Wednesday, 22 April, 2026
پی ڈی ایم دھرنا: ملکی تباہی بھی ججوں کے فیصلوں سے ہوئی ہے، مریم نواز

پی ڈی ایم دھرنا: ملکی تباہی بھی ججوں کے فیصلوں سے ہوئی ہے، مریم نواز


اسلام آباد -  مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا ہے کہ اسمبلیاں توڑنے میں صرف عمران خان، پرویز الہیٰ نہیں عارف علوی بھی شامل تھا، صدر عارف علوی نے جنرل باجوہ کے ساتھ بیٹھ کر فیصلہ کرایا، باجوہ صاحب کا پتا چل گیا پوری قوم جانتی ہے، اس سازش کا سب سے بڑا کردار عمر عطا بندیال تھا۔

اسلام آباد میں احتجاجی ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے قائدین، کارکنوں کو شاباش، سب کے جذبے کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتی ہوں، آج پاکستان کی اصلی عوام شاہراہ دستور کے سامنے موجود ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو پوچھتی ہوں عوام کے سمندر کو دیکھ کر خوشی ہوئی یا نہیں، جب حقیقی عوام نکلتے ہیں تو پتا، گملا نہیں ٹوٹتا۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ آؤ عمرعطا بندیال دیکھو یہ ہے حقیقی عوام، یہ آج مجبوری میں سوال پوچھنے آئے ہیں، اس عمارت کو آپ نے ایمانداری سے نہیں عمران داری سے داغدار کرنے کی کوشش کی، ہم اس عمارت اور آئین کا احترام کرنے والے لوگ ہیں، ہم یہاں احتجاج نہیں کرنا چاہتے تھے، پاکستان کی بہتری اسی عمارت اور تباہی انہی کے فیصلوں سے ہوتی ہے۔

مریم نواز شریف نے مزید کہا ہے کہ معزز جج حضرات سے کہنا چاہتی ہوں عدلیہ، قانون کا احترام کرتے ہیں، ان ججز کی بات نہیں کریں گے جو آئین و قانون پر چلتے ہیں، آج عمران خان کو سہولت دینے والوں کی بات ہو گی، اس عمارت سے جمہوریت کو مضبوط کیا جانا تھا، جمہوریت کو مضبوط کرنا اس عمارت کی ذمہ داری تھی، فتنہ کو انجام تک پہنچانا اس عمارت کی ذمہ داری تھی۔

انہوں نے کہا ہے کہ جس عمارت سے انصاف ہونا تھا وہاں کچھ سہولت کار دن رات انصاف کا قتل کرنے میں مصروف ہیں، جس منتخب وزیر اعظم کو انصاف ملنا تھا اسے سیسلین مافیا، گارڈ فادر کہا گیا، 60 ارب کے مجرم کو خوش آمدید کہتے ہیں، 60 ارب کے مجرم کو دیکھ کر کہتے ہیں بہت خوشی ہوئی، پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہوتی ہے، اس پارلیمنٹ سے ٹکر لے کر بیٹھ گئے ہو۔

مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا تمہارا کام آئین و قانون کی تشریح کرنا ہے روکنا نہیں ہے، ملک کو نظریہ ضرورت نے خراب کیا، منتخب وزیر اعظم کو گھر اور کسی کو پھانسی لگائی جاتی ہے، منتخب وزیر اعظم کو گولی ماری جاتی ہے، چار بار ملک پر شب خون مارا گیا، ایل ایف او، پی سی او کے تحت حلف اٹھائے گئے، کیا اس عمارت نے ایک بھی آمر کو گھر بھیجا۔

مریم نواز نے کہا ہمیشہ آمروں کی خاطر نظریہ ضرورت کو زندہ کیا، آج ہماری فوج مارشل لا لگانے کو تیار نہیں، آج پانچواں جوڈیشل مارشل لا اس عمارت سے لگا ہے، خواجہ طارق رحیم اور عمرعطا بندیال کی ساس فون میں کہتی ہیں اب تو یہ مارشل لا بھی نہیں لگاتے، وہ تو مارشل لا نہیں لگاتے آپ کے کم بختوں نے جوڈیشل مارشل لا لگا دیا، کیا کوئی نظریہ ضرورت پاکستان کی جمہوریت کیلئے لگا کبھی۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ عمرعطا بندیال حوالہ جسٹس کارنیلیس کا اور پیروکاری جسٹس منیر کی کرتے ہیں، اس عمارت میں بیٹھنے والوں کی نیتیں ٹھیک نہیں، گھڑی چور کو توشہ خانہ کیس میں بھی ضمانت مل گئی ہے، جب ہیرے کی انگوٹھیاں رشوت میں لینا ہوتی ہیں تو پنکی پیرنی گینگ کی سرغنہ بن جاتی ہے، جب عدالت بلاتی ہے تو کہتے ہیں گھریلو خاتون ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا میں اپنے بھائی کی ٹرسٹی تھی اور مجھ پر الزام لگائے، میں نے چار سال ظلم برداشت کیا، تمہاری گھرکی خواتین کی عزت ہے تو دوسروں کی نہیں، جب تم اقتدار میں تھے تو دوسروں کی بیٹیاں دھکے کھاتی تھیں، آج ملک انتشار، فتنہ کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے، کرائسز کا ذمہ دار اتنا زمان پارک نہیں جتنی عمرعطا بندیال کی کرسی ہے۔

مریم نواز نے کہا ہے کہ آئین کو ری رائٹ کیا گیا، آرٹیکل 63 اے کی غلط تشریح کی گئی، ہم اقلیتی فیصلے کو کیوں مانیں، آپ نے چار، تین کے معاملے پر ساتھی ججز سے بھی جھوٹ بولا، آپ کے برادر ججز بھی بدنیتی پر چیخ اٹھے، آپ نے ڈھٹائی سے عمران کی سہولت کاری کی، ساتھی ججز نے کہا کالے گاؤن کے اندر آپ چھپے ہوئے ایک سیاست دان ہیں، ساتھی ججز نے کہا سوموٹو کے اختیار کو غلط استعمال کیا۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے پورے سپریم کورٹ کو ون مین شو بنا دیا، ہم نے کیا فیصلہ ماننا ہے آپ کے ساتھی ججز نہیں مان رہے، آپ نے حمزہ شہباز کی حکومت توڑ کر تحریک انصاف کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کر دی، اگر سپریم کورٹ کے اندر کسی پر توہین لگی تو عطا بندیال سلاخوں کے پیچھے ہوں گے، ایک ہی دن میں عطا بندیال متحرک ہو گئے، ایک ہی دن میں پٹیشن اور ضمانتوں کی بارش اور اسی دن رہائی بھی مل گئی۔  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  14541
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفود نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال اور دو طرفہ اہمیت کے حامل امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے اہم ترین مذاکرات کے پیشِ نظر حکومت نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں 11 اپریل بروز ہفتہ کو بھی عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اس تعطیل کا اطلاق تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں اور دفاتر پر ہوگا، تاہم ایمرجنسی سروسز اور ہسپتال معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں کاروباری اوقات کار محدود کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئے احکامات کے مطابق پشاور سمیت تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں مارکیٹیں رات 9 بجے بند کر دی جائیں گی، جبکہ دیگر اضلاع میں بازاروں کو رات 8 بجے تک بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان کے مختلف حصوں میں گزشتہ کئی روز سے جاری طوفانی بارشوں اور برف باری نے نظامِ زندگی درہم برہم کر دیا ہے۔ ملک کے مختلف صوبوں میں چھتیں گرنے اور دیگر حادثات کے نتیجے میں کم از کم 43 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں بچوں

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں