![]() |
جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خان دریائے سندھ کے کنارے آباد انتہائی سرسبز اور شاداب ضلع ہے اس کے نام رکھنے کی وجہ انتہائی دلچسپ ہے ایک شہزادہ تھا ریاست بہاولپور کا اس کے ساتھ 1881ءمیں ایک حادثہ ہوا بارود خانے میں آگ لگنے کی وجہ سے اس شہزاد ے کی موت واقع ہوئی. اور اس شہزاد ے کو ہمیشہ زندہ رکھنے کیلئے اسے نوشہرہ جدید سے رحیم یار خان اس کا نام رکھ دیا گیا.
اس ضلع کا ایک چوتھائی حصہ ریگستان پر مشتمل ہے اسے چولستان بھی کہتے ہیں اور اس کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے. ایک رویت کے مطابق یہاں ایک زمانہ تھا کہ عراق سے لوگ آتے جاتے تھے روایات میں آیا ہے چولستان ہمیشہ سے ہی صحرا نہی تھا آج سے تقریباً ایک ہزار سال پہلے انتہائی سر سبز و شاداب خطہ ہوا کرتا تھا. جہاں دریائے ہاکڑہ ایک بڑی لاجواب تہذیب تھی. دریائے ہاکڑہ سرسوتی اور ستلج کی طرح بہتا تھا. لیکن یہ در یا آ ہستہ آہستہ ختم ہوتا گیا اور آج صرف ایک دریا کا نشان ہی موجود ہے اگر بارش کے دنوں میں آپ آ کر یہاں دیکھیں تو باقاعدہ ایک دریا کا منظر پیش کر رہا ہوگا اور ایسا محسوس ہوگا کہ واقعی یہاں دریا بہتا ہوگا۔
چولستان کی زندگی بھی انتھائی پراسرار اور دیکھاجائے تو بہت ہی خوبصورت ہے یہاں پر ریت کے ٹیلے اور پانی کے ٹوبے ہیں یہاں برسات کے دنوں میں برساتی پانی جمع کرکے ایک ہی جگہ سے انسان اور جانور سارا سال پانی پی کر زندگی گذار رہے ہیں. چولستان میں میں تقریبا ایک ہزار سے زائد پانی کے ٹوبے ہیں۔
چولستانی لوگ دور سے ہی پہچانے جاتے ہیں مرد جسم پر لمبا کرتا اور چادر اور سر پر مخصوص پگڑی پہنتے ہیں اور عورتیں گاگرا اور بازوؤں میں بڑ ے بڑے کڑے پہنتی ہیں اور ماتھے پرجھومر نما ایک زیور پہنتی ہیں ناک میں نتھلی وغیرہ خاص پہچان ہے. چولستانی عورتیں بہت خوبصورت ہو تی ہیں اس کا ذکر معروف صوفی خواجہ غلام فرید نے اپنی کافیوں میں کر رکھا ہے سیاحت کے حوالے سے یہاں کے اہم مقامات ہیں ان میں قلعہ منٹو مبارک. قلع تاجگڑھ. چاچڑاں شریف، قلع اسلام گڑھ، بٹھہ واہن، اور پٹن منارہ ان کے آثار آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔
اس کے ساتھ مسجد بھونگ صادق آباد کے قریب واقع ہے جوکہ بین الاقوامی شہرت یافتہ ہے اس مسجد کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج ہے۔
ضلع رحیم یار خان کی چار تحصیلیں ہیں ان میں. صادق آباد. خانپور. لیاقت پور. رحیم یار خان شامل ہیں رحیم یار خان میں زیادہ تر کپاس. گنا. گندم. آم کی فصل زیادہ پیدا ہوتی ہے رحیم یار خان کا آم دنیا بھر میں اپنی مٹھاس کی وجہ سے اپنا ایک مقام رکھتا ہے اس کے علاوہ رحیم یار خان چونکہ تین صوبوں کے سنگم پر واقع ہونے وجہ سے اہمیت کا حامل ہے شیخ زید ہسپتال ومیڈیکل کالج اہمیت کا حامل ہے یہاں بلا تفریق سندھ بلوچستان. اور پنجاب کے دور دراز کے علاقوں سے آنے والے مریصوں کے لئے دکھی انسانیت کا مسیحا سمجھا جاتا ہے اور بلا تفریق علاج کیا جاتا ہے۔
رحیم یار خان میں ایک انٹرنیشنل معیار کا آئیر پورٹ جوکہ. شیخ زاید انٹرنیشنل کے نام سے اپنی پہچان آپ ہے یہاں سے ہر ماہ تقریبا آٹھ پروازیں ابوظہبی سے رحیم یار خان اور رحیم یارخان ابوظہبی کے لئیے روانہ ہوتی ہے اس کے علاوہ ہر سال حج پروازیں بھی آپریٹ ہوتی ہیں اور اندرون ملک پروازیں چوبیس گھنٹے مسافروں کیلئے جاری ہیں گو کہ یہ ائرپورٹ انٹرنیشنل معیارکا ہے رحیم یار خان میں سب سے زیادہ فلور ملز اور شوگر ملز واقع ہیں جہاں مقامی لوگوں کے علاوہ دوسرے علاقوں سے آنے والے لوگوں کو روزگار میسر ہے.
س کے علاوہ. صوفی شاعر. خواجہ غلام فرید کے نام سے منسوب. خواجہ فرید انجینئر نگ و آئ ٹی یونیورسٹی بھی واقع ہے اس ضلع کی سرسبز وشاداب مٹی نہ صرف سرسبز وشاداب. فصلیں بلکہ بڑے بڑے مشاہیر اور سیاستدان بھی پیدا کررکھے ہیں. جن میں مولانا عبداللہ سندھی. چوہدری عبدالماک مرحوم. اور صحافیوں. میں وسعت اللہ خان. ہارون الرشید. سیاسی شخصیات میں سابق گورنر سید احمد محمود . چوہدری جعفر اقبال گجر. مخدوم شہاب الدین. مخدوم خسرو بختیار. سید احمد عالم انور. حاجی سیف اللہ. مخدوم رکن الدین.. چوہدری ظفر اقبال وڑائچ. چوہدری جاویداقبال وڑائچ. چودھری جاوید اکبر ڈھلوں. میاں امتیاز احمد۔
پاکستان میں ہردلعزیز شخصیت اور اور یواے ای کے اعزازی سفیر جناب چوہدری منیر ہدایت اللہ شامل ہیں رحیم یارخان کی سوغات میں سرفہرست. آم. جوکہ دنیا بھر میں مٹھاس کے لحاظ سے اپنا ایک الگ مقام رکھتا ہے. اس کے علاوہ خان پور کے پیڑھے. ٹکی رام کی دال. مٹن کڑاھی اور بالے دا سوہن حلوہ مشہور ہے۔