Tuesday, 21 April, 2026
شاہ محمود قریشی کو اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا

شاہ محمود قریشی کو اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا


راولپنڈی - عدالتی حکم کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا۔ شاہ محمود قریشی نے رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وکلا اور تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے پی ٹی آئی کارکنان کو ہمت اور حوصلہ برقرار رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر غروب کے بعد طلوع ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے کارکنوں سے کہتا ہوں انصاف کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہے، اس تحریک کا حصہ یوں جو خودار پاکستان چایتی یے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایک ماہ قید تنہائی سے گزرا، اب اپنا تجزیہ چیئرمین کو بتاؤں گا۔

پی ٹی آئی وائس چیئرمین نے کہا کہ خان صاحب سے ملاقات کے بعد میڈیا سے تفصیلی گفتگو کروں گا، جیل میں قید بے گناہ کارکنوں کی رہائی کے لیے کوشش کروں گا اور ہم اُن کے لیے قانونی جنگ لڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بچے پریشان تھے انہیں بتایا تو انھوں مجھے اللہ کے حوالے کیا اور بہت زیادہ ساتھ دے کر حوصلہ افزائی کی، الله نے حفاظت کی ہے، بہنوں خاندان والوں کا مشکور ہوں۔

قبل ازیں لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے جج جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے نظربندی پٹیشن پر فیصلہ سناتے ہوئے شاہ محمود قریشی کو فوری رہا کرنے اور 3 روز میں ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ شاہ محمود قریشی آئین وقانون مطابق پرامن سیاسی سرگرمیاں، پرامن احتجاج اور خطاب کر سکیں گے جب کہ توڑ پھوڑ،جلاؤ گھیراؤ کے احتجاج سے دُور رہیں گے۔

دوران سماعت عدالت نے لا افسر سے استفسار کیا کہ شاہ محمود قریشی نے اگر کوئی تقریر یا کسی احتجاج کو لیڈ کیا ہے تو بتائیں۔ کوئی بھی سیاسی لیڈر کسی سیاسی مجمعے میں اپنے الفاظ کو کنٹرول نہیں کرسکتا۔ شاہ محمود قریشی کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو عدالت میں پیش کریں۔ لا افسر نے جواب دیا ہمیں 2 دن کا وقت دیا جائے۔

بعد ازاں عدالت نے نظربندی پٹیشن پر فیصلہ سناتے ہوئے شاہ محمود قریشی کو فوری رہا کرنے کا حکم جاری کردیا۔

دریں اثنا شاہ محمود قریشی کی روبکار اڈیالہ جیل پہنچ گئی۔ شاہ محمود قریشی کے وکیل بیرسٹر تیمور ملک نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عدالت کا حکم نامہ اڈیالہ جیل انتظامیہ کے حوالے کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہائی کورٹ نے تھری ایم پی او کے تحت شاہ محمود قریشی کو گرفتار کرنے سے روکا ہے، ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں ہم سے آج کوئی حلف نامہ نہیں مانگا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  96027
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں حملے کے نتیجے میں 26 سیاحوں کی ہلاکت پر دفتر خارجہ کا ردعمل بھی سامنے آگیا۔ میڈیا کے سوالات کے جواب میں ترجمان وزارت خارجہ نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں فواد چودھری نے کہا کہ میں نے 9 مئی کے واقعات کی پہلے ہی مذمت کی، اب میں نے سیاست سے بریک لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر نے کہاکہ توہین پارلیمنٹ (سینیٹ اور قومی اسمبلی) بل بہت اہم قانون سازی ہے، قائمہ کمیٹی رولز میں بھی ترمیم ہونی چاہیے، ارکان پارلیمنٹ کے فون افسران سننا گوارہ نہیں کرتے، ہر ادارے کی توہین کا کوئی نہ کوئی قانون ہے ، پہلے توہین پارلیمان پر کوئی قانون نہیں تھا
وزیراعظم کی ہدایت پر کابینہ ڈویژن کی سرکاری ویب سائٹ پر ریکارڈ اپلوڈ کردیا۔ تحائف وصول کرنے والوں میں سابق صدور، سابق وزراء اعظم، وفاقی وزراء اور سرکاری افسران کے نام شامل ہیں۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں