Wednesday, 15 April, 2026
پی ڈی ایم کا سپریم کورٹ کے رویئے کیخلاف احتجاج کا اعلان

پی ڈی ایم کا سپریم کورٹ کے رویئے کیخلاف احتجاج کا اعلان


اسلام آباد  . پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے پیر کو سپریم کورٹ کے باہر دھرنے کا اعلان کردیا۔  اسلام آباد میں سربراہی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں سربراہ اتحاد مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ کہا گیا کہ 9 مئی کے بعد جو واقعات ہوئے عمران خان کے خلاف کارروائی نہ کی جائے، اندازہ لگائیں کہ عدلیہ کہاں کھڑی اور کس طرح آئین،قانون سے ماورا فیصلے دے رہی ہے ، کیا یہ رعایت تین مرتبہ کے منتخب وزیراعظم نوازشریف کو دی گئی؟

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو بیمار اہلیہ کی خیریت معلوم کرنے کیلئے ٹیلی فون تک نہیں دیا گیا، کیا اس قسم کی رعایت مریم نواز، فریال تالپور کو دی گئی ؟ آج عمران خان کو وی وی آئی پی پروٹوکول دیا جارہاہے، ریاست کے محافظ اداروں کی آج توہین کی جارہی ہے۔

سربراہ اتحاد نے اعلان کیا کہ فیصلہ کیا ہے  اب سپریم کورٹ کے رویے کے خلاف احتجاج ہوگا اورپیر کو اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دیں گے، ہم تین دو کا فیصلہ قبول کرنے کیلئے تیار نہیں، ہمارے نزدیک تین چار کا فیصلہ متفقہ فیصلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اسلام آباد آئے ہیں بڑا جلوس تھا کبھی قانون ہاتھ میں نہیں لیا، کسی نے ہم پر ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی تو ڈنڈے اور مکے سے بھی جواب دیا جائیگا، پی ٹی آئی کا کوئی شرپسند ہماری صفوں میں داخل ہوا تو اسی وقت پکڑا جائے گا۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ ملک کا آئین اور قانون سب کچھ عمران خان کیلئے داؤ پر لگادیا گیا ہے، پارلیمنٹ کی قرار دادیں بھی موجود ہیں اور آگے بھی کردار ادا کرے گی، ڈنڈے سے بات کرو گے تو ڈنڈے سے جواب دیں گے، مکے سے بات کروں گے تو مکے سے جواب دیں گے، پتھر سے بات کروں گے تو پتھر سے جواب دیں گے اور ایسا جواب دیں گے کہ چھٹی کا دودھ یاد آجائے گا۔

ان کا کہنا تھاکہ ریاست پر حملے طالبان کریں تو غداری اور اگر کوئی گروہ کرے تو اس پر پابندی لگادی جاتی ہے،  تحریک انصاف کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے تو افسوسناک ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  29160
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفود نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال اور دو طرفہ اہمیت کے حامل امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے اہم ترین مذاکرات کے پیشِ نظر حکومت نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں 11 اپریل بروز ہفتہ کو بھی عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اس تعطیل کا اطلاق تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں اور دفاتر پر ہوگا، تاہم ایمرجنسی سروسز اور ہسپتال معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں کاروباری اوقات کار محدود کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئے احکامات کے مطابق پشاور سمیت تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں مارکیٹیں رات 9 بجے بند کر دی جائیں گی، جبکہ دیگر اضلاع میں بازاروں کو رات 8 بجے تک بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان کے مختلف حصوں میں گزشتہ کئی روز سے جاری طوفانی بارشوں اور برف باری نے نظامِ زندگی درہم برہم کر دیا ہے۔ ملک کے مختلف صوبوں میں چھتیں گرنے اور دیگر حادثات کے نتیجے میں کم از کم 43 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں بچوں

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں