Monday, 10 May, 2021
کورونا سے متاثرہ مائیں اپنے نومولود بچوں کو دودھ پلا سکتی ہیں

کورونا سے متاثرہ مائیں اپنے نومولود بچوں کو دودھ پلا سکتی ہیں

جنیوا۔ عالمی وبا کورونا وائرس سے متاثرہ مائیں اپنے نومولود بچوں کو دودھ پلا سکتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق جن خواتین میں کورونا کی تصدیق ہو چکی ہے ان کے لیے ضروری ہے کہ اپنے نومولود بچوں کو دودھ پلانا جاری رکھیں چونکہ اس کے فوائد خطروں سے بھی زیادہ ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ خواتین اپنے نومولود بچوں کو اپنا دودھ پلائیں تو اس سے وائرس نومولود میں منتقل نہیں ہوگا۔ کورونا وائرس حمل کے دوران خواتین سے ان کے ہونے والے بچوں میں منتقل ہوسکتا ہے یا بچے پر اثرا انداز ہوسکتا ہے۔ اس بات پر اس وقت تحقیق کی جارہی ہے۔ 

عالمی ادارہ صحت کے مطابق کورونا وائرس سے متاثرہ ماں کے اپنے بچے کو دودھ پلانے کے عمل سے فائدے خطرات سے بھی زیادہ ہیں بلکہ خواتین کے لیے ضروری ہے کہ اپنے نومولود بچوں کو دودھ پلائیں۔ 

خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے چیف ٹیڈروس اذانوم نے ایک ویڈیو کانفرنس میں بتایا ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے ان خدشات پر مکمل تحقیق کی ہے کہ ماں کے اپنے نولود بچے کو دودھ پلانے کے عمل سے بچے میں وائرس منتقل ہو سکتا ہے یا نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہم جانتے ہیں کہ بچوں میں کورونا وائرس کی منتقلی کے خطرات انتہائی کم ہیں تاہم ان میں دوسری متعدد بیماریوں کے حملوں کے خدشات زیادہ ہیں جن سے ماں کا دودھ پی کر بچا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحقیق کے بعد عالمی ادارہ صحت کا مشورہ ہے کہ ماں کے اپنے نومولود کو دودھ پلانے کے فوائد بچے میں کورونا وائرس منتقل ہونے کے کسی بھی ممکنہ خطرے سے کہیں زیادہ ہیں۔

یونیسیف کے مطابق اس وقت تک اس بات کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں کہ کورونا وائرس حمل کے دوران خواتین سے ان کے ہونے والے بچوں میں منتقل ہوسکتا ہے یا بچے پر اثرا انداز ہوسکتا ہے۔ اس بات پر اس وقت تحقیق کی جارہی ہے۔ اس لئے حاملہ خواتین کو چاہیے کہ وہ وائرس سے بچنے کے لئے حفاظتی تدابیر پر عمل کریں۔

یونیسیف رپورٹ میں یہ بھی واضح درج ہے کہ ماں کے دودھ کی اہمیت کو ذہن میں رکھتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ نظامِ تنفس کو متاثر کرنے والا وائرس ماں کے دودھ پر بہت حد تک اثر انداز نہیں ہوتا، کورونا وائرس سے متاثرہ مائیں حفاظتی تدابیر اختیار کرتے ہوئے بچوں کو اپنا دُودھ پلا سکتی ہیں۔

احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے یہ بتایا گیا ہے کہ ایسی ماؤں کے لئے ضروری ہے ، جن میں بیماری کی علامات ظاہر ہوچکی ہوں اور ان کی صحت بچے کو اپنا دودھ پلانے کی اجازت بھی دیتی ہو، کہ وہ اپنے بچے کو قریب لاتے اور دُودھ پلاتے وقت ماسک پہنیں اور اس کے علاوہ بچے کو صاف کرنے ، دودھ پلانے اور مختلف چیزوں کو جراثیم سے پاک کرنے  سے پہلے اور بعد میں بھی اپنے ہاتھ ضرور دھوئیں ۔ یہ سب اقدامات اٹھانا اس صورت میں بھی ضروری ہیں جب ماں کے علاوہ کوئی ایسا شخص بڑوں یا بچوں کے قریب آئے جس میں کووِڈ- 19 کی تصدیق ہوچکی ہو یا پھر جسے کووِڈ- 19 ہونے کا امکان ہو۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اگر ماں زیادہ بیمار ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنا دُودھ نکال کر کسی صاف کپ یا چمچ کی مدد سے بچے کو پلائے اور بیماری سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر پر بھی سختی سے عمل کرتی رہے۔

عالمی ادارہ صحت کے چیف کا مزید کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ خواتین کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ اپنے نومولود بچوں کو دودھ پلانے کا عمل جاری رکھیں اور ان سے بالکل بھی علیحدگی اختیار نہ کریں۔ بچوں سے علیحدگی صرف اسی صورت اختیار کی جائے جب ماں کی طبیعت زیادہ خراب ہو۔ اس ضمن میں عالمی ادارہ صحت کے تولیدی صحت اور تحقیق کے مشیر انشو بینرجی نے بتایا کہ اب تک کی تحقیق کے مطابق ماں کے دودھ میں کورونا وائرس کی موجودگی کے شواہد نہیں ملے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  89740
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
موجودہ عالمی نظام ناکام ہوگیا ہے، اسلام ہی موجودہ حالات میں انسانیت کی نجات کا ضامن ہے۔ ہمیں ایک غلامی سے نجات پا کر دوسری غلامی میں نہیں جانا چاہیے۔ اسلام حریت وآزادی کا سبق دیتا ہے. یہ بات ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی مشاورتی اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہی گئی ہے۔
دنیا میں لوگ کامیابی حاصل کرنے کےلیے ہر مشکل کو گلے لگانے کےلیے تیار بیٹھے ہیں کامیاب ہونا اور ترقی کی راہوں پر گامزن ہونا ہر ایک کی دلی تمناء ہے اب کامیابی کے معیارات مختلف ہیں اس حساب سے اسکی راہ بھی مختلف ہوتی ہے کسی کا معیار حکومت ہے، کسی کا دولت جمع کرنا اور کسی کا علمی میدان جیت جانا ہے وغیرہ ۔
قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجدعلی نقوی کی اپیل پر شیعہ علماءکونسل پاکستان سمیت دیگر مذہبی تنظیموں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب سندھ، خیبر پختونخوا ، کشمیر ،گلگت بلتستان سمیت ملک بھر کے تمام شہروں میں ایس او پیز کے تحت یوم القدس کی ریلیوں کا انعقاد کیاگیا۔
ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مرکزی رہنمائوں نے کہا ہے کہ 27 رمضان المبارک کی شب کو پاکستان کا معرض وجود میں آنا اس وطن کی خصوصی مذہبی حیثیت کا آئینہ دار ہے، حکومت پاکستان اس روز کو بھی سرکاری طور پر یوم پاکستان کی حیثیت سے منائے

مقبول ترین
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ملک کے 16شہروں میں کورونا کیسز کی شرح بہت زیادہ ہے، جہاں سول اداروں کی مدد کے لیے پاک فوج کی تعیناتی کردی گئی ہے۔ راولپنڈی میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار
یران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ’ان پر پاسداران انقلاب کی کارروائیوں کی حمایت کے لیے سفارت کاری کی قربانی دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔‘ عرب نیوز کے مطابق محمد جواد ظریف کے لندن میں ایران نیشنل ٹی وی چینل کو تین گھنٹے طویل انٹرویو میں ایرانی
قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے پر کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے لاہور کے مرکزی دھرنے سمیت ملک بھر میں احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ میڈیا کے مطابق حکومت کی جانب سے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق قرارداد
عوامی نیشنل پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کرلیا جس کے نتیجے میں اتحاد ٹوٹ گیا اور اے این پی رہنماؤں نے پی ڈی ایم کے تمام عہدے چھوڑ دیے۔ پشاور میں اے این پی کی مرکزی

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں