Thursday, 23 April, 2026
کور کمانڈر پشاور سے متعلق بیانات نامناسب ہیں، ترجمان پاک فوج

کور کمانڈر پشاور سے متعلق بیانات نامناسب ہیں، ترجمان پاک فوج

 راولپنڈی - پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے کور کمانڈر پشاور کے حوالے سے سینئر سیاستدانوں کے بیان کو انتہائی نامناسب قرار دے دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پشاور کور کمانڈر کے حوالے سے  اہم سینئر سیاستدانوں  کے حالیہ بیانات انتہائی نامناسب ہیں، ایسے بیانات سپاہ اور قیادت کے مورال اور وقار پر منفی طور  پر اثر انداز ہوتے  ہیں، سینئر  قومی سیاسی قیادت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ادارے کے خلاف ایسے متنازع بیانات دینے سے اجتناب کریں۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پشاور کور پاکستان آرمی کی ایک ممتاز فارمیشن ہے، جو دو دہائییوں سے دہشت گردی کے خلاف قومی  جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے، اس اہم کور کی قیادت ہمیشہ بہترین پروفیشنل ہاتھوں میں سونپی گئی ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ افواج پاکستان کے بہادر سپاہی اور آفیسرز ہمہ وقت وطن کی خودمختاری اور سالمیت کی حفاظت اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر رہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ کچھ روز سے سیاسی لیڈرشپ کے بیانات انتہائی نامناسب ہیں جبکہ ہم بار بار درخواست کر رہے ہیں فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے کیونکہ ہمارا سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں ہے اور ہماری تمام لیڈر شپ کی اپنی ذمہ داریوں پر توجہ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرمی چیف کی تقرری کا طریقہ کار آئین میں وضع کیا گیا ہے، آئین وقانون کے تحت آرمی چیف کی تقرری کی جائے گی، بلاوجہ اس عہدے پر بحث کرنا معاملے کو متنازع بنانے والی بات ہے۔

ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ فوج کو الیکشن کرانے کی دعوت دینا مناسب بات نہیں کیونکہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اور پاکستان کے قانون کے مطابق فوج کو سیاست سے دور رہنے کا حکم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  15527
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفود نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال اور دو طرفہ اہمیت کے حامل امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے تاہم اس آزادی پر قانون کے تحت کچھ پابندیاں بھی ہیں اور اسلام، سلامتی اور قومی سیکیورٹی جیسے معاملات پر احتیاط ضروری ہے، پاکستان کے دوست ممالک
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات نئے دور میں داخل ہورہے ہیں اور دونوں ممالک تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے میں یوم آزادی کی تقریب
خضدار میں زیرو پوائنٹ کے قریب اسکول بس کو دھماکے سے نشانہ بنایا گیا جس میں 3 طالبات سمیت 5 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کےعلاقےخضدار میں اسکول

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں