپختونخواہ کے دوسرے چھوٹے شہروں کی مقامی آبادی کا روزگار کے سلسلے میں بڑے شہر کو منتقلی، تعلیم اور دیگر خدمات شامل ہیں۔اس کے علاوہ آس پاس کے علاقوں میں فوجی کاروائیوں اور افغان مہاجرین کی آمد سے بھی یہاں کی آبادی بہت بڑھ گئی ہے۔ خیبر پختونخواہ میں تعلیمی ، سیاسی اور کاروباری اعتبار سے پشاور سب سے آگے ہے اور علاقے کے ترقی یافتہ ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ پاکستان میں طب اور تعلیم کے حوالے سے بہترین تعلیمی اداروں میں سے کئی پشاور میں قائم ہیں۔

1950 کی دہائی کے وسط تک پشاور دیواروں کے بیچ گھرا شہر تھا جس کے 16 دروازے تھے۔ ان میں کابلی دروازہ سب سے زیادہ مشہور تھا۔ جنوری 2012 میں اس وقت کے ڈی سی او سراج احمد نے اعلان کیا کہ "وقت کے ساتھ ساتھ شہر کے تمام پرانے دروازے پرانی حالت میں بحال کر دیئے جائیں گے"۔ شہری آبادی کے تناسب سے شہر کا حجم نہیں بڑھا اور اسی وجہ سے آلودگی اور آبادی کی گنجانی کی وجہ سے شہر پر برے اثرات ہور ہے ہیں۔ آبادی کے علاوہ بہت بڑی تعداد میں افغان گاڑیاں بھی شہر سے گذرتی ہیں جس سے شہر کی فضاء مزید آلودہ ہو رہی ہے۔

پشاور کا موسم نیم بنجر ہے اور گرمیاں بہت سخت جبکہ سردیاں نسبتاً سرد ہوتی ہیں۔ سردیوں کا موسم نومبر سے شرو ع ہو کر مارچ کے اواخر تک اور کبھی کبھار اپریل کے وسط تک چلا جاتا ہے۔ گرمیاں وسط مئی سے وسط ستمبر تک جاتی ہیں۔ گرمیوں میں گرم ترین مہینوں کا اوسط درجہ حرارت 40 ڈگری سے اوپر چلا جاتا ہے اور کم سے کم اوسط 25 ڈگری ہے۔ سردیوں کا اوسط کم سے کم درجہ حرارت 2 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ 15.35 ڈگری رہتا ہے۔

شنگھائی میں ’ڈزنی لینڈ‘ کا شاندار افتتاح
پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں