Saturday, 28 March, 2026
ایران کے پُرامن ایٹمی پروگرام کی حمایت کرتے ہیں، وزیراعظم

ایران کے پُرامن ایٹمی پروگرام کی حمایت کرتے ہیں، وزیراعظم

تہران - وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان پُرامن مقاصد کے لیے ایران کے ایٹمی پروگرام کی حمایت کرتا ہے، مسئلہ کشمیر اور پانی کے مسئلے سمیت تمام تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں، تجارت اور انسداد دہشت گردی پر بھی بھارت سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

تہران میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعودپزشکیان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کو ہم اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں، ایرانی صدرکے ساتھ تعمیری اور مفیدبات چیت ہوئی ہے جس میں باہمی دل چسپی اور تعاون کے تمام پہلووں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ باہمی گفتگو میں دونوں برادر ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری سمیت تمام شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے گہرے ثقافتی، اور تاریخی روابط ہیں اور ان روابط کو دونوں ممالک کے مفاد میں مختلف ہائے زندگی تک وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے چند ہفتے قبل مجھے فون کیا اور خطے کی صورتحال پر اپنی گہری تشویش اور پاکستان کے عوام کے لیے اپنے برادرانہ جذبات کا اظہار کیا، اور خواہش ظاہر کی کہ یہ بحران سنگین ہونے سے پہلے ختم ہونا چاہیے۔ ا

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان ہماری افواج کی بہادری اور افواج کے لیے اپنے عوام کی بے مثل حمایت کی بدولت اس بحران سے فاتحانہ طور پر باہر نکل آیا، ہم خطے میں امن چاہتے تھے، امن چاہتے ہیں اور امن کے لیے مذاکرات کے ذریعے کوششیں جاری رکھیں گے۔

ایرانی صدر، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے مصافحہ کرتے ہوئے—فوٹو: پی آئی ڈی
انہوں نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر اور پانی کے مسئلے سمیت تمام تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں، اور تجارت اور انسداد دہشت گردی پر بھی اپنے ہمسائے سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن اگر وہ ( بھارت ) جارحانہ رویہ برقرار رکھنا چاہتا ہے توپھر ہم اپنے مادر وطن کا دفاع کریں گے جیساکہ ہم نےاللہ کے فضل و کرم سے کچھ روز قبل کیا تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگر بھارت ہماری امن کی پیش کش قبول کرتا ہے تو پھر ہم دکھائیں گے کہ ہم خلوص نیت کے ساتھ امن چاہتے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ ہم غزہ میں جاری مظالم کی شدید مذمت کرتے ہیں جہاں 50 ہزار سے زائد مسلمان شہید کیے جاچکے ہیں، یہ وقت ہے کہ عالمی برادری غزہ میں مستقبل جنگ بندی کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے۔

شہباز شریف نےکہا کہ پاکستان کے عوام اپنے ایرانی بھائیوں کے ساتھ ہیں اور پاکستان عوامی اور پرامن مقاصد کے لیے ایران کے ایٹمی پروگرام کی حمایت کرتا ہے۔

دریں اثنا ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے رفقا کو خوش آمدید کہتا ہوں، انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے صدیوں پر محیط ثقافتی اور تاریخی تعلقات ہیں۔

ایرانی صدر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز اور ان کے وفد کے ساتھ گفتگو میں سیاست،معیشت، بین الاقوامی تعلقات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بات ہوئی۔

ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد پر کوئی بھی دہشتگردانہ اور مجرمانہ سرگرمی نہیں ہونی چاہیے، اور اس سلسلے میں سرحدی علاقوں میں تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ خطے میں پائیدار سیکیورٹی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا قیام ایران اور پاکستان کی مشترکہ پالیسیوں کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہیں، کیونکہ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا علاقائی اور عالمی سطح پر امن اور ترقی کے لیے بنیادی شرط ہے۔

ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جنوبی ایشیا کے مغرب اور جنوب میں آج امن کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے اور اس کے لیے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اور عالمی سطح پر مثبت مشاورت اور روابط قائم رکھنا بے حد ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے رکن ممالک ہونے کی حیثیت سے فلسطین پر دونوں ممالک کامؤقف یکساں ہے، ہم فلسطین میں اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کرتے ہیں اور تمام اسلامی ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ عملی طور پر فلسطین کی حمایت کریں۔

ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ فلسطین میں ہونیوالی نسل کشی پر عالمی برادری کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔ ایرانی صدر نے مزید کہا کہ وزیراعظم پاکستان کے دورہ ایران کےحوصلہ افزا نتائج کیلئے پرامید ہوں۔

قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کا 2 روزہ دورے مکمل کرکے تہران میں سعد آباد محل پہنچے، جہاں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ان کا استقبال کیا، اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بھی بجائے گئے جبکہ وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

قبل ازیں، ترک وزیر دفاع یشار گیولر، ڈپٹی گورنر استنبول الکر حاقتان کچمز، پاکستان ترکیہ کلچرل ایسوسی ایشن کے صدر برہان قایاترک اور پاکستان کے ترکیہ میں سفیر یوسف جنید اور دیگر نے استنبول کے ہوائی اڈے پر وزیراعظم کو رخصت کیا۔

وزیر اعظم نے پاک بھارت حالیہ کشیدگی میں بھرپور تعاون اور حمایت پر ترکیہ کے عوام اور بالخصوص صدر اردوان کا شکریہ ادا کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  27854
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اردو زبان میں جاری بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ان بابرکت، الٰہی اور روحانی دنوں اور گھڑیوں میں، میں حکومت اور عوامِ پاکستان کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے کئی ممالک یہاں تک کہ چین سے بھی بحری جہاز بھیجنے کی اپیل کی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اسرائیل کومزید تکلیف دہ اورتباہ کن جواب دیا جائے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی عراقی وزیراعظم شیاع السُودانی سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ ایران
افغانستان کے وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند کی بیماری کی وجہ سے طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے بدھ کے روز مولوی عبدالکبیر کو افغانستان کا قائم مقام وزیر اعظم مقرر کردیا۔

مقبول ترین
عالمی میڈیا کے مطابق جنگ کے آغاز سے قبل اس آبی راستے سے روزانہ تقریباً 135 جہاز گزرتے تھے، لیکن یکم مارچ سے 25 مارچ تک یہاں سے صرف 116 جہاز گزرے۔ زیادہ تر جہاز چین، بھارت اور خلیجی ممالک سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ بعض ‘ڈارک فلیٹ’ کے جہاز بھی شامل تھے، جن پر مغربی پابندیاں عائد ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کا تعلق اعلیٰ سطح پر ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو سے جوڑا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی نائب صدر اور اسرائیلی
وزیراعظم نے کہا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے پیش کی گئی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کر دی گئی، جس میں پیٹرول کی قیمت 95 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 203 روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز شامل تھی۔
اجلاس میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے اور معاشی و توانائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ تیل و گیس کی عالمی قیمتوں کے اثرات اور مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں