Thursday, 23 April, 2026
عمران، اسٹیبلشمنٹ تعلقات: بہتری کیلئے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، پرویز الٰہی

عمران، اسٹیبلشمنٹ تعلقات: بہتری کیلئے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، پرویز الٰہی

لاہور - مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری پرویز الہیٰ نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی کے بجائے عمران خان سیاسی مخالفین کو ہٹ کریں، عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات میں بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کوانٹرویو دیتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ جب بھی عمران خان کے پاس جاتا ہوں تو یہی کہتا ہوں ہمیں اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی نہیں کرنی بلکہ ہمارا ہدف ہمارے سیاسی مخالفین ہونے چاہئیں، اسٹیبلشمنٹ کی اس سے زیادہ ‘نیوٹریلٹی’ کیا ہو گی کہ ایک وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہو گئی اور اسٹیبلشمنٹ نے اس دوران کچھ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے پونے چار سالہ دورِ اقتدار میں خارجہ پالیسی کے محاذ پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اُن کے تعلقات میں اُونچ نیچ آتی رہی اور معاملات حل بھی ہوتے رہے، کوشش ہے دونوں کے درمیان تعلقات بہتر ہوں، ہم عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات میں بہتری کے لیے وہ اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

پرویز الٰہی نے کہا کہ عمران خان چاہتے ہیں قومی اسمبلی کے لیے فوری انتخابات ہوں اور صوبائی حکومتیں اپنی مدت پوری کریں، عمران خان جو دباؤ ڈال رہے ہیں اور لانگ مارچ کا عندیہ دے رہے ہیں وہ اسی لیے ہے کہ جلد سے جلد نئے الیکشن ہوں۔

پرویز الہی نے کہا کہ شہباز شریف اب کیوں بیساکھیاں تلاش کررہے ہیں، اب یہ کیوں کسی کو ملوث کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اب یہ حکومت کریں اور ڈلیور کر کے دکھائیں، اشیا کی قیمتیں نیچے لے کر آئیں اور بجلی کا مسئلہ ٹھیک کریں، پاکستان کی معیشت کو اگر فوری طور پر سہارا نہ ملا تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ شریف برادران کے ساتھ ہمارا ٹریک ریکارڈ اتنا اچھا نہیں تھا، اُنہوں نے ہر موقع پر ہمیں دھوکا دیا، ہم 22 برس تک مسلم لیگ (ن)کے ساتھ رہے اور کئی مواقع پر وزارتِ اعلیٰ کے وعدے کے بعد بھی ہمیں دھوکا دیا گیا، شجاعت حسین اور اُن کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے، طارق بشیر چیمہ بھی موجودہ حکومت میں وزیر ہیں، لیکن وہ مسلم لیگ (ق) کے جنرل سیکریٹری بھی ہیں، جیسے ہی وزارتیں ختم ہوں گی تو سب گھر واپس آ جائیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  46511
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفود نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال اور دو طرفہ اہمیت کے حامل امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے تاہم اس آزادی پر قانون کے تحت کچھ پابندیاں بھی ہیں اور اسلام، سلامتی اور قومی سیکیورٹی جیسے معاملات پر احتیاط ضروری ہے، پاکستان کے دوست ممالک
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات نئے دور میں داخل ہورہے ہیں اور دونوں ممالک تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے میں یوم آزادی کی تقریب
خضدار میں زیرو پوائنٹ کے قریب اسکول بس کو دھماکے سے نشانہ بنایا گیا جس میں 3 طالبات سمیت 5 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کےعلاقےخضدار میں اسکول

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں