Tuesday, 30 June, 2026
سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار،بڑی شرط رکھ دی

سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار،بڑی شرط رکھ دی

ریاض - سعودی عرب نے بڑی شرط رکھتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد فلسطین کو تسلیم کرنے پر تمام 57 مسلم ممالک اسرائیل کو تسلیم کریں گے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی سفیر برائے اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل 1967 والی سرحدوں پر واپس جائے تو سعودی عرب اسے تسلیم کرے گا، اسرائیل یہ اقدام کرے گا تو تمام مسلم ممالک اسے تسلیم کریں گے۔

سعودی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ فلسطین پر اسرائیلی قبضہ پہلے بھی غلط تھا آج بھی غلط ہے،مغربی کنارے میں تعمیرات اور غزہ کا محاصرہ غلط ہے، وقت بدلنے سے غلط صحیح نہیں ہوتا، سعودی عرب پرانی پالیسی پر ہی کاربند ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ تقریباً 20 امریکی یہودی رہنماؤں پر مشتمل ایک وفد نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور وہاں سینئر عہدیداروں سے ملاقات کی۔

وفد نے جن عہدیداروں سے ملاقات کی ان میں 6 حکومتی وزرا اور سعودی شاہی گھرانے کے سینئر نمائندے بھی شامل تھے، ملاقات کا مقصد ریاض اور تل ابیب کے درمیان تعلقات قائم کرنے کے امکانات پر نظرِ ثانی کرنا تھا۔

سعودی عرب نے بارہا اسرائیل کے ساتھ امن کے لیے عرب پیرامیٹرز کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے جس کا اظہار 2002 کے سعودیہ کے تجویز کردہ عرب اقدام میں کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا تھا اور 1980 میں پورے شہر کا الحاق کرلیا تھا۔

یاد رہے کہ مصر اور اردن کے بعد مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے والا ملک متحدہ عرب امارات تھا۔

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے اگست میں اعلان کیا تھا کہ وہ تعلقات کو معمول پر لائیں گے جبکہ حکومتی سطح پر بینکنگ، کاروباری معاہدوں کے ذریعے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے خلاف طویل مدت سے جاری بائیکاٹ کو ختم کریں گے۔

بعدازاں قریبی ملک بحرین نے بھی 15 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے یو اے ای کے ساتھ مل کر معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

جس کے بعد سوڈان 2 ماہ کے عرصے میں تیسرا مسلمان ملک تھا جس نے اسرائیل سے دشمنی ختم کرنے اور تعلقات معمول پر لانے کا اعلان کیا لیکن مکمل روابط اب تک عملی شکل میں نہیں آئے۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین وہ تیسرے اور چوتھے عرب ممالک تھے جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے جبکہ مصر اور اردن بالترتیب 1979 اور 1994 میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدات پر دستخط کر چکے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  73206
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیرِ صدارت کابینہ کا ورچوئل اجلاس ہوا۔جس میں سعودی کابینہ کی جانب سے واضح کیا گیا کہ سعودی عرب اپنی سلامتی، خود مختاری کے لیے تمام اقدامات کا حق رکھتا ہے۔
ریاض میں خلیجی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ خطے امن کیلئے امریکی صدر کی کوششیں قابل تعریف ہیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر کا خیرمقدم کرتے ہیں
سفارتی تعلقات بحال ہونے پر سعودی عرب نے ایران میں اپنا نیا سفیر مقرر کردیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کا کہنا ہے کہ ایران بھی جلد سعودی عرب میں اپنا نیا سفیر تعینات کرے گا۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں