![]() |
اسلام آباد — بجلی کے فکسڈ چارجز کو کھپت کے بجائے لوڈ سے منسلک کرنے کے فیصلے کے بعد ملک بھر میں صارفین کے بجلی کے بل کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے جنوری 2026 سے نئے ٹیرف میں فکسڈ چارجز کو لوڈ کی بنیاد پر عائد کرنے کی منظوری دی۔ اس سے قبل یہ چارجز ماہانہ بجلی کی کھپت کے مطابق وصول کیے جاتے تھے۔
نیپرا نے وفاقی حکومت کی درخواست پر گھریلو صارفین کے لیے فی کلوواٹ ماہانہ بنیاد پر فکسڈ چارجز لاگو کرنے کی اجازت دی، جس کے تحت لائف لائن صارفین کے علاوہ تمام گھریلو صارفین پر یہ چارجز نافذ کر دیے گئے ہیں۔
یہ منظوری پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ دونوں اقسام کے صارفین کے لیے دی گئی ہے۔ نئے فارمولے کے تحت لوڈ سے منسلک ہونے کے باعث فکسڈ چارجز کا بوجھ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔
نئے نظام کے تحت مختلف گھریلو سلیبز کے لیے 200 روپے فی کلوواٹ سے لے کر 675 روپے ماہانہ تک فکسڈ چارجز مقرر کیے گئے ہیں، جبکہ اس سے قبل یہ چارجز صرف ان صارفین پر لاگو ہوتے تھے جو 300 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرتے تھے، اور وہ بھی کھپت کی بنیاد پر۔
پرانے نظام کے مطابق فکسڈ چارجز کم از کم 200 روپے اور زیادہ سے زیادہ 1000 روپے تھے، جبکہ نئے فارمولے میں یہ چارجز صارف کے مقررہ لوڈ کے مطابق طے کیے جائیں گے۔
مثال کے طور پر، اگر کسی صارف کا لوڈ 5 کلوواٹ ہے تو اس کے فکسڈ چارجز 1000 روپے سے بڑھ کر 3375 روپے تک ہو سکتے ہیں۔ مزید برآں، زیادہ سلیب میں جانے اور لوڈ بڑھنے کے ساتھ یہ چارجز مزید اضافہ کا باعث بن رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ