Sunday, 25 September, 2022
حکومت وقت اور پیٹرول بم

حکومت وقت اور پیٹرول بم
عارف سعید بخاری کا کالم

 


حکومت نے چند دنوں میں یکے بعد دیگرے 2''پیٹرول بم''گرا کر غریب عوام کو زندہ درگور کر دیا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ ابھی تیسرا بم چلانا باقی ہے اور ضرورت پڑنے پرمزید بم بھی گرائے جا سکتے ہیں ۔ وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30،30روپے کا اضافہ کرنے سے وطن عزیز ایک بڑے خطرے سے نکل آیا ہے ۔وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی جماعت ''ن'' لیگ اور ان کی اتحادی پارٹیوں نے موجودہ بحران کا ذمہ دار سابقہ عمران خان حکومت کو ٹھہرایا ہے ۔اقتدار ملنے سے قبل ''ن'' لیگ سمیت پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے بڑے جوش اور جذبے کے ساتھ''مہنگائی مارچ''کیا ۔اس وقت انہوں نے عمران خان کو خوب لعن طعن کی تھی ۔اپوزیشن کی یہ ریلی بظاہر عوام کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ تھا ۔لیکن مہنگائی کا ذمہ دار عمران خان کو ٹھہرانے والوں نے اقتدار میں آتے ہی محض ایک ماہ کی قلیل مدت میں پیٹرولیم مصنوعات ، بجلی ،گیس سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کے نرخوں میں اس قدر اضافہ کیا کہ عوام کی چیخیں نکل گئیں ۔حکومت نے پیٹرول کی نرخ میں دو بار جو 30,30روپے کا اضافہ کیا ،پاکستان کی تاریخ میں کسی حکومت نے عوام پر ایسا ظلم نہیں کیا ۔پیٹرول کے نرخوں میں اضافے کی وجہ سے لامحالہ ہر چیزکا ریٹ بڑھتا ہے یا لوگ خود بڑھا دیتے ہیں ۔

حکومت نے صرف پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ میں جب 30روپے کا اضافہ کیا ہی تھا کہ بازاروں میں لوٹ مار کا سلسلہ شروع ہو گیاتھا ،ساتھ ہی 30روپے اور بڑھا دئیے گئے ۔اس سلسلے میں یہاں میں ایک واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں ۔ایک صاحب ریٹ بڑھنے سے 15دن پہلے اپنے بچوں کیلئے برگر لینے گئے ۔ 5برگرز کا آرڈر دیا ۔ موصوف نے 500روپے دئیے تو دکاندارنے کہا کہ صاحب! ٹھیک ہے ، ریٹ تو زیادہ ہے بہرحال آپ کو رعایت کی ہے ۔یہی صاحب پیٹرول کی قیمت میں 30روپے اضافے کے بعد 2برگر لینے پہنچے تو دکاندار نے پہلے تو ہمارے دوست کو پیٹرول مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ ،گھی ، تیل ، بیسن ،انڈے ،دال،باربرداری وغیرہ کے مہنگے ہونے کی پوری داستان سنائی ۔جس کا مقصد یہ تھا کہ برگر بھی مہنگے ہو گئے ہیں ۔بندے نے دکاندارکو 500روپے کا نوٹ دیا تو موصوف نے 2برگرز کی مد میں 260روپے کی رقم کاٹ لی ۔ہمارے دوست نے اعتراض کیا تو دکاندار بولا ''صاحب ! کیا کریں ،ہر چیز ہی مہنگی ہو گئی ،اس میں ہمارا تو کوئی قصور نہیں ''۔گویا دکاندار نے اپنے گاہک سے 30روپے فی برگر زائد وصول کر لئے ۔

یہ تو خیر ایک واقعہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں60روپے کے اضافے کی آڑ میں ہر بندے نے اپنی چیزوں کے ریٹ میں اضافہ کردیا ہے ۔گویا شہباز حکومت نے لوگوں کو مہنگائی کا جواز فراہم کیا ہے ۔اس اقدام پر امپورٹڈ حکومت کا شکریہ ادا کرنا تو بنتا ہے ۔پیٹرول کے نرخوں میں اضافے کی وجہ سے تنخواہ دار محدود آمدن والے افراد کو چھوڑ کر سبھی طبقات کی ''لاٹری '' نکل آئی ہے ۔اور وہ سب خوش ہیں کہ انہیں لوٹ مار کا موقع ملا ہے ۔جبکہ تنخواہ دار محدود آمدنی والوں کا بجٹ تلپٹ ہو کر رہ گیا ہے ۔بیرون ملک کام کرنے والوں کے اہل خانہ کو کوئی پرابلم نہیں ، جائیدادوں کا کاروبار کرنے والوں ،مکان ، دکان کرائے پر دینے والوں ،کماؤسیٹوں پرحرام کمانے والوں کو کوئی پریشانی نہیں ۔ان لوگوں کی کمائی بڑھ گئی ہے ۔بھیک مانگنے والوں کو بھی کوئی مشکل نہیں ۔افسوسناک بات یہ ہے کہ کسی بھی حکومت نے سفید پوش گھرانوں کی پریشانیوں کا کبھی احساس نہیں کیا ۔وہ مریں یا جئے ۔

 بجٹ کی آمد آمد ہے ،حکومت کے پاس پیسے ہی نہیں ،یقینا وفاقی بجٹ بھی عوام و خواص کیلئے پریشانی کا سبب بنے گا ۔کہا جاتا ہے کہ غریب ٹیکس نہیں دیتا ،دیکھا جائے تو ہر شہری اپنے وسائل سے زیادہ ٹیکس دے رہا ہے ۔پیٹرول ،بجلی ،گیس،موبائل فون  کے ساتھ ساتھ ضرورت کی ہر چیز کی خریداری پر عوام 17سے 20فیصد تک ٹیکس دیتے ہیں ،جبکہ اشرافیہ ٹیکس دینے کی بجائے اس قدر مراعات لیتی ہے کہ جس کا تصور بھی ناممکن ہے ۔پاکستان کا 80فیصد بجٹ مراعات یافتہ طبقات کی نذر ہو جاتا ہے ۔حکومت چلانے کیلئے غریبوں کا خون نچوڑا جاتا ہے ۔صدر مملکت،وزیر اعظم ، وزراء کرام ، اراکین اسمبلی ،سنیٹر صاحبان و دیگر طبقات بھاری تنخواہیں لیتے ہیں ۔حتیٰ کہ حکومت سے الگ ہوجانے کے بعد بھی بے پناہ مراعات حاصل ہیں۔ا س کے باوجود یہ لوگ جب بھی بولتے ہیں تو غریبوں پر بھی اپنا غصہ نکالتے ہیں ۔ادھر پیٹرول بم کی وجہ سے اندھیر نگری چوپٹ راج کے مصداق لوگوں کی موجیں لگ گئی ہیں ۔آخر کب تک ہم غریبوں پر ظلم ڈھاتے رہیں گے ۔المیہ یہ ہے کہ ہمارے سیاستدانوں سمیت اشرافیہ اپنے بچوں کے مستقبل کوتابناک بنانے میں حرام حلال کی تمیز کھو بیٹھے ہیں ۔اور سادہ لوح عوام اپنے اپنے من پسند لیڈر کیلئے اپنوں ،پرائیوں کے ساتھ دست و گریباں ہو رہے ہیں ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عمران خان نے ملکی معیشت کو تباہ کیا تھا تو ایسے حالات میں میاں شہباز شریف کو کس حکیم نے مشورہ دیا تھا کہ وہ اقتدار کی کرسی پر آکر براجمان ہو جائیں ۔اور سابقہ حکومت کو تمام تر خرابیوں کا الزام دیں ۔سچ تو یہ ہے کہ اقتدار کا نشہ ایسی بیماری ہے کہ جس کا کوئی علاج نہیں ۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ فرنگی سامراج نے بر صغیر کی غیر منصفانہ تقسیم کرکے ایک بڑا رقبہ ہندوؤں کے حوالے کر دیاتھا اور پاکستان کے نام سے دو ٹکڑے مسلمانوں کو دے دئیے ۔بیشک !علیحدہ ریاست کا حصول  برصغیر کے مسلمانوں کی جدوجہد آزادی کا ثمر تھا ۔ دیکھا جائے تو فرنگیوں نے ہمیں زمین تو دے دی ،جسے ہم آزادی کا نام دیتے ہیں ۔لیکن انہوں نے ہمیں صرف زمین دی ،آزادی نہیں دی ،ہمیں شروع دن سے ہی معاشی طور پر اپنا غلام بنا رکھا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھی ان لوگوں اور ان کے حواریوں کے غلام ہیں ۔ہمارا نظام معیشت آئی ایم ایف، ورلڈ بنک،دولت مشترکہ ،امریکہ اور برطانیہ کے کنٹرول میں ہے ۔ہمارے غیرت مند حکمران وطن عزیز کو چلانے کیلئے انہی کی امداد کا سہارا لیتے ہیں ۔ہمارا ہر حاکم انہی کی آشیرباد سے اقتدار میں آتا ہے ،اور پھر انہیں سے سود دردسود قرض لے کر کام چلاتا ہے ۔ان لوگوں کی مرضی و منشاء سے آنے والے کام بھی ان کی مرضی اور خواہشات کے مطابق ہی سرانجام دیتے ہیں ۔

دنیا کے کسی ملک میں ''منی بجٹ '' کا کوئی تصور نہیں ،سال میں ایک بار ہی بجٹ پیش کیا جاتا ہے اور اس میں بھی عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھ کر فیصلے کئے جاتے ہیں ۔جبکہ ہم نے قیام پاکستان کے چند برس بعد آئی ایم ایف سے قرض لینے کا سلسلہ شروع کیا تھا ،جو اب تک جاری ہے ۔اب تک ہم اس قدر قرض لے چکے ہیں کہ جو ہماری نسلیں بھی نہیں اتار سکتیں ۔ہمارے ہاں بجٹ آنے سے پہلے حکومت کا دھرن تختہ کردیا جاتا ہے ۔پھر ہم پر مسلط کی گئی حکومت مالی بحران کا رونا رونے لگتی ہے اور اسی آڑ میں میں بجٹ کے علاوہ وقفے وقفے سے بنیادی ضرورت کی اشیاء کے ریٹ بڑھائے جاتے ہیں ۔''ریزرو ''سے زیادہ کرنسی چھاپنے کا سلسلہ تواتر سے جاری ہے ،افراطِ زر کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے ڈالر200روپے  سے اوپر جا پہنچا ہے ۔اب جبکہ بجٹ آ رہا ہے تو حکومت کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے ۔حالات جس نہج پر جا رہے ہیں اس پر بند باندھنے کی ضرورت ہے ۔

لوگوں کی قوت ِ خرید جواب دے چکی ہے ۔نظام زندگی کو رواں دواں رکھنے کیلئے لوگ خدا معلوم کیا کیا کچھ کرنے پر مجبور ہو چکے ۔موجودہ صورت حال کا ذمہ دار سابق وزیر اعظم عمران خان کو ٹھہرانا سراسر زیادتی ہے ۔''ن''لیگ نے اس ملک پر 40سال سے زائد عرصہ حکومت کی ہے ،لیکن آئی ایم ایف ،ورلڈ بنک ، امریکہ ،برطانیہ سمیت غیروں کی غلامی سے نجات کی کوئی تدبیرنہیں کی گئی ۔بگڑی معیشت کودرست کرنے کے لئے 3سال کی مدت کافی نہیں ۔لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم لوگ ملک وملت کے ساتھ خود کتنے مخلص ہیں۔ مہنگائی کو روکنا کسی حکومت کے بس میں نہیں ،لیکن ایسے اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں کہ جن پر عمل کرکے اس میں کمی کی راہ نکالی جا سکے ۔وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے سیاسی قائدین کے ''گرینڈ جرگے''کی ضرورت پر زور دیا ہے جو خوش آئند بات ہے ۔تمام سیاسی قائدین کو چاہئے کہ وہ معیشت کی بحالی کے لئے مل بیٹھیں اور کوئی ایسا لائحہ ء عمل طے کریں کہ جس سے ملک کو استحکام نصیب ہو اور معیشت کی بحالی میں مدد ملے ۔ہمارے اقتصادی و معاشی حالات اسی طرح رہے تومستقبل قریب میں وطن عزیز کو خانہ جنگی سے کوئی نہیں بچا پائے گا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  19936
کوڈ
 
   
مقبول ترین
برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم مختصر علالت کے بعد 96 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں نے ان کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا جس کے بعد رائل فیملی کے افراد نے بکنگم پیلس میں آنے شروع کردیا تھا۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان اپنے بیان کی خود وضاحت کریں، ان کے کہنے کا کیا مقصد تھا؟
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کی سینئر قیادت کو متنازع بنانے کی کوشش افسوسناک ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو قرض کی ادائیگی سے متعلق پروگرام کی منطوری دے دی۔ وفاقی وزیر خزانہ نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر آئی ایم ایف کی جانب سے دی جانے والی منظوری سے متعلق کہا کہ

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں