Sunday, 25 September, 2022
امریکہ اور اتحادی اپنے 11بندوں کی شمولیت کو قومی حکومت سمجھتے ہیں، مولوی شہاب الدین دلاور

امریکہ اور اتحادی اپنے 11بندوں کی شمولیت کو قومی حکومت سمجھتے ہیں، مولوی شہاب الدین دلاور

ایک نہ ایک دن امریکہ سمیت دنیا کے تمام ممالک افغانستان کی حکومت کو ضرور تسلیم کر لیں گے، سرپرست وزارت معدنیات و پٹرولیم افغانستان

 

امریکہ جن کو ہماری حکومت میں شامل کرنا چا ہتا ہے، خود امریکہ ان کو ویزہ تک نہیں دیتا کیونکہ یہ لوگ خود امریکی قانون میں بھی بڑے مجرم ہیں

 

کابل ۔ تحریک طالبان کے مرکزی رہنما اور افغانستان کی معدنیات و  پیٹرولیم کی وفاقی وزارت کے سرپرست مولوی شہاب الدین دلاور نے کہا ہے کہ امارات اسلامی افغانستان کی حکومت میں تمام قوموں کے نمائندے شامل ہیں، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کی موجودہ حکومت ایک قومی حکومت ہے۔ دنیا کو افغانستان کی موجودہ حکومت کو تسلیم کر لینا چاہئے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ امریکہ اور ان کے اتحادیوں نے جو بھی شرائط رکھے تھے وہ ہم نے پورے کر دیئے ہیں۔

مولوی شہاب الدین دلاور افغانستان کے مقامی میڈیا کو خصوصی انٹرویو دے رہے تھے۔ میزبان کے سوال پر کہ آخر دنیا کے دوسرے ممالک افغانستان کے موجودہ حکوت کو تسلیم کیوں نہیں کر رہے تو مولوی شہاب الدین دلاور کا کہنا تھا کہ ایک تو امریکہ ابھی تک افغانستان میں شکست کا جواز اپنے عوام کو نہیں بتا سکا۔ امریکہ اور ان کے اتحادیوں کی اپنی سیاست ہے لیکن ایک نہ ایک دن امریکہ سمیت دنیا کے تمام ممالک افغانستان کی حکومت کو ضرور تسلیم کر لیں گے۔

مولوی شہاب الدین دلاور نے بتایا کہ امریکہ اور ان کے اتحادیوں کی نظر میں قومی حکوت کی تعریف الگ ہے اور ہماری نظر میں الگ ہے۔ ہماری نظر میں قومی حکومت کی تعریف یہ ہے کہ حکومت میں افغانستان کے تمام قومیتوں کی بلا تفریق نمائندگی شامل ہوں لیکن امریکہ اور ان کے اتحادیوں نے گیارہ سے پندرہ بندوں کی ایک لسٹ دی ہے کہ اگر ان لوگوں کو حکومت میں شامل کیا جائے تو پھر ہم مان لیں گے کہ اب افغانستان کی حکومت قومی ہے۔ میزبان کے سوال پر مولوی شہاب الدین دلاور نے بتایا کہ لسٹ میں سیمہ ثمر، دوستم کے بیٹے کانام، محقق، خلیلی، عطانور جیسے لوگوں کے نام لکھے ہوئے تھے۔ یعنی اگر ان ناموں سمیت گیارہ یا پندرہ نام شامل کئے جائیں تو امریکہ اور ان کے اتحادی افغانستان کی موجودہ حکومت کو تسلیم کر لیں گے۔

مولوی شہاب الدین دلاور کا کہنا تھا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ جن کو ہماری حکومت میں شامل کرنا چا ہتا ہے، خود امریکہ ان لوگوں کو ویزہ تک نہیں دیتا کیونکہ یہ لوگ خود امریکی قانون میں بھی اتنے بڑے مجرم ہیں کہ وہ ان کو امریکہ کا ویزہ نہیں دے سکتے۔ امریکہ عام افغانیوں کو تو بغیر ویزہ حتی کے بغیر ٹکٹ بھی جہاز میں بٹھا کر لے جاتا ہے لیکن ان مجرمین پر امریکہ داخلے پر پابندی ہے۔

مولوی شہاب الدین دلاور نے بتایا کہ اگر میں اپنی وزارت کی بات کروں تو یہاں وزارت کے دفتر میں 558 افراد کام کر رہے ہیں۔ طالبان کے انقلاب کے بعد بھی ان 558 افراد میں سے صرف 8 بندے امارات اسلامی افغانستان نے نئے بھرتی کئے ہیں باقی تو سارے کے سارے وہی پرانے ملازمین کام کر رہے ہیں جن میں تاجک، ازبک، ہزارہ اور پختون سمیت تمام قومیتوں کے لوگ کام کر رہے ہیں۔ مولوی شہاب الدین دلاور کا کہنا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے 8 بندوں کے شامل ہونے سے اب ہماری وزارت میں قومی یکجہتی نظر آ گئی ہے کیونکہ پہلے ہماری شمولیت نہیں تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 550 بندوں کی شمولیت پر اگر افغان حکومت کی معدنیات اور پیٹرولیم کی وزارت قومی نہیں تو صرف گیارہ یا پندرہ بندوں کی شمولیت سے قومی حکومت کیسے بن سکتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ اور ان کے اتحادی قومی حکومت کی ظالمانہ تعریف کر رہے ہیں۔

افغانستان کے مقامی میڈیا کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے مولوی شہاب الدین دلاور نے بتایا کہ ہماری نظر میں قومی حکومت کی تعریف یہ ہے کہ افغانستان کے تمام ملت اور قومیتوں کے نمائندے تقوی اور اہلیت کی بنیاد پر حکومت میں شامل ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کسی کو بھی ملازمتوں سے نہیں نکالا، چند ملازمین خود بھاگ گئے تھے باقی وہی پرانے ملازمین میرے معاونین ہیں۔ میں انہیں پرانے ملازمین کے ساتھ وزارت کا نظام چلا رہا ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر [email protected] پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  52118
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پاکستان نے برطانوی نشریاتی ادارے سے جھوٹی اور من گھڑت خبر شائع کرنے پر وضاحت طلب کرلی ہے۔ میڈیا کے مطابق پاکستان نے بی بی سی اردو پر 10 اپریل 2022 کو شائع ہونے والی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے برطانوی نشریاتی ادارے
شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ہم نے غداری کی ہے تو ثبوت قوم اور سپریم کورٹ
موجودہ عالمی نظام ناکام ہوگیا ہے، اسلام ہی موجودہ حالات میں انسانیت کی نجات کا ضامن ہے۔ ہمیں ایک غلامی سے نجات پا کر دوسری غلامی میں نہیں جانا چاہیے۔ اسلام حریت وآزادی کا سبق دیتا ہے. یہ بات ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی مشاورتی اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہی گئی ہے۔
علم طب کے فروغ میں جہاں صاحبان علم وفضل اطباء کا کردار یاد گار اور ناقابل فراموش ہے، وہیں جڑی بوٹیوں کی تلاش اور خصوصیات کے حوالے سے’’عطائیوں‘‘ کی عرق ریزی سے بھی انکار ممکن نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انہی ’’عطائیوں‘‘ نے اپنی زندگیاں جڑی بوٹیوں کی پہچان، ان کے خواص اور استعمال کے بارے میں جانتے جانتے جنگلوں، ویرانوں، میدانوں اور پہاڑوں میں تیاگ دیں۔

مقبول ترین
برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم مختصر علالت کے بعد 96 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں نے ان کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا جس کے بعد رائل فیملی کے افراد نے بکنگم پیلس میں آنے شروع کردیا تھا۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان اپنے بیان کی خود وضاحت کریں، ان کے کہنے کا کیا مقصد تھا؟
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کی سینئر قیادت کو متنازع بنانے کی کوشش افسوسناک ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو قرض کی ادائیگی سے متعلق پروگرام کی منطوری دے دی۔ وفاقی وزیر خزانہ نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر آئی ایم ایف کی جانب سے دی جانے والی منظوری سے متعلق کہا کہ

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں