Monday, 10 May, 2021
فلسطینیوں کیساتھ اظہار یکجہتی، یوم القدس آج منایا جائیگا، ملی یکجہتی کونسل

فلسطینیوں کیساتھ اظہار یکجہتی، یوم القدس آج منایا جائیگا، ملی یکجہتی کونسل
فائل فوٹو

اسلام آباد ۔ ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مرکزی رہنمائوں نے کہا ہے کہ 27 رمضان المبارک کی شب کو پاکستان کا معرض وجود میں آنا اس وطن کی خصوصی مذہبی حیثیت کا آئینہ دار ہے، حکومت پاکستان اس روز کو بھی سرکاری طور پر یوم پاکستان کی حیثیت سے منائے تاکہ اس شب لوگ پاکستان کی سلامتی، تحفظ اور ترقی کے لیے رب کے حضور سربسجود ہوکر دعا کرسکیں۔ 

ملی یکجہتی کونسل پاکستان کی مجلس عاملہ کی ٹیلی کانفرنس Zoom پر کونسل کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر کی صدارت میں منعقد ہوئی، اس کانفرنس کی نظامت کے فرائض کونسل کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے انجام دئیے۔ اجلاس میں اس امر کو باعث تشویش قرار دیا گیا  کہ پاکستان میں مختلف ادوار حکومت میں قادیانیوں کے حوالے سے کوئی نہ کوئی ایسا اقدام کیا جاتا ہے یا ایسی تجاویز سامنے آتی ہیں کہ جن سے اسلامیان پاکستان میں تشویش کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں وزارت مذہبی امور کے اقلیتی کمیشن میں ان کی نمائندگی کا شوشا چھوڑا گیا اگر چہ بعد میں وفاقی وزیرمذہبی امور نے وضاحت کی کہ انہیں شامل نہیں کیا جا رہا ہے تاہم اس اثنا میں ملک بھر کے دینی و مذہبی حلقوں میں سخت ردعمل دیکھنے میں آیا۔ کانفرنس میں ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مرکزی رہنماں ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ثاقب اکبر، امیر ہدیہ الہادی پاکستان پیر سید ہارون علی گیلانی، کونسل کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل نذیر جنجوعہ، ملی یکجہتی کونسل آزاد کشمیر کے سیکریٹری جنرل علامہ امتیاز احمد صدیقی، ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر اسد اللہ بھٹو، صدر اسلامی جمہوری اتحاد  زبیر احمد ظہیر، ملی یکجہتی کونسل سندھ کے جنرل سیکریٹری قاضی احمد نورانی، ملی یکجہتی کونسل شمالی پنجاب کے صدر ڈاکٹر طارق سلیم، جنوبی پنجاب کے سیکریٹری جنرل مولانا محمد ایوب مغل، وسطی پنجاب کے سینیئر نائب صدر علامہ سبطین سبزواری، فلسطین فاونڈیشن کے سربراہ صابر کربلائی، پاکستان علما کونسل کے نمائندے حافظ محمد امجد، وسطی پنجاب کے جنرل سیکریٹری مولانا نصیر احمد نورانی نے شرکت کی۔ 

اس کانفرنس کا انعقاد 27رمضان المبارک کی مناسبت سے یوم آزادی پاکستان اور یوم القدس کے حوالے سے کیا گیا تھا۔ اجلاس میں مختلف تنظیمی امور زیر بحث آئے۔باہمی تبادلہ خیال کے بعد مندرجہ ذیل اعلامیہ اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ جب تک قادیانی آئین پاکستان کی تمام شقوں کو نہیں مانتے انھیں اقلیتوں کے حقوق دینا یا اس حیثیت سے ملک کے کسی فورم پر نمائندگی دینا کسی صورت قابل قبول نہیں اور پاکستان کے عوام ایسے ہر فیصلے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔

اجلاس میں اس امر پر بھی اظہار افسوس کیا گیا کہ ریاست مدینہ میں شراب کے پرمٹ جاری کیے جارہے ہیں جو کہ اسلامی احکام کی کھلی خلاف ورزی ہے، حکومت اس اقدام کو فی الفور واپس لے۔ پاکستان میں کورونا کی وبا کے پیش نظر علمائے کرام اور حکومت پاکستان کے مابین طے پانے والے نکاتی اعلامیہ کی تائید کی گئی البتہ اس امر پر اظہار افسوس کیا گیا کہ بعض مقامات پر انتظامیہ کی جانب سی غیرضروری سختیاں برتی جا رہی ہیں۔سندھ حکومت نماز باجماعت اور جمعہ کے خلاف جو شدت پسندی دکھارہی ہے رہی ہے۔ 

اجلاس میں اس کی مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ سندھ حکومت بھی وفاق کے ساتھ طے پانے والے  نکاتی فارمولے کا احترام کرے نیز مدارس اور مساجد کو ایس او پیز کے تحت کھولنے کی اجازت دی جائے۔ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ کشمیری مسلمان ایک عرصہ سے بھارتی بربریت کا شکار ہیں۔ بھارتی حکومت کشمیرکی طے شدہ مسلمہ عالمی حیثیت کے برعکس کشمیری عوام کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی مذموم کوشش کر رہیہے۔ ایک اطلاع کے مطابق تین لاکھ ہندو پنڈتوں کو کشمیری شہریت دی جا رہی ہے  اسی طرح قادیانیوں کو وہاں لا کر بسایا جارہا۔ بھارتی حکومت بھارتی مسلمانوں کے خلاف بھی وحشانیہ اور متعصبانہ رویہ اپنائے ہوئے  حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ ان مسائل کو عالمی سطح پراٹھائے اور کشمیری بھارتی مسلمانوں کو ان مظالم سے نجات دلوانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے۔ 

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کے عوام فلسطین کی تقسیم کے کسی منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، یہ اجلاس اسرائیل کی جانب سے غرب اردن کے اسرائیل سے الحاق کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ اجلاس میں شرکا نے اعلان کیا کہ  جمعہ الوداع کو یوم القدس کے طور پر منایا جائے گا اس سلسلے میں ایس او پیز کا خیال رکھتے ہوئے  پروگرام اور ریلیاں منعقد کی جائیں گی۔ اجلاس میں یہ امر بھی زیر غور آیا کہ بعض چینل کرونا وبا کی آڑ میں نیز اپنی ریٹنگ میں اضافہ کے لیے فرقہ وارانہ اور مسلکی مسائل کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومت پاکستان اور پیمرا کو ایسے پروگراموں کا نوٹس لینا چاہیے اور ایسے چینلز کو تنبیہ کی جانی چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادار

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  26764
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
سعودی عرب اپنا اثر رسوخ استعمال کرکے کرپشن کے الزامات کی وجہ سے مستعفی ہونے والے اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر یوسف الدرویش کی جگہ کسی اور سعودی استاد کو جامعہ کا صدر بنوانے کی کوشش کررہا ہے۔
الزامات کے گرداب میں پھنسے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر سعودی نیشنل یوسف الدرویش نے استعفیٰ دے دیا۔ ایک بیان میں صدر جامعہ نے اپنا استعفیٰ صدر پاکستان کو بھجوا دیا،استعفیٰ کی کاپی ریکٹر آفس کو موصول ہو گئی۔
موجودہ عالمی نظام ناکام ہوگیا ہے، اسلام ہی موجودہ حالات میں انسانیت کی نجات کا ضامن ہے۔ ہمیں ایک غلامی سے نجات پا کر دوسری غلامی میں نہیں جانا چاہیے۔ اسلام حریت وآزادی کا سبق دیتا ہے. یہ بات ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی مشاورتی اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہی گئی ہے۔
علم طب کے فروغ میں جہاں صاحبان علم وفضل اطباء کا کردار یاد گار اور ناقابل فراموش ہے، وہیں جڑی بوٹیوں کی تلاش اور خصوصیات کے حوالے سے’’عطائیوں‘‘ کی عرق ریزی سے بھی انکار ممکن نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انہی ’’عطائیوں‘‘ نے اپنی زندگیاں جڑی بوٹیوں کی پہچان، ان کے خواص اور استعمال کے بارے میں جانتے جانتے جنگلوں، ویرانوں، میدانوں اور پہاڑوں میں تیاگ دیں۔

مقبول ترین
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ملک کے 16شہروں میں کورونا کیسز کی شرح بہت زیادہ ہے، جہاں سول اداروں کی مدد کے لیے پاک فوج کی تعیناتی کردی گئی ہے۔ راولپنڈی میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار
یران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ’ان پر پاسداران انقلاب کی کارروائیوں کی حمایت کے لیے سفارت کاری کی قربانی دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔‘ عرب نیوز کے مطابق محمد جواد ظریف کے لندن میں ایران نیشنل ٹی وی چینل کو تین گھنٹے طویل انٹرویو میں ایرانی
قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے پر کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے لاہور کے مرکزی دھرنے سمیت ملک بھر میں احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ میڈیا کے مطابق حکومت کی جانب سے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق قرارداد
عوامی نیشنل پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کرلیا جس کے نتیجے میں اتحاد ٹوٹ گیا اور اے این پی رہنماؤں نے پی ڈی ایم کے تمام عہدے چھوڑ دیے۔ پشاور میں اے این پی کی مرکزی

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں