Saturday, 28 March, 2026
پاک فوج کی کابل اور ننگرہار میں کارروائیاں، عسکری تنصیبات کونشانہ بنایا گیا

پاک فوج کی کابل اور ننگرہار میں کارروائیاں، عسکری تنصیبات کونشانہ بنایا گیا

راولپنڈی - پاک افواج نے کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان فوجی کی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے جس میں دو مقامات پر ٹیکنیکل سپورٹ انفرااسٹرکچر اور ایمونیشن اسٹوریج کو تباہ کیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فضائی حملے کے بعد سیکنڈری ڈیٹونیشن کی وجہ سے بلند ہوتے شعلے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ بارود کا بہت بڑا ذخیرہ تھا ، افغان طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد کا ڈرگ ہسپتال کو نشانہ بنانے کا بیان مضحکہ خیز ہے ۔

ننگر ہار میں کاروائی کرتے ہوئے پاک افواج نے چار مقامات پر افغان طالبان کی ملٹری تنصیبات کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا ، ننگر ہار میں فضائی کاروائیوں کے دوران ملڑی تنصیبات سے ملحقہ لاجسٹک ، ایمونیشن، ٹیکنیکل انفراسٹرکچر کو بھی تباہ کیا گیا ، آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی۔

وزارت اطلاعات نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ کابل اور ننگزہارمیں کی تکنیکی آلات کے ذخیرے اور اسلحہ وگولہ بارود کے گودام پر کارروائی کی گئی جس دوران 16مارچ کی شب افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی فوجی تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، پاکستان کی جانب سے اہداف کا تعین انتہائی درستگی اور احتیاط کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

وزارت اطلاعات کے مطابق نشانہ بننےوالی تنصیب کو منشیات بحالی مرکز قرار دینا حقائق مسخ کرنے کی کوشش ہے،اس کا مقصد سرحد پار دہشت گردی کی غیرقانونی سرپرستی کو چھپا کر جذبات بھڑکانا ہے،افغان طالبان رجیم کے نام نہادترجمان کا دعویٰ حقائق کے برعکس اور عوام کو گمراہ کرنا ہے،حملے کے بعد ذخیرہ شدہ گولہ بارود کے دھماکے بھی جھوٹے دعوے کی مکمل تردید کرتے ہیں،یہ بیان جھوٹا اور گمراہ کن ہونے کے باعث مسترد کیا جاتا ہے۔

دوسری طرف افغان حکام نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستان کے فضائی حملے کے بعد شہری ہلاکتوں اور بڑی تعداد میں زخمیوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے- طالبان حکومت کا دعویٰ ہے یہ حملہ منشیات کے عادی افراد کا علاج کرنے والے مرکز پر کیا گیا۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان نے ایکس پر لکھا کہ ہسپتال کو پیر کے روز نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کچھ افراد ہلاک اور کچھ زخمی ہوئے۔

جبکہ پاکستان نے اس کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی حملے میں کابل اور مشرقی افغان صوبے ننگرہار میں فوجی تنصیبات اور ’دہشت گردوں کے مراکز‘ کو نشانہ بنایا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  75066
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
سکیورٹی ذرائع کے مطابق 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب پاک افواج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
وزارت اطلاعات کے مطابق فتنہ الخوارج کے ڈرونز کو فورسز نے جدید تکنیک سے ناکارہ بنادیا، ڈرونز کے ملبے سے معمولی نقصان ہوا،کسی بھی فوجی یا دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان نہیں ہوا،طالبان رجیم کے دعوے میں کوئی قابل تصدیق ثبوت موجود نہیں۔
وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اِس وقت جنگ کا ماحول ہے، بدقسمتی سے پورے خطے میں اِس وقت شدید کشیدگی ہے، اِن حملوں اور انسانی جانوں کے ضیاع کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ 18 جنوری کی صبح پاکستان نے ایران میں موجود دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر مؤثر حملہ کیا، پاکستان نے حملہ آور ڈرونز، راکٹس اور دیگر ہتھیاروں سے کارروائی کی۔

مقبول ترین
عالمی میڈیا کے مطابق جنگ کے آغاز سے قبل اس آبی راستے سے روزانہ تقریباً 135 جہاز گزرتے تھے، لیکن یکم مارچ سے 25 مارچ تک یہاں سے صرف 116 جہاز گزرے۔ زیادہ تر جہاز چین، بھارت اور خلیجی ممالک سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ بعض ‘ڈارک فلیٹ’ کے جہاز بھی شامل تھے، جن پر مغربی پابندیاں عائد ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کا تعلق اعلیٰ سطح پر ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو سے جوڑا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی نائب صدر اور اسرائیلی
وزیراعظم نے کہا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے پیش کی گئی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کر دی گئی، جس میں پیٹرول کی قیمت 95 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 203 روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز شامل تھی۔
اجلاس میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے اور معاشی و توانائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ تیل و گیس کی عالمی قیمتوں کے اثرات اور مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں