Thursday, 23 April, 2026
غیرملکی سازش: تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی چیف جسٹس خود کریں، صدر مملکت

غیرملکی سازش: تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی چیف جسٹس خود کریں، صدر مملکت

اسلام آباد - صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ مبینہ حکومتی تبدیلی سازش کی تحقیقات اور سماعت کیلئے جوڈیشل کمیشن کی سربراہی ترجیحاً چیف جسٹس خود کریں۔ صدر مملکت نے حکومتی تبدیلی سازش کی تحقیقات، جوڈیشل کمیشن کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کے نام خط میں لکھا کہ مبینہ حکومت تبدیلی سازش کی تحقیقات اور سماعت کیلئے جوڈیشل کمیشن کی سربراہی ترجیحاً چیف جسٹس خود کریں، ملک کو سیاسی و معاشی بحران سے بچانے، صورتحال مزید بگڑنے سے روکنے کی ضرورت ہے، ملک میں سنگین سیاسی بحران منڈلا رہا ہے، حالیہ واقعات کے تناظر میں پاکستان کے عوام میں بڑی سیاسی تفریق پیدا ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام اداروں کا فرض ہے ملک کو مزید نقصان اور بگاڑ سے بچانے کیلئے بھرپور کوششیں کریں، افسوس تبصرے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے جا رہے ہیں، غلط فہمیاں بڑھ رہی ہیں، مواقع ضائع ہو رہے ہیں، کنفیوژن پھیل رہی ہے، معیشت بھی بحران میں ہے۔سپریم کورٹ نے ماضی میں قومی سلامتی، سالمیت، خودمختاری اور مفاد عامہ کے معاملات میں عدالتی کمیشن تشکیل دیے، سابق چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن نے 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی انکوائری کی۔

عارف علوی نے لکھا کہ میموگیٹ معاملے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا گیا، لاپتہ افراد کے لیے فعال جوڈیشل کمیشن موجود ہے، سربراہی سپریم کورٹ کے جج کر رہے ہیں، موجودہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کمیشن کے قیام کی خواہش کا اظہار کیا، قوم سپریم کورٹ کا احترام کرتی ہے، اپنی توقعات پر پورا اترنے کی امید کرتی ہے، کمیشن کو معاملے کی تحقیقات قانون کی تکنیکی بنیادوں پر نہیں بلکہ انصاف کی اصل روح کے مطابق کرنی چاہیے۔

صدر مملکت نے لکھا کہ یہ ہمارے ملک کی بہت بڑی خدمت ہو گی، عوام قومی اہمیت کے معاملے پر وضاحت کی مستحق ہے، عالمی تاریخ میں سازشوں کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کی کارروائیوں کی بے شمار مثالیں موجود ہیں، میری رائے ہے ریکارڈ شدہ حالات و واقعات پر مبنی شواہد نتائج کی طرف لے جا سکتے ہیں، درخواست ہے جوڈیشل کمیشن مبینہ سازش کے معاملے کی مکمل تحقیقات کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  64162
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت قومی قیادت کے مشاورتی اجلاس میں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کفایت شعاری اقدامات مزید سخت کرنے پر اتفاق کیا۔
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ جس طرح بھارتی جارحیت کے دوران اتقاق اور اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا تھا، معاشی محاذ پربھی اسی اتفاق واتحاد کی ضرورت ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق ابھی فیصلہ نہیں ہوا
پاکستان نے امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم پیشکش کرتے ہوئے زیرو ٹیرف کی بنیاد پر دو طرفہ تجارتی معاہدہ کرنے کی تجویز دی ہے۔
بھارتی فوج کی بزدلانہ جارحیت کے نتیجے میں زخمی ہونے والے 2 جوان شہید ہو گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے بھارتی جارحیت میں زخمی ہونے والے 2 زخمیوں کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں