![]() |
| ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان |
واشنگٹن - امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی نمائندے مذاکرات میں ایرانی قیادت سے خوشگوار اور باوقار تعلقات قائم کر چکے تھے، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ ایران اپنے جوہری عزائم ترک کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور وہ سب سے اہم مسئلے پر اپنے سخت مؤقف پر قائم رہا۔
"امریکہ، ایران مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم"
انہوں نے واضح کیا کہ وہ برسوں سے کہہ رہے ہیں کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کیونکہ اگر غیر مستحکم افراد کے پاس جوہری طاقت آ جائے تو پھر مذاکرات کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تقریباً 20 گھنٹے تک جاری رہے اور کئی حوالوں سے طے پانے والے نکات فوجی کارروائی جاری رکھنے سے بہتر ہیں، تاہم جوہری معاملے پر ایران کے انکار کے بعد اب امریکی نیوی فوری طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرے گی۔
انہوں نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی ہمارے جہازوں پر فائرنگ کرے گا اسے تباہ کر دیا جائے گا، ہم آبنائے ہرمز پر بارودی سرنگوں کو ختم کرنا شروع کریں گے اور اس ناکہ بندی میں دیگر ممالک بھی شامل ہوں گے۔
امریکی صدر نے اپنی نیوی کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو تلاش کریں اور جو بھی ایران کو ٹول ادا کرے گا اسے محفوظ راستہ نہیں ملے گا، کیونکہ ہمیں لگا تھا کہ آبنائے ہرمز پر جہازوں کو آزادانہ آمد و رفت کی اجازت ہوگی مگر ایران نے ایسا نہیں ہونے دیا۔
اپنے پیغام کے آخر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی قیادت کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو غیر معمولی شخصیات قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل اور وزیراعظم نے بھارت کے ساتھ جنگ بندی پر بارہا میرا شکریہ ادا کیا اور انسانیت کے حوالے سے ان کی جانب سے کی گئی باتیں ناقابلِ بیان ہیں، وہ ان شخصیات کی دل سے قدر کرتے ہیں۔ عالمی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے اس سخت بیان اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان سے خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ