Sunday, 31 May, 2026
فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے!!

فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے!!
تحریر: محمد اسد بن اعظم

 


آج آفس سے گھر آیا تو ٹی وی پر افواج پاکستان کے ترجمان کی پریس کانفرنس جاری تھی اور بار بار ٹی وی اسکرین پر یہ ٹکر چل رہا تھا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔۔۔۔۔ ڈی جی آئی ایس پی آر

یہ خبر سن کر زہن میں کئی قسم کے سوال اٹھنا شروع ہوئے کہ آخر یہ کون لوگ ہیں جو براہ راست فوج پر سیاست میں مداخلت جیسے سنگین الزامات لگا کر  سیاست کر رہےہیں۔

 کیا سچ میں فوج سیاست میں مداخلت کرتی ہے؟؟  کیا پاکستان میں حکومتوں کے آنے اور جانے کے فیصلے بھی فوج کرتی ہے؟ کیا حکومتوں کو چلانے کے احکامات بھی فوج دیتی ہے؟؟

کیا ہماری فوج اتنی فارغ ہے کہ سرحدیں چھوڑ ملک چلا رہی ہے؟

ایک دفعہ میں نے ایک لائیو ٹی وی پروگرام کے بعد ایک نامور سینئر صحافی و تجزیہ نگار سے پوچھا کہ یہ لوگ کیوں کہتے ہیں کہ ملک کے سارے فیصلے راولپنڈی سے ہوتے ہیں اور تمام سیاستدان جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر 4 کی پیداوار ہیں؟  میرے یہ سوال سن کر  انہوں میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ بیٹا! یہ سب فرضی سیاسی باتیں ہیں، ان پر کان نہ دھریں تو بہتر ہے۔ یہ تو سیاست دان اپنا چورن بیچنے کے لیے کہتے ہیں ورنہ حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ افواج پاکستان ایک منظم اور ذمہ دار ادارہ ہے۔ اس ادارے نے ملک و قوم کے دفاع میں قربان ہونے والے ہزاروں بیٹے تیار کئے جو روز وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت میں جیتے اور مرتے ہیں۔ یقیناً ان جانبازوں کی یہ قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔"

دلی دکھ ہوتا ہے یہ دیکھ کر جب سوشل میڈیا پر افواج پاکستان کے خلاف زہر اگلا جاتا ہے۔ نوجوان نسل کو ملک کے ریاستی اداروں کے خلاف ورغلایا جارہا ہے۔ بھلا ہمارا دشمن یہ کیسے چاہے گا کہ پاکستان کا ہر نوجوان اس پاک وطن کی محبت سے سرشار ہو اور اس کے محافظوں پر فخر کریں اور ان کی بےمثال قربانیوں کے اطراف میں خراج تحسین پیش کرے۔ ہمارا دشمن تو اس دھرتی پر بدامنی اور تباہی دیکھنا چاہتا ہے۔ اسی لیے غیر ملکی سازشیں سوشل میڈیا کے ذریعے فوج اور اداروں کے خلاف پروپیگنڈے چلا کر فوج کو بدنام کر رہی ہیں اور اسی ہتھیار سے ہمارے نوجوان میں نفرت کا بیچ بویا جارہا ہے۔ دشمن کی یہ سازشیں ہیں ان کے اپنے ہی لوگوں میں اپنے ادارے کے خلاف بغاوت اور نفرتوں کو پروان چڑھایا جائے۔ 

بنگلہ دیش بھی انہی سازشوں کے زریعے سے الگ ہوا، کشمیری عوام کو اب پاکستان کے خلاف اکسا کر "کشمیر بنے گا پاکستان کے بجائے کشمیر بنے گا خود مختار" کی تحریکیں بھی عروج پکڑ رہی ہیں۔ بلوچستان کے نوجوانوں میں پاک فوج کے لیے نفرت پیدا کرکے انہیں ریاست کے مخالف کھڑا کیا جارہا ہے۔ ملک میں کبھی سندھی، بلوچی، پنجابی اور پٹھان کو لڑوا کر تو کبھی شیعہ سنی فسادات پروان چڑھا کر زبان اور علاقائی تعصب کی بنیاد پر ہمیں توڑنے کی کوششیں جاری ہیں۔

ہمارا دشمن ملک میں انتشار اور دہشت گردی پھیلا کر اسے نست و نابود کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ ایسے میں وہ نوجوانوں کو بہکا کر ریاستی غداروں کے زریعے پاکستان کے نظریاتی اور علاقائی سرحدوں پر حملہ آو ہونا چاہتا ہے۔ 

"یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے" جیسے ملک دشمن نعرے بھی ہمارے دشمنوں کی ایک بہت بڑی سوچی سمجھی سازش ہے جو ملک کے  اپنے لوگوں کو اپنے ہی ریاستی اداروں کے خلاف کر رہی ہے۔ ورنہ اس ملک کا تو ہر شہری اس پاک دھرتی پر قربان ہونے کا جذبہ رکھتا ہے۔

ہمارے ملک کے وہ محافظ جن کی قربانیوں کی بدولت ہم رات کو سکون سے سوتے ہیں۔  جو عید جیسی اپنی ہزاروں خوشیوں چھوڑ کر اپنے پیاروں سے دور اپنے محازوں پر وطن عزیز کے دفاع پر ہر وقت پہرہ دے رہے ہیں۔ جو روز اس پاک دھرتی کی حفاظت میں جام شہادت نوش کرتے ہیں۔ 

ملک میں سیلاب، طوفان اور زلزلے جیسی ہنگامی صورتحال میں بھی فوج ہی سب سے پہلے مدد کے لیے میدان میں اترتی ہے۔  ملک میں ہر قسم کی بدامنی سے نمٹنے اور یہاں تک کہ الیکشن کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے فوج ہی کو بلایا جاتا ہے۔ پاکستان کو پولیو سے بچانے اور مردم شماری کرونے کے بھی ہمیں فوج کو ہی پکارا جاتا ہے۔ اور ان سب کے بعد بھی ان محافظوں کو گالیاں دینا اور لعن طعن کرکے طرح طرح کے الزامات لگا کر اپنی ہی فوج کو زلیل کرنا ملک دشمنی نہیں تو اور کیا ہے؟؟

افسوس ہوتا ہے ان لوگوں پر جو کہتے ہیں کہ آرمی سارا بجٹ کھا جاتی ہے۔۔۔۔۔ یہ قربانیاں دیتے ہیں تو انہیں مراعات بھی تو ملتی ہیں، یہ نوکری کرتے ہیں تو اعلیٰ تنخواہیں کے بدلے اپنی قیمت بھی تو وصول کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

خدا کی قسم یہ قربانیاں اور شہادتیں مراعات اور اعلیٰ تنخواہوں کے عوض خریدی نہیں جاسکتی۔ یہ تو جذبہ جہاد ہے جو پاک فوج کے جوانوں میں مرد مومن کی صفات اور دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی فولادی طاقت اور ہمت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ہر محاذ کو سلامت رکھے اور انہیں مزید جرآت اور طاقت دے اور یہ دشمن کو ہر محاذ پر شکست دیں اور ہر میدان میں یہ فتح یاب ہوں۔ (آمین)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  23479
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ایران سے زیادہ امریکی اور اسرائیلی ضرورت تھی مگر یہ جنگ بندی قائم نہیں رہ پائے گی - امریکہ، اسرائیل اور مغربی ممالک دوبارہ ایران پر حملہ آور ہوں گے مگر اسکے لئے کوئی نیا راستہ اختیار کریں گے اور پہلے سے ذیادہ تیاری اور شدت سے ایران کو تباہ کرنے کی کوشش کریں گے-
اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف صیہونی حکومت اور امریکہ کی جارحیت کے آغاز کو تیں ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ایک ایسی جارحیت جو گزشتہ نو ماہ قبل کی طرح ہوئی ہے۔جب اسلامی جمہوریہ ایران مغربی ایشیائی خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک متوازن
ایران کیخلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کو مذہبی رنگ کون دے رہا ہے؟ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو جنگ کا اصل مقصد ایران کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنا قرار دیا تھا
مسلمانوں کو مغربی دنیا سے زخم کھاتے ہوئے ایک ہزار سال ہوگئے مگر آج بھی مسلمانوں کی عظیم اکثریت مغرب کے بارے میں ’’نیک خیالات‘‘ رکھتی ہے۔ چنانچہ ہمارا سیاسی نظام مغرب سے آیا ہوا ہے۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں