Saturday, 28 March, 2026
پاک فوج نے قندھار میں ٹیکنیکل سپورٹ انفرا اسٹرکچر تباہ کر دیا

پاک فوج  نے قندھار میں ٹیکنیکل سپورٹ انفرا اسٹرکچر تباہ کر دیا

آپریشن غضب للحق کے تحت پاک فوج نے افغان طالبان کے خلاف مؤثر فضائی کارروائی کرتے ہوئے قندھار میں ٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب پاک افواج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے دوران قندھار میں موجود ٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر اور آلات ذخیرہ کرنے کے مقامات کو مؤثر انداز میں تباہ کیا گیا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ انفراسٹرکچر اور ایکوپمنٹ اسٹوریج افغان طالبان اور دہشت گرد عناصر استعمال کر رہے تھے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اہداف کے مکمل حصول تک جاری رہیں گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  74097
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم شہبازشریف نے امیرقطر کو مشکل وقت میں پاکستان کی مکمل یکجہتی اورحمایت کا یقین دلادیا۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے امیرقطر سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، وزیراعظم نے امیرقطر اور
پاک افواج نے کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان فوجی کی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے جس میں دو مقامات پر ٹیکنیکل سپورٹ انفرااسٹرکچر اور ایمونیشن اسٹوریج کو تباہ کیا گیا۔
وزارت اطلاعات کے مطابق فتنہ الخوارج کے ڈرونز کو فورسز نے جدید تکنیک سے ناکارہ بنادیا، ڈرونز کے ملبے سے معمولی نقصان ہوا،کسی بھی فوجی یا دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان نہیں ہوا،طالبان رجیم کے دعوے میں کوئی قابل تصدیق ثبوت موجود نہیں۔
وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اِس وقت جنگ کا ماحول ہے، بدقسمتی سے پورے خطے میں اِس وقت شدید کشیدگی ہے، اِن حملوں اور انسانی جانوں کے ضیاع کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔

مقبول ترین
عالمی میڈیا کے مطابق جنگ کے آغاز سے قبل اس آبی راستے سے روزانہ تقریباً 135 جہاز گزرتے تھے، لیکن یکم مارچ سے 25 مارچ تک یہاں سے صرف 116 جہاز گزرے۔ زیادہ تر جہاز چین، بھارت اور خلیجی ممالک سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ بعض ‘ڈارک فلیٹ’ کے جہاز بھی شامل تھے، جن پر مغربی پابندیاں عائد ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کا تعلق اعلیٰ سطح پر ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو سے جوڑا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی نائب صدر اور اسرائیلی
وزیراعظم نے کہا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے پیش کی گئی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کر دی گئی، جس میں پیٹرول کی قیمت 95 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 203 روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز شامل تھی۔
اجلاس میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے اور معاشی و توانائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ تیل و گیس کی عالمی قیمتوں کے اثرات اور مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں