کوئٹہ
Saturday, 27 June, 2026
تعارف

کوئٹہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کا صدر مقام اور سب سے بڑا شہر ہے۔ کوئٹہ کا نام ایک پشتو لفظ سے نکلا ہے جس کے لغوی معنیٰ 'قلعہ' کے ہیں۔ کوئٹہ شہر سطح سمندر سے تقریباً 1700 میٹر سے 1900 میٹر کی بلندی پر واقع ہے اور اپنے بہترین معیار کے پھلوں کی پیداوار کے لیے مشہور ہے۔ یہ بنیادی طور پر خشک پہاڑوں میں گھرا ہوا شہر ہے جہاں سردیوں میں شدید سردی اور برف باری ہوتی ہے۔

1947ء میں پاکستان کی آزادی کے بعد کوئٹہ بلوچ علاقے کا صدر مقام تھا۔ بعد میں جب بلوچستان کو صوبہ بنایا گیا تو اس کی یہ حیثیت برقرار رہی۔ یہ اپنی پھلوں کی تجارت اور کرومائیٹ کی کانوں کی وجہ سے مشہور ہے۔

سطح سمندر سے 5000 فٹ کی بلندی پر ہونے کی وجہ سے پرفضا مقام ہے اور سیاحت نے بڑی ترقی کی ہے۔ خصوصاً زیارت، جو کوئٹہ سے قریب ہے، پاکستان کے بانی اور  پہلے گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح کا پسندیدہ مقام تھا۔ 

 آبادی میں اس اضافہ کی وجہ سے کوئٹہ بہت پھیل گیا ہے اور شہر کے اردگرد کافی نئی آبادیوں نے جنم لیا ہے۔ 

یہ پاکستان کا نواں بڑا شہر ہے جس کی آبادی چھ لاکھ کے قریب ہو چکی ہے (اس میں افغان مہاجرین شامل نہیں)۔ کوئٹہ کو پاکستان کے دیگر علاقوں سے ملانے کے لیے 1600 کلومیٹر طویل ریلوے لائن موجود ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے شہر زاھدان سے ایک ریلوے لائن ملاتی ہے۔ 

کراچی اور کوئٹہ کے درمیان ایک سڑک براستہ سبی، جیکب آباد و سکھر پہلے موجود تھی۔ ایک نئی سڑک کوئٹہ کو براستہ مستونگ، قلات، خضدار اور لسبیلہ ملاتی ہے۔ بہاولپور اور ملتان کے لیے بھی براستہ سڑک اچھے راستے موجود ہیں۔ 

کوئٹہ کی اہمیت پاکستان میں گوادر کی بندرگاہ کی تعمیر کے بعد بڑھ گئی ہے اور استعماری طاقتوں نے اسے اپنی سازشوں کا گڑھ بنا لیا ہے۔

یہاں گرمیوں میں شدید گرمی (46 ڈگری سینٹی گریڈ تک) اور سردیوں میں میں شدید سردی (-25 ڈگری سینٹی گریڈ تک) پڑتی پے۔ موسم سرما میء کے اختتام سے ستمبر کی ابتدا تک جاری رہتا ہے۔

کوئٹہ 30.2 ڈگری شمال اور 67 ڈگری مشرق پر واقع ہے۔ چاروں طرف سے پہاڑوں سے گھری ہوئی وادی ہے۔ سردیوں میں شدید سردی ہوتی ہے۔ یہ افغانستان کے شہر قندھار سے قریب ہے۔ یہ کراچی کے شمال مشرق میں اور اسلام آباد کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ بذریعہ ریل اس کا کراچی سے فاصلہ 863 کلومیٹر اور لاہور سے 1170 کلومیٹر ہے۔ لاہور سے فضائی فاصلہ صرف 700 کلومیٹر ہے مگر درمیان میں کوہ سلیمان کے آنے کی وجہ پہلے روہڑی جانا پڑتا ہے اس لیے ریل کا راستہ زیادہ طویل ہے۔ 

شنگھائی میں ’ڈزنی لینڈ‘ کا شاندار افتتاح
پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں