Wednesday, 13 May, 2026
پاکستان بھارت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے، واشنگٹن پوسٹ

پاکستان بھارت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے، واشنگٹن پوسٹ

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارتی طیارے مار گرائے جانے کا اقدام یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کے پاس بھارت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔

اخبار نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت جیسی دو ایٹمی طاقتیں آپس میں بات چیت نہ کریں تو یہ صورتحال انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے۔

اداریے میں مزید کہا گیا ہے کہ 1971ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ بھارت نے پنجاب میں حملہ کیا، جس کے بعد پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارت کے کئی لڑاکا طیارے اُس کی حدود میں ہی مار گرائے۔ یہ اقدام پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور ڈیٹرنس کا واضح اظہار ہے۔

اخبار کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں اور زور دے رہے ہیں کہ ڈائیلاگ اور تحمل کا مظاہرہ کیا جائے، حالیہ تشدد کے تناظر میں یہ کوششیں مزید بڑھائی جانی چاہئیں۔

اخبار نے کہا کہ بحران کا ایک قابل فہم حل یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دونوں فریق فتح کا دعویٰ کریں کیونکہ طیارے تباہ ہونے کی وجہ سے بھارت نے اپنے حملوں کی قیمت چُکا دی ہے۔

اخبار کے مطابق بھارت کا مؤقف ہے کہ اس کے حملے پہلگام واقعہ کا بدلہ تھے، پاکستان کے دوستوں بشمول چین کو چاہیے کہ وہ قابل قبول بیانیہ تلاش کرے جو کہ شاید اس دعوے سے بھی ہو سکتا ہے کہ بھارتی طیارے مار گرائے جانے سے ڈیٹرینس قائم ہوگئی اور ایسی علامات ہیں کہ ممکن ہے ایسا ہوبھی رہا ہے۔

اخبار نے دعویٰ کیا کہ دونوں ملک جنگ کے دہانے سے پیچھے ہٹیں تو سفارتکاری کا عمل بڑھنا چاہیے، پہلگام واقعے کے بعد سے پاکستان کے ساتھ معطل سندھ طاس معاہدے کو بھارت بحال کر سکتا ہے جس کے بدلے میں پاکستان بھی کچھ ممکنہ اقدامات کر سکتا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے اداریے میں کہا گیا ہے کہ نئی دہلی اور اسلام آباد کو سفارتی اور فوجی بیک چینلز پھر سے قائم کرنے چاہئیں، 2 ایٹمی قوتیں اگر بات نہ کریں تو یہ بہت زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  24793
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے پاک-بھارت کشیدگی کے دوران پاکستانی میڈیا کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے اپنا فخر قرار دیا اور کہا کہ ہمارے میڈیا نے بھارتی میڈیا کو جو جواب دیا وہ یادگار ہے۔
نادرا نے بچوں اور خواتین کے خلاف جنسی جرائم کرنے والوں شناخت کی نئی سہولت متعارف کرا دی۔ نادرا کی جانب سے جنسی مجرموں کی قومی رجسٹری تیار کر لی گئی، اس سلسلہ میں ایس ایم ایس کے ذریعے تصدیق کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے، جنسی جرائم میں سزا یافتہ افراد کی ڈیٹا
پاکستان نے برطانوی نشریاتی ادارے سے جھوٹی اور من گھڑت خبر شائع کرنے پر وضاحت طلب کرلی ہے۔ میڈیا کے مطابق پاکستان نے بی بی سی اردو پر 10 اپریل 2022 کو شائع ہونے والی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے برطانوی نشریاتی ادارے
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے نگران وزیراعظم کے لیے سابق چیف جسٹس جسٹس (ر) گلزار احمد کا نام تجویز کر دیا۔ سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ صدر مملکت

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں