Sunday, 12 April, 2026
تہران: سابق وزیر خارجہ کمال خرازی حملے میں زخمی، اہلیہ شہید

تہران: سابق وزیر خارجہ کمال خرازی حملے میں زخمی، اہلیہ شہید

تہران - ایران کے سابق وزیر خارجہ کمال خرازی تہران میں ہونے والے ایک حالیہ حملے میں شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران میں کمال خرازی کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ بری طرح زخمی ہوئے جبکہ ان کی اہلیہ اس حملے میں شہید ہو گئیں۔

سابق وزیر خارجہ کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ کمال خرازی 1997ء سے 2005ء تک ایران کے وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز رہے اور موجودہ دور میں وہ ایرانی قیادت کے اہم مشیر برائے خارجہ امور کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم ترین کردار ادا کر رہے تھے۔ اس حملے کے بعد تہران میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  5552
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایران کے نو منتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے چہلم کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران اپنے قائد اور دیگر شہداء کے خون کے ایک ایک قطرے کا بدلہ لینے کے لیے پُرعزم ہے۔ سرکاری ٹی وی پر پڑھے گئے اپنے تحریری بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ اس جنگ میں دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا گیا ہے اور حتمی فتح ایران ہی کی ہے۔
ایران کے سابق سپریم لیڈر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای، اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور میناب اسکول کے بچوں کے چہلم کے موقع پر تہران سمیت ملک بھر میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ جمعرات کی صبح شروع ہونے والی مرکزی ریلی تہران کے جمہوری اسکوائر سے اس مقام تک نکالی گئی جہاں آیت اللہ خامنہ ای نے جامِ شہادت نوش کیا تھا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسرائیل کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی افواج ہر لمحہ الرٹ ہیں اور ان کی "انگلیاں اب بھی ٹریگر پر" موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ لبنان پر جاری وحشیانہ اسرائیلی حملے حالیہ جنگ بندی کے معاہدے اور پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے متوقع مذاکرات کو بے معنی بنا سکتے ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے ردعمل میں ایران نے تزویراتی طور پر اہم ترین تجارتی راستہ "آبنائے ہرمز" ایک بار پھر بند کر دیا ہے۔ خلیج میں موجود متعدد بین الاقوامی آئل ٹینکرز اور مال بردار جہازوں کو ایرانی بحریہ کی جانب سے ہنگامی پیغامات موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں، جن میں انہیں پیش قدمی سے روک دیا گیا ہے۔

مقبول ترین
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفود نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال اور دو طرفہ اہمیت کے حامل امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکہ کے ساتھ انتہائی اہم مذاکرات کے لیے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا ہے۔ نور خان ایئر بیس پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے معزز مہمانوں کا استقبال کیا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے اہم ترین مذاکرات کے پیشِ نظر حکومت نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں 11 اپریل بروز ہفتہ کو بھی عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اس تعطیل کا اطلاق تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں اور دفاتر پر ہوگا، تاہم ایمرجنسی سروسز اور ہسپتال معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں