![]() |
اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف صیہونی حکومت اور امریکہ کی جارحیت کے آغاز کو تیں ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ایک ایسیجارحیت جو گزشتہ نو ماہ قبل کی طرح ہوئی ہے۔جب اسلامی جمہوریہ ایران مغربی ایشیائی خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک متوازن معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ اپنے قانونی حقوق کو محفوظ بنایا جا سکے اور خطے اور دنیا کو ایک مہنگی ترین اور حساس ترین جنگ میں ملوث ہونے سے بچایا جا سکے۔ بہرحال یہ فلاحی کوشش ایک لڑکیوں کے اسکول پر حملے اور 169 معصوم بچوں کی شہادت کے ساتھ ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلیٰ ترین سیاسی اور مذہبی عہدیدار، شہید حضرت آیت اللہ خامنہ ای ؒ کے گھر اور دفتر پر حملے کے ساتھ ناکام ہوگئی اور اس نے ایسے واقعات اورحادثات کا آغاز کیا جس کا انجام واضح نہیں ہے۔
لیکن اب تک جو کچھ ہوا ہے اس کا کئی زاویوں سے جائزہ لیا جا سکتا ہے:
اول: اس اقدام سے امریکہ اور صیہونی حکومت نے تمام بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ کسی بین الاقوامی معاہدے کی پاسداری نہیں کرتے۔ یہ پیغام عالمی امن و استحکام کے لیے انتہائی خطرناک پیغام ہو گا۔
دوسرا: جنگ شروع کرنے والوں کی غلط فہمیوں اور غلطیوں کے باوجود ایران نہ صرف جارحوں کے مقابلے میں ڈٹا رہا ،بلکہ جارحین کو ناقابل فراموش سبق بھی سکھایا ہے۔
تیسرا: اس جنگ کے آغاز سے لیکر اب تک عالمی معیشت متاثر ہوئی ہے اور توانائی کی قیمتیں بے قابو ہو رہی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ جلد ہی عالمی معیشت پر اپنے اثرات دکھائے گا اور ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔یہ اس وقت ہے جب ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے لیے ابھی تک کوئی فوجی کارروائی نہیں کی ہے اور اس آبی گزرگاہ کے ذریعے آمدورفت میں کمی کی وجہ سے تیل کی قیمت تقریباً دوگنی ہو گئی ہے۔
چوتھا: امریکی ماہرین کے جائزے کے مطابق اس جنگ کو شروع کرنے اور اسے جاری رکھنے کے لیے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران دسیوں ارب ڈالر کے امریکی مالی وسائل خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ امریکہ اور صیہونی ڈکٹیٹرز اپنے کوئی بھی اہداف حاصل نہیں کر سکے۔
پانچواں: امریکہ میں جنگ کی مخالفت کا بڑھتا ہوا رجحان امریکی صدر کے قریبی لوگوں تک بھی پہنچ گیا ہے اور کل ہم نے امریکی انسداد دہشت گردی کمیشن کے سربراہ کے استعفیٰ کا مشاہدہ کیا، جو ٹرمپ کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ امریکی عوام میں یہ مخالفت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
چھٹا: مزاحمتی محاذ کی آپریشنل میدانوں میں واپسی کو اس جنگ کی دوسری کامیابیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ صیہونی حکومت کے خلاف جنگ میں حزب اللہ کی لبنان میں واپسی اور امریکہ کے خلاف فوجی کارروائیوں میں عراقی مزاحمتی گروہوں کی واپسی کو مزاحمتی محاذ کے احیاء کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
ساتواں: اس جنگ کی ایک اور غیر متوقع کامیابی پورے مغربی ایشیائی خطے اور خلیج فارس میں ایران کی طاقت کا مظاہرہ ہے، جس کی اگر اس کے شروع کرنے والوں کے پاس صحیح تصویر ہوتی تو اس بات کا امکان نہیں کہ وہ ایسا غیر دانشمندانہ اقدام کریں۔
آٹھواں: یہ حقیقت کہ امریکہ اتحاد بنانے میں تنہا ئی کا شکار ہے اور اس جنگ میں دوسرے ممالک کو شامل کرنا ایک اور واضح پیغام ہے۔ امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے سربراہان مملکت کو امریکا کا ساتھ دینے کی دعوت دے کر اپنے ساتھ ممالک کے اتحاد کو لانے کی کوشش کی، لیکن انہیں منفی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا اور اس واقعے کو دنیا میں امریکی آمریت کے خاتمے کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔
نواں : سیاسی، سماجی اور اقتصادی استحکام کے ساتھ ساتھ ایرانی مسلمان عوام کی مثالی مزاحمت، بہادری اور استقامت کے ساتھ ساتھ اسلام کی آبیاری کے لیے خالص خون کا عطیہ مسلط کردہ رمضان المبارک جنگ کے دیگر منفرد واقعات تھے، جنہوں نے بلاشبہ ایران کی طویل تاریخ میں ایک اور سنہری تاریخی باب رقم کیا ہے۔
دسواں: ایران نے جنگ سے پہلے اور جنگ کے دوران پڑوسی ممالک کو دوستی کا پیغام دیتے ہوئے بارہا کہا کہ وہ غیر ملکیوں کو اپنی سرزمین ایران کی سرزمین اور ارضی سالمیت کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔ بدقسمتی سے اس انتباہ کو ایران کے بعض جنوبی ہمسایہ حکومتوں نے سنجیدگی سے نہیں لیا، جس کی وجہ سے ایران کی دفاعی افواج کو پڑوسی ممالک کی سرزمین کے اندر جارحین کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے پر مجبور کیا گیا تاکہ خطے اور ایران کے امن و سلامتی کی حفاظت کی جا سکے۔ حالانکہ یہ ایران کی کبھی خواہش تھی اور نہ ہے ۔ امید ہے کہ پڑوسی ممالک پہلے سے زیادہ اچھی ہمسائیگی کا خیال رکھیں گے اور عالم اسلام کے مشترکہ دشمن یعنی صیہونی حکومت کے ہاتھ میں نہیں کھیلیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ