Sunday, 12 April, 2026
"ایران جنگ رکوانے کے لئے چار ملکی اجلاس میں کمیٹی بنانے کا فیصلہ"

اسلام آباد - مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے پاکستان نے فعال سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے اہم پیش رفت کی ہے۔ اسی سلسلے میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں چاروں ممالک نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی حمایت کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور پائیدار امن کے قیام پر زور دیا۔

اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ شریک مسلم ممالک نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور اس کی مکمل تائید کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چین بھی خطے میں امن کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کی بھرپور حمایت کر رہا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے فروغ کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی ان امن کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق وزیراعظم کی قیادت میں پاکستان علاقائی اور عالمی امن کے قیام کے لیے متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام ناگزیر ہے۔

وزیر خارجہ کے مطابق اجلاس میں خطے کی بدلتی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور باہمی مشاورت کے ذریعے مستقبل کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ملاقاتیں نہایت مثبت اور نتیجہ خیز رہیں، جبکہ موجودہ حالات میں مسلم امہ کا اتحاد مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی کوششوں کا ساتھ دے۔

اجلاس میں چاروں برادر ممالک نے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ اس مقصد کے لیے وزارت خارجہ کے سینئر حکام پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جو مشاورت کے ذریعے آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  79612
کوڈ
 
   
مقبول ترین
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفود نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال اور دو طرفہ اہمیت کے حامل امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکہ کے ساتھ انتہائی اہم مذاکرات کے لیے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا ہے۔ نور خان ایئر بیس پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے معزز مہمانوں کا استقبال کیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں