![]() |
| شیراز پراچہ کا کالم |
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ایران سے زیادہ امریکی اور اسرائیلی ضرورت تھی مگر یہ جنگ بندی قائم نہیں رہ پائے گی - امریکہ، اسرائیل اور مغربی ممالک دوبارہ ایران پر حملہ آور ہوں گے مگر اسکے لئے کوئی نیا راستہ اختیار کریں گے اور پہلے سے ذیادہ تیاری اور شدت سے ایران کو تباہ کرنے کی کوشش کریں گے-
ایران، امریکہ اور اسرائیل کی توقع سے زیادہ مضبوط ثابت ہوا ہے اور حالیہ جنگ میں ایران کی میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی اور اسکی جنگی حکمت عملی نے امریکہ اور اسرائیل کے جدید دفاعی نظام کو مات دی ہے جسکے باعث اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کو بھاری نقصانات اٹھانا پڑے ہیں-
جس طرح پاکستان اور بھارت جنگ میں چینی ٹیکنالوجی نے بھارتی ناکامی میں کلیدی کردار ادا کیا تھا بالکل اسی طرح روس اور چین کی ٹیکنولجیز نے امریکی اور اسرائیلی دفاعی نظام کو مات دینے میں ایران کی مدد کی ہے-
اس بات کا قوی امکان ہے کہ اب امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ تیز کر دیں گے، ایران کے خلاف جاسوسی کے نیٹ ورک کو مزید بڑھایا اور پھیلایا جائے گا، ایران کے اندر عدم استحکام اور گڑ بڑ پیدا کرنے کی کوششیں تیز کر دی جائیں گی، ایران میں مزید تخریبی کاروائیاں بھی ہوں گی اور موقع ملنے پر ایران کو مکمل تباہ کرنے کی کوشش دوبارہ بھی ہو گی-
اسرائیل نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے اندر بھی اپنے فوجی اڈے قائم کرے یوں اگر اسے خلیجی عرب ریاستوں میں اپنے فوجی اڈوں کی تعداد کم بھی کرنا پڑ گئی تو اسکے پاس اسرائیل کے اندر فوجی اڈے ہوں گے - یہ بہت خطرناک تجویز ہے اگر ایسا ہوا تو اسکے بعد اسرائیل کے ایران، لبنان یا غزہ میں کسی حملے کے صورت میں اگر ایران یا حزب اللہ اسرائیل میں کوئی جوابی کاروائی کریں گے تو ایسی کاروائیاں امریکہ پر حملہ تصور ہوں گی اور یوں امریکہ اور اسرائیل استمعاری جنگیں جاری رکھیں گے-
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریب ترین مشیر، سٹیو وٹکاف، صدر کے داماد جیرڈ کوشنر، وزیر دفاع پیٹ ہگسیتھ اور نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر مارکو روبیو، چاروں عیسائی یا یہودی صیہونی اور اسرائیل کے زبردست حمایتی ہیں - انکے علاوہ وائیٹ ھاؤس کے سٹاف میں بہت سے سینئر لوگ بھی اسرائیلی سپورٹرز ہیں - اسی طرح سیلیکان ویلی کی ٹیک کمپنیوں کے ارب پتی مالکان بھی صیہونی ہیں اور مغربی میڈیا اور کاروبار پر بھی صیہونیوں کا غلبہ ہے- امریکی سینٹ اور ھاؤس آف نمائندگان یعنی امریکی پارلیمنٹ کے اکثر ارکان اسرائیلی اور صیہونی لابی کی مالی مدد کے بغیر انتخابات نہیں جیت سکتے_ امریکہ کا سیاسی نظام صرف پیسے کے بل پر چلتا ہے- غریب اور مڈل کلاس کے لوگ امریکی پارلیمنٹ میں جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے - الیکشن میں حصہ لینے کے لئے پیسہ اور طاقتور لابیز کی سپورٹ لازمی ہے اور یہ پیسہ اور سپورٹ اسرائیلی لابی ہی فراہم کرتی ہے - یوں یہ لابی امریکہ کے سیاسی، مالیاتی اور دفاعی و سیکورٹی کے معاملات کو کنٹرول کرتی ہے- امریکی ارکان پارلیمنٹ یہاں تک کہ صدر بھی اس لابی کے سامنے نہیں ٹھر سکتا - یہی وجہ ہے کہ اسرائیل چاہے کچھ بھی کر لے امریکہ ہرحال میں اسرائیل کی تمام پالیسیوں اور غیرقانونی اقدامات کو نہ صرف سپورٹ کرتا بلکہ ان میں شامل بھی ہوتا ہے-
اب امریکہ میں اسرائیلی لابی کے بے پناہ اثرورسوخ کے خلاف ردعمل پیدا ہو رہا ہے-کئی بااثر سوشل میڈیا انفلونسرز، پروفیسرز، سابق فوجی افسر اور بعض صحافی سوال اٹھا رہے ہیں کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی اسرائیل کے تابع کیوں ہے مگر اس بارے میں عوامی سطح پر آگاہی پیدا ہونے میں ابھی کافی وقت لگے گا-
اس پس منظر میں اسلام آباد میں ہونے والے مزاکرات اور کوئی ممکنہ معاہدہ امریکہ کی طرف سے صرف وقت حاصل کرنے کی کوشش ہے تاکہ ایران کو سبق سکھانے کی نئے سرے سے تیاری کی جا سکے اور وقت آنے پر اس معاہدے کو توڑ کر ایران کے خلاف کاروائی کی جائے لہزا مجوزہ اسلام آباد مذاکرات اس وقت تک معنی خیز نہیں ہوں گے جب تک چین اور روس امریکہ سے یہ تحریری ضمانت حاصل نہیں کرلیتے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران پر دوبارہ حملہ نہیں کریں گے، ایران کے خلاف تمام پابندیاں ختم کی جائیں گی، ایران کے نقصانات کا معاوضہ ادا کیا جائے گا اور فلسطین کی ایک علیحدہ آزاد اور خود مختیار ریاست قائم کی جائے گی-
موجودہ ورلڈ آرڈر 1945 کے بعد امریکہ نے قائم کیا تھا جسکو 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکہ ہی نے نئی شکل دی تھی- اس ترمیم شدہ ورلڈآرڈر کے تحت امریکہ دنیا کا واحد تھانے دار بن بیٹھا اور اسنے بندوق اور دھونس کے ذریعے دنیا پر حکمرانی کی کوشش کی جو ناکام ثابت ہوئی اور امریکہ اور مغرب دنیا کے سامنے ایکسپوز ہو گئے-
2017 کے بعد سے دنیا میں ایک نیا ورلڈ آرڈ وجود پزیر ہے اور یہ امریکہ کا تخلیق کردہ نہیں بلکہ امریکہ کے لئے باعث تکلیف ہے لہذا امریکہ اسے ماننے سے انکاری اور تشدد کے ذریعے دنیا کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے - اس وجہ سے دنیا مذید غیر محفوظ ہو چکی ہے-
ایران کے خلاف امریکی جارحیت اور اس کے خون ریز نتائج متقاضی ہیں کی روس، چین اور گلوبل ساؤتھ کے دیگر ممالک ملکر امریکہ کو روکیں - ایران کے ساتھ مذاکرات وہ موقع ہیں جب امریکہ سے کہا جائے کہ بہت ہو گیا اب امریکہ اور مغرب کو معاہدہ کرنا ہوگا کہ وہ جسکی لاٹھی اسکی بھنیس کی پالیسی ترک کر دیں گے- دوسرے ممالک پر فوجی حملوں اور سازشوں کے ذریعے وہاں حکومتیں تبدیل کرنے اور سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی روش چھوڑ دیں گے - انہیں جلد یا بدیر یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ اب دنیا میں معاشی اور فوجی طاقت کا توازن بدل چکا ہے اور مغربی سامراج کی اجارہ داری کا دور ختم ہو چکا ہے-
تاہم اگر اسلام آباد مذاکرات کے نتیجے چین اور روس ایران کو سیکورٹی گارنٹی نہ دلوا سکے تو امریکہ اور اسرائیل ایران کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے - امریکیوں، اسرائیلوں اور یورپییوں کے لئے غیر مغربی لوگوں کی زندگیاں، انکی معیشت، طرز معاشرت اور مذہب و ثقافت کوئی اہمیت نہیں رکھتے اور اب تو امریکہ میں عیسائی اور یہودی جنونیت بھی زور پکڑ رہی ہے جسکا نتیجہ تہزیبوں کے جعلی مگر خوفناک تصادم کی صورت میں نکلے گا-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ