Monday, 27 June, 2022
سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار،بڑی شرط رکھ دی

سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار،بڑی شرط رکھ دی

ریاض - سعودی عرب نے بڑی شرط رکھتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد فلسطین کو تسلیم کرنے پر تمام 57 مسلم ممالک اسرائیل کو تسلیم کریں گے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی سفیر برائے اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل 1967 والی سرحدوں پر واپس جائے تو سعودی عرب اسے تسلیم کرے گا، اسرائیل یہ اقدام کرے گا تو تمام مسلم ممالک اسے تسلیم کریں گے۔

سعودی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ فلسطین پر اسرائیلی قبضہ پہلے بھی غلط تھا آج بھی غلط ہے،مغربی کنارے میں تعمیرات اور غزہ کا محاصرہ غلط ہے، وقت بدلنے سے غلط صحیح نہیں ہوتا، سعودی عرب پرانی پالیسی پر ہی کاربند ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ تقریباً 20 امریکی یہودی رہنماؤں پر مشتمل ایک وفد نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور وہاں سینئر عہدیداروں سے ملاقات کی۔

وفد نے جن عہدیداروں سے ملاقات کی ان میں 6 حکومتی وزرا اور سعودی شاہی گھرانے کے سینئر نمائندے بھی شامل تھے، ملاقات کا مقصد ریاض اور تل ابیب کے درمیان تعلقات قائم کرنے کے امکانات پر نظرِ ثانی کرنا تھا۔

سعودی عرب نے بارہا اسرائیل کے ساتھ امن کے لیے عرب پیرامیٹرز کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے جس کا اظہار 2002 کے سعودیہ کے تجویز کردہ عرب اقدام میں کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا تھا اور 1980 میں پورے شہر کا الحاق کرلیا تھا۔

یاد رہے کہ مصر اور اردن کے بعد مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے والا ملک متحدہ عرب امارات تھا۔

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے اگست میں اعلان کیا تھا کہ وہ تعلقات کو معمول پر لائیں گے جبکہ حکومتی سطح پر بینکنگ، کاروباری معاہدوں کے ذریعے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے خلاف طویل مدت سے جاری بائیکاٹ کو ختم کریں گے۔

بعدازاں قریبی ملک بحرین نے بھی 15 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے یو اے ای کے ساتھ مل کر معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

جس کے بعد سوڈان 2 ماہ کے عرصے میں تیسرا مسلمان ملک تھا جس نے اسرائیل سے دشمنی ختم کرنے اور تعلقات معمول پر لانے کا اعلان کیا لیکن مکمل روابط اب تک عملی شکل میں نہیں آئے۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین وہ تیسرے اور چوتھے عرب ممالک تھے جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے جبکہ مصر اور اردن بالترتیب 1979 اور 1994 میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدات پر دستخط کر چکے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر [email protected] پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  91752
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
سعودی عرب میں آج ماہِ شوال کا چاند نظر نہیں آیا جس کے باعث کل بروز اتوار کو 30واں روزہ ہوگا۔ عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں 2 مئی بروز پیر کو عیدالفطر ہوگی، آج شوال کا چاند نظر نہیں آیا
سعودی عرب میں رمضان المبارک کا چاند نظر آ گیا ہے جس کے بعد خلیجی ممالک میں بروز ہفتہ 02 اپریل کو پہلا روزہ ہوگا۔ سعودی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کےعلاقے حوطہ سدیر میں رمضان کا چاند نظر آیا جبکہ تمیر
سعودی عرب میں دہشت گردی کے الزام میں ایک ہی دن میں 81 افراد کی سزائے موت پر عمل درآمد کردیا گیا۔ سعودی سرکاری میڈیا کے مطابق عبادت گاہوں اور سرکاری اداروں کو نشانہ بنانے، سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل، بارودی
سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات جانے کے لیے اسرائیلی پروازوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ غیر ملکی خبررساں ادارے (رائٹرز) کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور وائٹ ہاوس کے سینیئر ایڈوائزر جیراڈ کشنر اور سعودی حکام

مقبول ترین
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین اور سعودی عرب کب تک ہماری مدد کرتے رہیں گے؟ ہمیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوگا، آئی ایم ایف سے تمام شرائط طے ہوگئیں اگر کوئی نئی شرط نہ آئی تو معاہدہ جلد ہوجائے گا۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز سے خطاب کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ موجودہ صورتحال میں
پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد امجد خان نیازی نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال 21 جون کو عالمی یومِ ہائیڈروگرافی منایا جاتا ہے جس کا مقصد ہائیڈروگرافی اور سمندروں سے متعلق معلومات میں اضافہ اور اس کے کردار کے حوالے سے آگہی پیدا کرنا ہے۔ عالمی ادارہ برائے
وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ امید ہے آئی ایم ایف پروگرام ایک آدھ دن میں بحال ہو جائے گا۔ اسلام آباد میں سینیٹ کی فنانس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد وزیر خزانہ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ پاکستان
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے صدر ڈاکٹر مارکس نے کہا ہے کہ فی الحال پاکستان کو گرے لسٹ سے نہیں نکالا جا رہا، اسلام آباد نے 34 نکات پر مشتمل 2 ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل کر لیا ہے۔ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ جائزہ ٹیم کی رپورٹ کے بعد کیا جائے گا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں