Wednesday, 11 February, 2026
مودی جی دنیا اندھی نہیں ہے

مودی جی دنیا اندھی نہیں ہے
جاوید ملک / شب و روز

 

جب دلیل کمزور ہو، ثبوت مفقود ہوں اور نیت میں کھوٹ ہو، تو شور شرابے کو دلیل بنا لیا جاتا ہے۔ یہی حال انڈین حکومت اور میڈیا کا ہے، جو پہلگام حملے کو لے کر ایک بار پھر پاکستان کے خلاف طبلِ جنگ بجانے لگے ہیں۔ حملہ ہوا، خون بہا، اور ابھی زمین بھی نم نہ ہونے پائی تھی کہ انگلیاں پاکستان کی طرف اٹھ گئیں۔ نہ تحقیق ہوئی، نہ ثبوت سامنے آیا، بس الزام کی توپ کا رخ روایتی دشمن کی طرف کر دیا گیا۔

انڈیا کا یہ رویہ کوئی نئی بات نہیں۔ جب جب وہاں کوئی داخلی بحران سراٹھاتا ہے، سرحد پار سے دشمن تلاش کر لیا جاتا ہے، اور بدقسمتی سے یہ دشمن ہمیشہ پاکستان ہی کیوں نکلتا ہے؟ کیا یہ محض اتفاق ہے؟ ہرگز نہیں! یہ سیاسی مفاد کا وہ کھیل ہے جہاں سچ کو جھوٹ کے پردوں میں لپیٹ کر پیش کیا جاتا ہے اور جذبات کو منڈی میں بیچا جاتا ہے۔

اوڑی کا واقعہ: آواز زیادہ، دلیل کم
2016 میں اوڑی حملے کے بعد انڈیا نے شور مچا دیا کہ پاکستان ملوث ہے۔ جب پاکستان نے عالمی تحقیقات کا مطالبہ کیا، تو انڈیا نے منہ موڑ لیا۔ اگر بات سچ پر مبنی ہوتی تو انکار کی ضرورت کیوں پیش آتی؟

یہ وہی مثل ہے کہ “چور کی داڑھی میں تنکا ہو تو وہ ہوا سے بھی لرزتا ہے۔”

پلوامہ: اپنوں کے ہاتھوں زخم، اور الزام غیروں پر

2019 کا پلوامہ حملہ ایک کشمیری نوجوان کا کارنامہ تھا، جو برسوں کے ظلم و جبر کے بعد اس نہج پر پہنچا۔ مگر انڈیا نے موقع غنیمت جانا اور الزام پاکستان پر دھر دیا۔ یہ وہی روش ہے جیسے “کسی اور کا کیا، اور نام کسی اور کا لگایا جائے۔”

اس واقعے سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ انڈیا اپنی داخلی ناکامیوں کا بوجھ سرحد پار ڈالنے کا عادی ہو چکا ہے۔

بالاکوٹ: دعوے آسمان کو چھونے والے، حقیقت زمین بوس

پلوامہ کا سیاسی فائدہ سمیٹنے کے لیے انڈیا نے بالاکوٹ پر حملے کا ڈھول پیٹا۔ کہا گیا کہ دہشت گردوں کے کیمپ نیست و نابود کر دیے گئے۔ مگر جب غیر ملکی صحافیوں اور عالمی اداروں نے موقع کا دورہ کیا تو پتا چلا کہ صرف ایک درخت گرا ہے اور ایک کوّا جان سے گیا۔

یوں انڈیا کا پورا بیانیہ “کھودا پہاڑ، نکلا کوّا” بن کر رہ گیا۔

انڈین میڈیا: حب الوطنی کے لبادے میں سنسنی خیزی کا ناچ

آج کل انڈین میڈیا کا حال اس شعبدہ باز کی مانند ہے جو تماش بینوں کے سامنے خالی ٹوپی سے کبوتر نکالتا ہے، مگر حقیقت میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔

جنگی ترانوں، چیختی چلاتی ہیڈلائنز اور اینکروں کی مصنوعی حب الوطنی دراصل ایک سوچے سمجھے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ مقصد صرف ایک ہے — عوامی جذبات کو بھڑکانا اور حکومت کی نالائقیوں پر پردہ ڈالنا۔

ثبوت کہاں ہے؟

سوال صرف اتنا ہے: اگر پاکستان واقعی ملوث ہے تو ثبوت پیش کیجیے۔ عالمی فورمز پر جائیے، اقوامِ متحدہ میں معاملہ اٹھائیے۔

لیکن انڈیا جانتا ہے کہ
“جھوٹ کی عمر لمبی نہیں ہوتی، اور سچ دیر سے سہی مگر سامنے آتا ضرور ہے۔”
اختتامیہ: طبلِ جنگ سے امن نہیں نکلتا۔

پہلگام حملے کے بعد انڈیا کا رویہ وہی ہے جو برسوں سے چلا آ رہا ہے: الزام تراشی، پروپیگنڈہ، اور اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کا ہنر۔

لیکن تاریخ کا سبق یہ ہے کہ جھوٹ جتنا بھی سجایا جائے، ایک دن بے لباس ہو ہی جاتا ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا ہاتھ بڑھایا، اور امن کی راہ اپنائی۔

اب دنیا کو بھی سوچنا ہو گا:
“جو ہر بار الزام لگائے، مگر ثبوت نہ دے — کیا وہ بے گناہ کہلا سکتا ہے؟” دنیا جان چکی ہے کہ انڈیا سندھ طاس معاہدے سے مکرنے کیلئے مسلسل مکر کر رہا ہے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  99631
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بالواسطہ طور پر ملک کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن عوام اور فوج کے درمیان دراڑیں ڈال رہا ہے لیکن فوج کو عوام کا اعتماد حاصل ہے اور وہ عوام کے تعاون سے اس صورت حال
تحریک انصاف نے ریاست پر کاری وار کیا، خدا کرے وطن عزیز جانبر ہوجائے؟ایک بدقسمت دن، وطنی طول و عرض میں ہیبت ناک مناظردیکھنے کو ملے۔ تصور میں نہ تھا، قومی حُرمت، تقدس، وقار، عزت اور طاقت
زندہ قومیں مسلسل مکالمہ کرتی ہیں اور اسی کے ذریعے اپنے مستقبل کا تعین کرتی ہیں۔ہمارے معاشرے کا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں عمر کی بنیاد پرنواجون نسل کے سوالات کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔عمر اور تجربہ کی وجہ سے یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ صحیح اور درست بات صرف بزرگ ہی کر سکتے ہیں۔
آج آفس سے گھر آیا تو ٹی وی پر افواج پاکستان کے ترجمان کی پریس کانفرنس جاری تھی اور بار بار ٹی وی اسکرین پر یہ ٹکر چل رہا تھا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔۔۔۔۔ ڈی جی آئی ایس پی آر

مقبول ترین
پاکستانی آرمی چیف سے وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات اعزاز ہے، ان کا شکریہ کہ وہ جنگ کی طرف نہیں گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو دو ہفتے قبل بات کرنی چاہیئے تھی، اب بہت تاخیر ہوچکی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر نے واضح کیا ک ایران کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کو سرنڈر کرنے کے انتباہ کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کبھی سرنڈر نہیں کرے گا۔
ایران نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب اور حیفہ شہر پر چوتھی بار بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے، جس کے نتیجے میں اسرائیل میں سائرن بجنے لگے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، حیفہ کے رمات ڈیوٹ ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں