Saturday, 28 March, 2026
امریکہ اور اتحادی اپنے 11بندوں کی شمولیت کو قومی حکومت سمجھتے ہیں، مولوی شہاب الدین دلاور

امریکہ اور اتحادی اپنے 11بندوں کی شمولیت کو قومی حکومت سمجھتے ہیں، مولوی شہاب الدین دلاور

ایک نہ ایک دن امریکہ سمیت دنیا کے تمام ممالک افغانستان کی حکومت کو ضرور تسلیم کر لیں گے، سرپرست وزارت معدنیات و پٹرولیم افغانستان

 

امریکہ جن کو ہماری حکومت میں شامل کرنا چا ہتا ہے، خود امریکہ ان کو ویزہ تک نہیں دیتا کیونکہ یہ لوگ خود امریکی قانون میں بھی بڑے مجرم ہیں

 

کابل ۔ تحریک طالبان کے مرکزی رہنما اور افغانستان کی معدنیات و  پیٹرولیم کی وفاقی وزارت کے سرپرست مولوی شہاب الدین دلاور نے کہا ہے کہ امارات اسلامی افغانستان کی حکومت میں تمام قوموں کے نمائندے شامل ہیں، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کی موجودہ حکومت ایک قومی حکومت ہے۔ دنیا کو افغانستان کی موجودہ حکومت کو تسلیم کر لینا چاہئے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ امریکہ اور ان کے اتحادیوں نے جو بھی شرائط رکھے تھے وہ ہم نے پورے کر دیئے ہیں۔

مولوی شہاب الدین دلاور افغانستان کے مقامی میڈیا کو خصوصی انٹرویو دے رہے تھے۔ میزبان کے سوال پر کہ آخر دنیا کے دوسرے ممالک افغانستان کے موجودہ حکوت کو تسلیم کیوں نہیں کر رہے تو مولوی شہاب الدین دلاور کا کہنا تھا کہ ایک تو امریکہ ابھی تک افغانستان میں شکست کا جواز اپنے عوام کو نہیں بتا سکا۔ امریکہ اور ان کے اتحادیوں کی اپنی سیاست ہے لیکن ایک نہ ایک دن امریکہ سمیت دنیا کے تمام ممالک افغانستان کی حکومت کو ضرور تسلیم کر لیں گے۔

مولوی شہاب الدین دلاور نے بتایا کہ امریکہ اور ان کے اتحادیوں کی نظر میں قومی حکوت کی تعریف الگ ہے اور ہماری نظر میں الگ ہے۔ ہماری نظر میں قومی حکومت کی تعریف یہ ہے کہ حکومت میں افغانستان کے تمام قومیتوں کی بلا تفریق نمائندگی شامل ہوں لیکن امریکہ اور ان کے اتحادیوں نے گیارہ سے پندرہ بندوں کی ایک لسٹ دی ہے کہ اگر ان لوگوں کو حکومت میں شامل کیا جائے تو پھر ہم مان لیں گے کہ اب افغانستان کی حکومت قومی ہے۔ میزبان کے سوال پر مولوی شہاب الدین دلاور نے بتایا کہ لسٹ میں سیمہ ثمر، دوستم کے بیٹے کانام، محقق، خلیلی، عطانور جیسے لوگوں کے نام لکھے ہوئے تھے۔ یعنی اگر ان ناموں سمیت گیارہ یا پندرہ نام شامل کئے جائیں تو امریکہ اور ان کے اتحادی افغانستان کی موجودہ حکومت کو تسلیم کر لیں گے۔

مولوی شہاب الدین دلاور کا کہنا تھا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ جن کو ہماری حکومت میں شامل کرنا چا ہتا ہے، خود امریکہ ان لوگوں کو ویزہ تک نہیں دیتا کیونکہ یہ لوگ خود امریکی قانون میں بھی اتنے بڑے مجرم ہیں کہ وہ ان کو امریکہ کا ویزہ نہیں دے سکتے۔ امریکہ عام افغانیوں کو تو بغیر ویزہ حتی کے بغیر ٹکٹ بھی جہاز میں بٹھا کر لے جاتا ہے لیکن ان مجرمین پر امریکہ داخلے پر پابندی ہے۔

مولوی شہاب الدین دلاور نے بتایا کہ اگر میں اپنی وزارت کی بات کروں تو یہاں وزارت کے دفتر میں 558 افراد کام کر رہے ہیں۔ طالبان کے انقلاب کے بعد بھی ان 558 افراد میں سے صرف 8 بندے امارات اسلامی افغانستان نے نئے بھرتی کئے ہیں باقی تو سارے کے سارے وہی پرانے ملازمین کام کر رہے ہیں جن میں تاجک، ازبک، ہزارہ اور پختون سمیت تمام قومیتوں کے لوگ کام کر رہے ہیں۔ مولوی شہاب الدین دلاور کا کہنا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے 8 بندوں کے شامل ہونے سے اب ہماری وزارت میں قومی یکجہتی نظر آ گئی ہے کیونکہ پہلے ہماری شمولیت نہیں تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 550 بندوں کی شمولیت پر اگر افغان حکومت کی معدنیات اور پیٹرولیم کی وزارت قومی نہیں تو صرف گیارہ یا پندرہ بندوں کی شمولیت سے قومی حکومت کیسے بن سکتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ اور ان کے اتحادی قومی حکومت کی ظالمانہ تعریف کر رہے ہیں۔

افغانستان کے مقامی میڈیا کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے مولوی شہاب الدین دلاور نے بتایا کہ ہماری نظر میں قومی حکومت کی تعریف یہ ہے کہ افغانستان کے تمام ملت اور قومیتوں کے نمائندے تقوی اور اہلیت کی بنیاد پر حکومت میں شامل ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کسی کو بھی ملازمتوں سے نہیں نکالا، چند ملازمین خود بھاگ گئے تھے باقی وہی پرانے ملازمین میرے معاونین ہیں۔ میں انہیں پرانے ملازمین کے ساتھ وزارت کا نظام چلا رہا ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  69914
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بتایا ہے کہ بھارت نے پاکستان میں 3 ائر بیسز پر میزائل داغےہیں، بھارت نے افغانستان پر بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے-
پاکستان نے برطانوی نشریاتی ادارے سے جھوٹی اور من گھڑت خبر شائع کرنے پر وضاحت طلب کرلی ہے۔ میڈیا کے مطابق پاکستان نے بی بی سی اردو پر 10 اپریل 2022 کو شائع ہونے والی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے برطانوی نشریاتی ادارے
شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ہم نے غداری کی ہے تو ثبوت قوم اور سپریم کورٹ

مقبول ترین
عالمی میڈیا کے مطابق جنگ کے آغاز سے قبل اس آبی راستے سے روزانہ تقریباً 135 جہاز گزرتے تھے، لیکن یکم مارچ سے 25 مارچ تک یہاں سے صرف 116 جہاز گزرے۔ زیادہ تر جہاز چین، بھارت اور خلیجی ممالک سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ بعض ‘ڈارک فلیٹ’ کے جہاز بھی شامل تھے، جن پر مغربی پابندیاں عائد ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کا تعلق اعلیٰ سطح پر ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو سے جوڑا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی نائب صدر اور اسرائیلی
وزیراعظم نے کہا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے پیش کی گئی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کر دی گئی، جس میں پیٹرول کی قیمت 95 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 203 روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز شامل تھی۔
اجلاس میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے اور معاشی و توانائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ تیل و گیس کی عالمی قیمتوں کے اثرات اور مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں