Tuesday, 12 May, 2026
مولانا فضل الرحمان: سیاست اور تدبر کا استعارہ

مولانا فضل الرحمان: سیاست اور تدبر کا استعارہ
تحریر: محمد فخرالاسلام (فخر کاکاخیل)

 

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے بہت کم رہنما ملتے ہیں جنہوں نے مذہب، سیاست اور اصولوں کے درمیان ایک ایسا نازک توازن قائم رکھا ہو جسے وقت نے بھی سراہا ہو۔ مولانا فضل الرحمان ان چند شخصیات میں شامل ہیں جو نہ صرف ایک دینی رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں بلکہ ایک زیرک، بااصول اور بالغ نظر سیاستدان کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔

مولانا کی سیاست محض جذبات پر مبنی نعرہ بازی نہیں، بلکہ حکمت، تدبر اور سیاسی فہم کی ایک زندہ مثال ہے۔ وہ ایک ایسا قائد ہیں جو نہ صرف سیاسی میدان میں ہر رخ سے آگاہ رہتے ہیں بلکہ بیک وقت مخالفین اور اتحادیوں سے سیاسی کھیل کھیلنے کا سلیقہ بھی رکھتے ہیں۔ وہ جہاں مذہبی اجتماعات میں علمی گہرائی کے ساتھ خطاب کرتے ہیں، وہیں سیاسی محفلوں میں مدلل اور نپی تلی گفتگو کے ذریعے سنجیدہ طبقات کو متاثر کرتے ہیں۔ یہی وہ وقار ہے جس نے انہیں صرف مذہبی حلقوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ قومی سطح کے سیاستدانوں میں ایک معتبر آواز بنا دیا۔

ان کی قیادت کی اصل جھلک اس وقت سامنے آئی جب انہوں نے مختلف الخیال سیاسی جماعتوں کو یکجا کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) کی تشکیل اور قیادت اس حقیقت کی غماز ہے کہ مولانا حالات کا ادراک اور مستقبل کی سمت طے کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ ان کی یہی بصیرت ہے جو ان کے مخالفین کو بھی اکثر ان کی سیاسی چالوں کا معترف بناتی ہے۔

دہشت گردی کے خلاف ان کا جرات مندانہ اور غیر مبہم مؤقف پاکستان کی سیاست میں ایک اصولی باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ 2005 سے 2014 کے دوران، جب دہشت گردی نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، مولانا فضل الرحمان نے نہ صرف شدت پسندانہ رویے کی مخالفت کی بلکہ ایسے گروہوں کو اسلام دشمن قرار دے کر واضح لائن کھینچی۔ اس کی پاداش میں وہ خود کئی بار حملوں کا نشانہ بنے، مگر ان کے قدم کبھی نہیں ڈگمگائے۔

انتخابی سیاست میں اگرچہ ان کی جماعت کو محدود کامیابیاں ملتی رہی ہیں، لیکن مولانا نے ہمیشہ سیاسی وزن اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلایا۔ چاہے اپوزیشن ہو یا حکومت، وہ ہر بار اپنے موقف پر ثابت قدم رہے۔

فلسطین کے مسئلے پر مولانا کی مسلسل آواز، عالمی سیاست پر ان کی گرفت اور مسلم امہ کے مسائل پر ان کی فہم و فراست، انہیں عالمی سطح پر بھی ایک مؤثر مذہبی و سیاسی رہنما کے طور پر نمایاں کرتی ہے۔

مولانا فضل الرحمان کی سیاست کی ایک خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ریاستی اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کی بجائے بات چیت، مفاہمت اور آئینی دائرے میں رہ کر معاملات حل کرنے کو ترجیح دی۔ جب دوسرے سیاستدان ریاستی اداروں پر تنقید میں حد سے گزر جاتے تھے، مولانا ان کے لہجے کو اعتدال میں لانے کی کوشش کرتے رہے۔

ان کا عوامی رابطہ، خصوصاً مذہبی طبقے سے بے مثال ہے۔ ان کی ایک پکار پر مدارس کے طلباء اور کارکنان لبیک کہتے ہوئے سڑکوں پر آ جاتے ہیں۔ یہ قیادت کا وہ رنگ ہے جو محض سیاسی نعروں سے حاصل نہیں کیا جا سکتا بلکہ برسوں کی خدمت، تربیت اور فکری رفاقت کا نتیجہ ہوتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نہ صرف ایک سیاستدان ہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک فکر اور ایک تحریک کا نام ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ مذہب اور سیاست کو جدا نہیں کیا جا سکتا، بس اسے تدبر، توازن اور اصولوں کے ساتھ برتا جائے تو دونوں میدان سنور سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

مولانا فضل الرحمان: سیاست اور تدبر کا استعارہ
محمد فخرالاسلام (فخر کاکاخیل)
 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  50114
کوڈ
 
   
مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں