Friday, 17 April, 2026
برطانوی ملکہ الزبتھ 96 برس کی عمر میں چل بسیں

برطانوی ملکہ الزبتھ 96 برس کی عمر میں چل بسیں

لندن - برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم مختصر علالت کے بعد 96 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں نے ان کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا جس کے بعد رائل فیملی کے افراد نے بکنگم پیلس میں آنے شروع کردیا تھا۔

برطانیہ کی سب سے طویل عرصے تک بادشاہت کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم 70 سال تک حکومت کرنے کے بعد 96 سال کی عمر میں بالمورل میں انتقال کر گئیں۔

ملکہ 1952 میں تخت پر آئی اور بہت بڑی سماجی تبدیلی بھی دیکھنے میں آئی۔ ان کی موت کے بعد ان کے بڑے بیٹے چارلس، سابق پرنس آف ویلز، نئے بادشاہ اور دولت مشترکہ کے 14 ریاستوں کے سربراہ کی حیثیت سے ملک کی قیادت کریں گے۔

ایک بیان میں بکنگھم پیلس نے کہا ملکہ آج سہ پہر بالمورل میں انتقال کر گئیں اور بادشاہ اور ملکہ کی ہمشیرہ آج شام بالمورال میں رہیں گے اور کل لندن واپس آئیں گے۔

ڈاکٹروں کی جانب سے ملکہ کو طبی نگرانی میں رکھنے کے بعد ملکہ کے تمام بچوں نے ایبرڈین کے قریب بالمورل کا سفر کیا۔ ان کا پوتا شہزادہ ولیم بھی اپنے بھائی شہزادہ ہیری کے ساتھ راستے میں موجود ہے۔

ڈاکٹروں کی ملکہ الزبتھ دوم کی صحت سے متعلق تشویش:
اس سے قبل الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بکنگھم پیلس نے کہا کہ ڈاکٹروں کو برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم کی صحت کے بارے میں تشویش ہے اور انہوں نے ملکہ کو طبی نگرانی میں رہنے کی سفارش کی ہے۔

خیال رہے کہ بکنگھم پیلس کی جانب سے یہ اعلان 96 سالہ ملکہ کی اپنی پریوی کونسل کی میٹنگ منسوخ کرنے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔

برطانیہ کی نئی وزیر اعظم لز ٹرس نے ملکہ الزبتھ دوم کی صحت سے متعلق کہا کہ “بکنگھم پیلس سے آنے والی خبروں سے پورا ملک شدید فکر مند ہو گا”۔ انہوں نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ  کہ میرے خیالات اور ہمارے برطانیہ بھر کے لوگوں کے خیالات اس وقت ملکہ اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  50320
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو امریکہ کی 'سو فیصد کامیابی' قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس جنگ بندی کے نتیجے میں ایران کے یورینیم ذخائر کو اب مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکے گا۔ انہوں نے اس اہم سفارتی پیش رفت میں چین کے کلیدی کردار کا بھی اعتراف کیا، جس نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد فراہم کی۔

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں