Sunday, 25 September, 2022
القدس اور منافق مسلمان حکمران

القدس اور منافق مسلمان حکمران
فائل فوٹو

تحریر: غلام علی
تاریخ گواہ ہے کہ اسلام کو سب سے زیادہ نقصان مسلمان حکمرانوں نے دیا ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمان بستے تھے ان کے اگر جھونپڑیوں کو تباء کیا گیا یا ان کو قتل کیا گیا تو اس میں بھی مسلمان حکمرانوں نے اپنے تخت کو بچانے کے لیے اپنا منافقانہ طریقے کار اپنایا۔ القدس وہ مقدس جگہ ہے جس کو بچانے کے لیے یا آزاد کرنے کے لیے ہر دور میں مسلمان حکمرانوں نے نعرہ بلند کیا۔ اس نعرے کے پیچھے ان کے کئی مقاصد ہوا کرتے تھے جب وہ اپنے مقاصد کو پہنچ جاتے توالقدس کو فراموش کر دیتے تھے۔

میں آج کے  کے چندمنافق حکمرانوں کا تزکرہ کروں گا جنہوں نے القدس کا نعرہ لگایا لیکن جلد ہی فراموش کردیا۔ آج سے دو تین سال پہلے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے یو نائیٹڈ نیشن میں ایسی تقریر کی کے پوری دنیا کے مسلمانو ں نے داد دینا شروع کیا۔ اس نے فلسطین کا نقشہ اٹھاکر دیکھایا۔لیکن اسی رجب طیب اردگا ن کے ملک ترکی میں اسرائیل کا ایمبیسی موجود ہے۔اب اس کی منافقت اور دوغلی پالیسی دیکھیں ایک طرف تو وہ فلسطین کے لیے آواز اٹھا رہا ہے اور دوسری طرف فلسطین پر یہودیوں کے قبضہ کو بھی تسلیم کر رہا ہے۔کچھ مہینے پہلے ترکی کے صدر نے امریکا کے ڈیل اف سینچری کو مسترد کردیا اور کہا کہ اس سے مراد استنبول پر قبضہ ہے اسلام آباد،مکہ،مدینہ،ریاض اورانقرہ پر قبضہ ہے لیکن دوسری طرف اسی نے اسرائیل کے ساتھ 200 بسوں کا معاہدہ کیا۔سعودی عرب کے مسلمان حکمرانوں نے تو ہمیشہ اسرائیل کا ساتھ دیا ہے۔

سعودی عرب کے مسلمان حکمرانوں کی منافقت اس سے واضح ہوجاتی ہے ایک طرف تو وہ خود کو مسلمانوں کا امام یا خلیفہ تصور کرتے ہیں اور دوسری طرف آج تک انہوں نے کبھی مسلمان ملک پر دشمن اسلام کے طرف ہونے والے حملوں کی مذمت نہیں کی۔اس کی واضح مثال فلسطین پر اس کا ردعمل ہے سعودیہ کا امریکا کے  ڈیل آف سینچری کو مسترد نہ کرنا ہے۔سعودی عرب نے تو فلسطین کے حق میں لڑنے والی جہادی تنظیم حماس کو امریکہ اور اسرائیل کے کہنے پر بلیک لسٹ میں شامل کیا ہے یعنی اس کو دہشتگرد تنظیم تسلیم کیا ہے۔

یونائیٹڈ عرب امارات کے شہزادہ محمدبن البیان نے تو کبھی بھی القدس کی حمایت نہیں کی اس ملک کے حکمران طبقے نے ہمیشہ اپنے مفاد کا سوچاہے۔  یونائیٹڈ عرب امارات کے سفیر نے جب چند مہینے پہلے پاکستان کا دورہ کیا تو اس نے پاکستان کو کہا کہ کشمیر کا مسئلہ انڈیا اور پاکستان کا مسئلہ ہے اس کو مسلم امہ کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔یہ بات صرف اس لیے کہا گیا کیونکہ انڈیا کا کافی سارا بزنس اس ملک میں ہے صرف اتناہی نہیں بلکہ انڈیا کے صدر کو بلاکر اپنے ملک کا اعلی سول ایوارڈ سے بھی نوازہ۔ جب یونائیٹڈ عرب امارات کے حکمران نے پاکستان جیسے ملک کا ساتھ نہیں دیا تو سوچیئے وہ فلسطینی یا القدس کی حمایت کیسے کرے گا حلانکہ اسرائیل نے انڈیا سے زیادہ یونائیٹڈ عرب امارات میں خرچہ کیا ہے۔

پاکستان کے حکمران اسرائیل کے ساتھ دوستی کرنا چاہتے ہیں لیکن عوام کی وجہ سے اور قائداعظم محمد علی جناح کے فرمودات کی وجہ سے آ ج تک ان حکمرانوں نے ایسی جراٗت نہیں کی۔ قائد اعظم محمد علی جناح فرماتے ہیں۔(اسرائیل کو مسلمانوں کے پشت میں خنجر کی طرح گھسایا گیا ہے لہذا پاکستان کبھی بھی اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرے گا) آج پاکستان کا حکمران طبقہ اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ چاہتاہے لیکن ایساکر نہیں سکتاآپ لوگوں نے آج تک نہیں سناہوگا کہ پاکستان کے پچھلے چند حکمرانوں نے بابانگ دھل القدس کے بارے میں کچھ فرمایا ہو۔ پاکستان میں ایک مخصوص طبقہ ہے جو یوم القدس مناتا ہے اس کے لیے بھی حکومت نے کئی روڑے اٹکائے ہیں 

دوسری جنگ عظیم کے بعد عالم عرب کے چھ ممالک نے 1945میں السکندریہ پروٹوکول نامی دستاویزات پہ دستخط کیے۔اس کے بعد عرب لیگ کے نام سے ایک تنظیم بنائی جو عرب ممالک کے درمیان سیاسی اور اقتصادی معاملات کو دیکھتا تھا۔ فلسطین اس کے اول مقاصد میں شامل تھا۔ تین عرب اسرائیل جنگ کے باوجود بھی فلسطین کا مسئلہ حل کرنے میں یہ ناکام رہے ہیں۔مصر نے جب تما م ارکان کے مخالفت کے باوجود بھی اسرئیل کو تسلیم کیا تو اس کو اس کی رکنیت نکال دیا گیا۔لیکن بعدمیں اس کو دوبارہ اس لیگ میں شامل کیا گیا۔ 

خلیجی ممالک کی تعاون کی کونسل (جو  جی سی سی) کے طورپر جانی جاتی ہے یہ عرب ممالک بحرین،کویت،اومان،قطر،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی تنظیم ہے اس تنظیم کو1981 میں بنایا گیاتھا عرب ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے لیکن اس کا واضح مقصد ایران کے بڑھتے ہوئے اثروسوخ کو ختم کرنا اور اس سے عرب کے بادشاہوں کو محفوظ کرنا ہے۔لیکن قطر کا مسلسل بائیکاٹ کرنا اور سعودی عرب اور عرب امارات کے دو طرفہ مقاصد والا معاہدے نے اس کی اہمیت کو ختم کردی ہے۔ تنظیم تو ہے لیکن فالتو ہے۔ منافقت کی انتہا دیکھا جائے کہ دونوں ممالک یعنی(سعودی عرب اور عرب امارات) کے مقاصد جو مختلف ہیں ایک دوسرے کے دونوں کے مقاصد میں فلسطین شامل نہیں ہے 

اسلامی ممالک پر مشتمل ایک اسلامی فوج 2015میں تشکیل دیا گیا اس فوج کا سربراہ پاکستانی فوج کے سابق آرمی چیف راحیل شریف ہیں۔یہ 41 اسلامی ممالک کی فوج ہے۔ اس فوج کے مقصد میں بھی فلسطین کی آزادی شامل نہیں ہے۔
استبول میں ہونے والی تنظیم برائے اسلامی کونسل کے اجلاس میں مطالبہ کیا ہے کہ القدس کو مقبوضہ فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کیا جائے۔اس میں بھی 57اسلامی ممالک کی دلچسپی نظر نہیں آرہی۔ان سب سے مسلمان حکمرانوں کی منافقت ظاہر ہوتی ہے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

درج بالا مضمون "مقابلہ مقالہ نویسی" یوم القدس کے حوالے سے منعقد کردہ، غلام علی کا موصول ہوا جن کی عمر ۲۰ برس ہے۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  71392
کوڈ
 
   
مقبول ترین
برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم مختصر علالت کے بعد 96 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں نے ان کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا جس کے بعد رائل فیملی کے افراد نے بکنگم پیلس میں آنے شروع کردیا تھا۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان اپنے بیان کی خود وضاحت کریں، ان کے کہنے کا کیا مقصد تھا؟
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کی سینئر قیادت کو متنازع بنانے کی کوشش افسوسناک ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو قرض کی ادائیگی سے متعلق پروگرام کی منطوری دے دی۔ وفاقی وزیر خزانہ نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر آئی ایم ایف کی جانب سے دی جانے والی منظوری سے متعلق کہا کہ

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں