![]() |
اسلام آباد - پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر نہیں کرنا چاہیے تھا، توشہ خانہ سے جو کچھ لیا وہ ریکارڈ پر ہے، ایف آئی اے میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں، 24 ارب کی تفتیش کرنے والوں کو تبدیل کیا جا رہا ہے، یہ اپنے افسران لگا کر میچ فکس کریں گے، چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے ہوئی، ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے جا رہے ہیں۔
بنی گالہ میں اپنی رہایش گاہ پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں عمران خان نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے جا رہے ہیں، الیکشن کمیشن نے بر وقت حلقہ بندیاں نہ کر کے نا اہلی کا مظاہرہ کیا، الیکشن کمیشن کی نااہلی کے باعث ملک میں قبل از وقت انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے۔
عمران خان نے کہا کہ روس جانے سے پہلے جنرل باجوہ کو فون کیا، جس پر جنرل باجوہ نے کہا ہمیں روس جانا چاہیے، روس سے ہتھیار، تیل، گندم اور گیس کی بات کی، روس گندم تیل 30 فیصد سستا دینے کو تیار تھا، آزاد خارجہ پالیسی ہوتی تو یہ نہ ہوتا، ملک معاشی خوشحال ہونا شروع ہوا تو یہ سازش آگئی۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں کہا گیا روس نہ جائیں جبکہ دوسری جانب ان کا اتحادی انڈیا تیل خرید رہا تھا، ہمیں کہا گیا روس کے خلاف یو این میں ووٹ دیں، قوم کا کئی ہزار ارب کا فائدہ کیا جبکہ ریکو ڈک اور کارکے کے مسائل حل کیے۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ توشہ خانہ سے چیزیں 50 فیصد قیمت ادا کرکے خریدیں جبکہ ہم نے توشہ خانہ کی چیزوں کی قیمت 15 سے بڑھا کر 50 فیصد کی، ملک کو فوج کی بہت ضرورت ہے ایسی کوئی بات نہیں کروں گا جس سے فوج کو نقصان پہنچے۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہ ساڑھے تین سال بعد ان کو توشہ خانہ ملا ہے تو یہ اللہ کا احسان ہے، توشہ خانہ سے جو کچھ لیا وہ ریکارڈ پر ہے، ایک غیر ملکی صدر نے گھر آکر تحفہ دیا وہ بھی جمع کروا دیا۔ انہوں نے چیلنج دیا کہ ہمارے خلاف کرپشن یا کوئی سکینڈل نہیں آیا کوئی ڈیل کی ہے تو بتائیں۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اتحادیوں کو ٹکٹ دیکر سبق سیکھا ہے کہ اتحادی نہیں ہونے چاہئیں، پچھلے انتخابات میں ٹکٹوں پر توجہ نہیں دی تھی، اس بار ٹکٹس خود دیکھ کر دوں گا، میرے خلاف اس وقت سازش ہوئی جب چیزیں ٹھیک ہو رہی تھیں، میری اس مافیا سے لڑائی تھی جو قیمتیں اوپر لے جا رہی تھیں۔
عمران خان نے کہا ایف آئی اے میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں، 24 ارب کی تفتیش کرنے والوں کو تبدیل کیا جا رہا ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر نہیں کرنا چاہیے تھا، ریفرنس اس وقت وزارت قانون کی جانب سے بھیجا گیا تھا، میرا کسی سے کوئی ذاتی عناد نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ فرح خان کے پاس عہدہ تھا نہ وزارت کیسے پیسے لے سکتی ہے، کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو سامنےلائے، توشہ خانہ سے جو کچھ لیا وہ ریکارڈ پر ہے، ایک غیرملکی صدر نے گھر آکر تحفہ دیا وہ بھی جمع کروا دیا، کراچی، پشاور میں جتنے لوگ نکلے پاکستان میں پہلے نہیں دیکھا، جب یہ میچ کھیلتے ہیں تو امپائر ساتھ ملا کر کھیلتے ہیں، قوم سے اپیل ہے انہیں تسلیم نہ کیا جائے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی آزاد باڈی کے ذریعے ہونی چاہیے، موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے ہوئی، کوئی ایسی بات نہیں کروں گا جس سے ملک کو نقصان ہو، ہمارے لیے مضبوظ فوج بہت ضروری ہے، شہبازشریف ابھی سے سیاسی انجینئرنگ کر رہا ہے، یہ اپنے افسران لگا کر میچ فکس کریں گے، وزیراعظم ہاؤس کے 108 کروڑ بچائے ، یہ کوشش میں ہیں کہ نواز شریف کے کیس ختم ہوں، زرداری کے بڑے ہیں سب ضمانتوں پر ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ