Thursday, 16 April, 2026
ہنگامی حالت کے بغیر آرڈیننس کا اجرا غیر آئینی قرار، سپریم کورٹ

ہنگامی حالت کے بغیر آرڈیننس کا اجرا غیر آئینی قرار، سپریم کورٹ

اسلام آباد - سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہنگامی حالت کے بغیر آرڈیننس کے اجرا کو آئین سے انحراف قرار دیتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے تحریری تاریخی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئینی شرائط کے بغیر صدر و گورنرز آرڈیننس کا نفاذ نہیں کر سکتے۔

یہ فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جاری کیا جو تیس صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ آئین کے ہر لفظ پر سختی سے عمل ہونا چا ہیے، آرڈیننس جاری کرنے کیلئے آئین میں طریقہ کار واضح ہے، جس میں صرف ہنگامی حالت کا ذکر ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہنگامیت کے بغیر آرڈیننس جاری کرنے کا عمل آئین سے انحراف ہے، آئینی شرائط کے بغیر صدر اور گورنرز آرڈیننس نافذ نہیں کر سکتے اور آئین کے تحت آرڈیننس کچھ ماہ بعد ختم ہو جاتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ آرڈیننس کے ذریعے طویل مدتی حقوق اور ذمہ داریاں دینے سے گریز کرنا چاہیے، جمہوری ملک میں عوام منتخب نمائندوں کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں اس لیے قانون سازی اُن کی ذمہ داری ہے، قانون سازی کے عمل کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کے حقوق پامال نہ ہوں۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ عوامی نمائندوں کے ذریعے ہونے والی قانون سازی آئینی تقاضا ہے، ملک میں نمائندہ جمہوریت عوام کو متحد اور خیر سگالی کو جنم دیتی ہے، پارلیمنٹ کے ذریعے ہونے والی قانون سازی سے عوام با اختیار اور وفاق مضبوط ہو تا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کی کسی بھی صورت خلاف ورزی عوام کی بے توقیری اور ملک کے لیے تباہ کن ہے۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ انکم سپورٹ لیوی آرڈیننس کی سینیٹ سے منظوری نہیں لی گئی۔

سپریم کورٹ نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے 2013 کیلئے کمشنر ان لینڈ ریونیو کی جانب سے دائر درخواستیں خارج کردیں، 581 فریقین نے سندھ ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔ واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے انکم سپورٹ لیوی2013 کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  22249
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفود نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال اور دو طرفہ اہمیت کے حامل امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جمعہ کے روز اسرائیلی فضائی حملے میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی شہادت کی خبروں کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں سے متحد ہونے اور ’لبنان کے عوام اور حزب اللہ
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہمارے احتجاجی مظاہرے کے بعد عدلیہ کی کارکردگی بہتر ہوئی۔ جمعیت علمائے اسلام اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ ریویو اینڈ ججمنٹس آرڈر ایکٹ 2023ء پر دستخط کردیے جس کے بعد یہ قانون (ایکٹ) بن گیا۔ میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ اٹارنی جنرل پاکستان نے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ 2023ء

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں