Sunday, 25 September, 2022
عمران خان پر عدم اعتماد کیوں ۔۔۔؟

عمران خان پر عدم اعتماد کیوں ۔۔۔؟
عارف سعید بخاری کا کالم

 

سیاسی لیڈروں اور اداروں کے مابین گذشتہ 70سال سے جاری مفاداتی جنگ نے معیشت کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے،ادھر امریکہ، برطانیہ کی دولت مشترکہ اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک نے پاکستان کو اپنا غلام بنا کر رکھا ہے ۔ہر حکمران سپر طاقتوں اور عالمی مالیاتی اداروں کی ہدایات کے مطابق معیشت کو چلاتا ہے ۔پاکستان کوایک بھی ایسا حکمران نہیں ملا کہ جس نے اپنے اندر امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی جرات پیدا کی ہو ۔فیلڈ مارشل ایوب خان سمیت جس نے بھی امریکہ کے سامنے سینہ سپر ہونے کی کوشش کی ،اس نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے تحریک چلا کر انہیں چلتا کردیا ۔گوکہ ماضی میں بیشترحکمران انہیں قوتوں کی بیساکھیوں کے سہارے اقتدار کے'' سنگھاسن'' پر براجمان ہوئے ۔لیکن اپنے اقتدار کے آخری ایام میں جب انہیں امریکہ کی غلامی کھٹکنے لگی تو انہوں نے علم بغاوت بلند کرنے کی سعی کی ۔ان کا یہ عمل انہیں لے ڈوبا ۔ہر لیڈر نے اندرون خانہ انہی قوتوں سے روابط رکھے ۔لیکن جب ان کا ضمیر جاگا اور ایک خوددار قوم کی طرح جینے کا خیال آیاتوامریکہ نے انہیں ایجنٹوں کے ذریعے نکال باہر کیا-

ایک نظر حکومتی اکھاڑ پچھاڑ پر ڈالی جائے تو حکومتوں کی تبدیلی سے عوام کو کوئی سروکار نہیں ،عوام کا مسئلہ ''کرسی '' نہیں ،بلکہ روٹی ،کپڑا اور مکان ہے ۔بنیادی انسانی حقوق اور انصاف کی فراہمی سمیت عوام توصرف اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں جبکہ سیاسی لیڈران عوام کے جملہ مسائل پر توجہ دینے کی بجائے اپنی کرسی بچانے،لوٹ کھسوٹ اور اپنے بچوں کو اپناحکومتی ''جا نشین ''بنانے پر مرکوز رکھتے ہیں ۔پاکستان کسی جاگیردار، وڈیرے یا کسی سیاسی خانوادے کی جاگیر نہیں ،یہ عوام کا ملک ہے ،حاکموں کی حیثیت 'خادمان ِ ملت ''سے زیادہ نہیںلیکن یہ لوگ غریب کو اپنا غلام سمجھنے لگتے ہیں۔ ۔حکومت میں شامل سیاستدان بھاری تنخواہیں اور مراعات لیتے ہیں ۔قومی خزانے سے ایک ایک بندے پر کروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں ۔سبھی ادوار میں اراکین اسمبلی کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو بہت کچھ عیاں ہو سکتا ہے ۔اراکین اسمبلی کا کام قانون سازی پر دھیان دینا ہے ۔لیکن اسمبلیوں میں آج تک کوئی ڈھنگ کی قانون سازی دیکھنے میں نہیں آئی ۔صدر مملکت اکثر آرڈیننس جاری کرکے کام چلاتے ہیں ۔قانون کے مطابق صدارتی آرڈیننس کی مدت محض چار ماہ ہوتی ہے ۔اس عرصے میں آرڈیننس کو قانون کی شکل میں آئین کا حصہ بنانا پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے ۔کتنے ہی آرڈیننس اسمبلیوں میں پیش نہ ہونے کی وجہ سے '' Null and Voide''ہو چکے ۔

حال ہی میں میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے بھی صدارتی آرڈیننس کو قانونی حیثیت نہ دی جا سکی ۔میڈیا پرسنز کو''پیکاآرڈیننس ''سے پریشانی لاحق ہوئی توانہوں نے باقاعدہ تحریک چلا ئی جس کے نتیجے میں عدالت نے اسے کالعدم قرار دے دیا ۔جبکہ ''پریس آرڈیننس '' بارے کسی کوکوئی فکر نہیں ۔قانون سازی کے لئے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے جبکہ اسمبلیوں میں ایسے لوگوں کو بھیج دیا جاتا ہے کہ جنہیں قانون سازی کی زیادہ سمجھ بوجھ ہی نہیں ہوتی ۔ اسمبلی کا اجلاس اکثر ''مچھلی منڈی''کی صورت اختیار کرجاتا ہے ۔اراکین کی غیر شائستہ تقاریر باعث شرم رویہ ہے ۔وہ اراکین اسمبلی جنہیں آج تک کسی قسم کی قانون سازی کی توفیق نہیں ہوئی ۔

انہوں نے اس مرتبہ ایک منتخب وزیر اعظم کو اقتدار سے الگ کرنے کیلئے باقاعدہ ''تحریک عدم اعتماد ''پیش کر دی ۔اور وزیراعظم کیلئے خلاف 174اراکین اسمبلی نے ووٹ کی قوت سے عدم اعتماد کا اظہار کردیا ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے ''تحریک عدم اعتماد ''پیش کی ،اور جنہوں نے اس پر اپنا ووٹ دیا اورا س کے ساتھ وہ قوتیں جو وزیر اعظم عمران خان کی ناقص کارکردگی پر انہیں نکال باہرکرنے کی سازش میں حصے دار تھیں ۔ان کی انفرادی یا اجتماعی طور پر اپنی کارکردگی بھی قابل تعریف ہے یا نہیں ۔۔؟سوال تو یہ بھی ہے کہ جن اراکین اسمبلی نے خودگذشتہ 3 سال کے دوران  کوئی خاص کارکردگی نہیں دکھائی ، محض وقت ضائع کیا اور بھاری سرکاری مراعات حاصل کیں ۔کیا وہ وزیر اعظم پر عدم اعتماد کا حق رکھتے ہیں ۔جن کا اپنا دامن داغدار ہے اور جن کی اپنی کارکردگی'' نشستندً،گفتند، برخواستند'' ۔۔سے زیادہ نہیں ،اخلاقی اور قانونی طور پر انہیں یہ حق نہیں ملنا چاہئے کہ وہ ایک منتخب وزیر اعظم کومحض اپنے مفاد یا غیر ملکی آشیر باد سے عدم اعتماد کا ووٹ دے کووزارت اعظمیٰ سے نکال باہر کریں ۔

المیہ یہ ہے کہ ہم کوئی کام کرتے وقت اپنے گریبان میں جھانکنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ہمیں جو ہدایات ملتی ہیں ہم اس کے مطابق آگے بڑھتے ہیں اور سارے نظام کو ہی تہس نہس کر دیتے ہیں ۔وزیر اعظم عمران خان کی مدت ایک سال بعد ختم ہوجانا تھی ۔قیامت آنے کے امکانات تو نہیں تھے جو اپوزیشن نے منتخب وزیر اعظم کو اقتدار سے الگ کرنا ضروری سمجھا۔ دوسروں کے لئے گڑھا کھودنے والوں کو یہ بات نہیں بھولنا چاہئے کہ کبھی کبھی اپنے کھودے ہوئے گڑھے میں انسان خود بھی گر جایا کرتا ہے ۔منتخب حکومت یا وزیر اعظم کا تختہ الٹنے کا سلسلہ اب ختم کرنا ہو گا ۔آئندہ ماہ بجٹ پیش ہونا ہے ۔حکومت کے پاس بجٹ کیلئے پیسے ہی نہیں ۔ایسے میں تحریک عدم اعتماد پیش کرکے ملک میں کشیدگی کا ماحول پیدا کرانے والے کسی صورت ملک و ملت کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ۔قوم حکومتوں کے گرانے کیلئے باربار رچائے جانے والے ڈراموںسے عاجز آ چکی ۔بعض قوتیں جان بوجھ کر سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی سازش کرتی ہیںتاکہ انہیں اپنے مقاصد حاصل کرنے کی راہ مل سکے ۔ہماری سوچ و فکر قوم کی ترقی و خوشحالی اور مستحکم پاکستان سے کوسوں دورہے ۔سیاستدانوں کواپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے اقتدار چاہئے ۔اس لئے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں ۔

غیر ملکی قوتیں توشروع دن سے پاکستان کی سلامتی کے درپے ہیں ،اس کیلئے وہ کچھ بھی کرسکتی ہیں لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین ان کے مشن کو پائے تکمیل تک پہنچانے میں خود بھی شریک ہو جاتے ہیں ۔اور ہمارا یہ عمل سراسر غداری کے زمرے میں آتا ہے ۔کہتے ہیں کہ کلہاڑی بھی اس وقت تک درخت کو کاٹ نہیں سکتی جب تک اس کے اندر ''ڈنڈا ''نہ لگایا جائے ۔اور ہم وہ  خیر خواہانانِ ملت ہیں جو دشمن کے ناپاک عزائم کو کامیاب بنانے کیلئے ''ڈنڈے ''کا کردار ادا کرنے میں بھی شرم محسوس نہیں کرتے ۔ ایوب خان ، ذوالفقار علی بھٹواورنواز شریف بھی اسی مافیاکے عتاب کا شکار ہوئے تھے اور ان کا انجام سب کے سامنے ہیں ۔اب عمران خان کے ساتھ بھی وہی کچھ کیا جا رہا ہے جو ماضی میں لیڈروں سے کیا جاتا رہا ۔عمران خان کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے تحریک عدم اعتماد کو طول دے کر سازش میں شریک ایک ایک فرد کی اصلیت کو بے نقاب کردیا ہے ۔عمران خان اب دوبارہ اقتدار میں آئیں یا نہ آئیں لیکن وہ ایک ایسی تاریخ رقم کر گئے ہیں جوان مفادپرستوں کو زندگی بھر نہیں بھولے گی۔

تاہم گذشتہ روز عمران خان کی کال پر نکلنے والے جلوس اورا حتجاجی ریلیاں اس بات کی دلیل ہیں کہ عوام عمران خان کے بیانیے پر ان کے ساتھ ہیںاور امریکہ کی غلامی سے نجات چاہتے ہیں ۔خودعمران خان کو یہ بات نہیں بھولناچاہئے کہ انہیں اپنے ہی خیرخواہوں نے نقصان پہنچایا ہے جو 3 سال سے ان کی آستین میں پل رہے تھے ۔ اس لئے آئندہ انہیں ان سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  95546
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
وقت کے ساتھ ساتھ جس طرح ہرطبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ترقی کی ہے اسی طرح بھکاریوں نے بھی ترقی کی ہے اسی طرح بھکاریوں میں بھی دوطرح کے طبقے پائے جاتے ہیں ایک بھکاری تووہ ہیں جومستقل طورپرنسل درنسل کسی علاقہ کے رہائشی
وطن عزیز میں ایک ہی دن کورونا وائرس سے 96 سے زائد افراد کا جان بحق ہونا ان ملکی و عالمی ماہرین کی پیشنگوئی سچ ثابت کررہا ہے جو تواتر سے عالمی وبا کی تباہ کاریوں بارے تنبیہہ کر رہے،ادھر اہل پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ اکثریت اس وبا کے مضمرات پر سنجیدگی سے غور کرنے آمادہ نہیں، سرکار کی جانب سے عیدالفطر پر”جزوی لاک ڈاؤن“ کھولنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کی قابل ذکر تعداد نے لاپرواہی برتی

مقبول ترین
برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم مختصر علالت کے بعد 96 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں نے ان کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا جس کے بعد رائل فیملی کے افراد نے بکنگم پیلس میں آنے شروع کردیا تھا۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان اپنے بیان کی خود وضاحت کریں، ان کے کہنے کا کیا مقصد تھا؟
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کی سینئر قیادت کو متنازع بنانے کی کوشش افسوسناک ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو قرض کی ادائیگی سے متعلق پروگرام کی منطوری دے دی۔ وفاقی وزیر خزانہ نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر آئی ایم ایف کی جانب سے دی جانے والی منظوری سے متعلق کہا کہ

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں