Wednesday, 22 April, 2026
نو مئی واقعات: آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیے، عارف علوی

نو مئی واقعات: آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیے، عارف علوی

 اسلام آباد - صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے اور ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیے، عمران خان کو پُرتشدد واقعات کی مذمت کرنا چاہیے۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ نو مئی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی میں انسانی حقوق کا خیال رکھنا اور مار پیٹ سے گریز کرنا چاہیے جبکہ کسی بھی احتجاج کو قانون کے دائرے میں کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ رضا ربانی نے اس وقت ملٹری کورٹس کی مخالف کی اور مقدمات کو سول کورٹس میں چلانے کا مطالبہ کیا یہ ایک اچھی روایت ہے اور سیاست دانوں میں یہ بحث ہونی چاہیے۔

عارف علوی نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کے دور میں ملٹری کورٹس غلط تھیں البتہ اُن کی میعاد ختم ہونے کے بعد مقدمات سول عدالتوں میں آگئے تھے جبکہ سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ نے بھی آرمی ایکٹ کے کچھ فیصلوں کو ختم کیا، اس قانون کے تحت درج مقدمات کے بارے میں سیاستدانوں کو سوچنا ہوگا۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے مقدمات کے حوالے سے بھی نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس قانون کا استعمال بھی غلط ہوتا ہے، میرے اوپر بھی اسی دفعہ کے تحت مقدمت درج ہے، امید ہے نئی آنے والی حکومت اس قانون کے درست استعمال کا تعین کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پارلیمنٹ کہہ رہی ہے کہ سپریم کورٹ لاقانونیت مچا رہی ہے جبکہ پولیس کی لاقانونیت بھی سب کے سامنے ہے۔ پاکستان کے باقی رہنے کی وجہ غریب کا صبر ہے جو سب برداشت کر کے ملک کی فلاح کا سوچتا ہے، اگر پاکستان نیچے آگیا تو امیر طبقہ ختم ہوجائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  22388
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفود نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال اور دو طرفہ اہمیت کے حامل امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے اہم ترین مذاکرات کے پیشِ نظر حکومت نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں 11 اپریل بروز ہفتہ کو بھی عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اس تعطیل کا اطلاق تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں اور دفاتر پر ہوگا، تاہم ایمرجنسی سروسز اور ہسپتال معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں کاروباری اوقات کار محدود کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئے احکامات کے مطابق پشاور سمیت تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں مارکیٹیں رات 9 بجے بند کر دی جائیں گی، جبکہ دیگر اضلاع میں بازاروں کو رات 8 بجے تک بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان کے مختلف حصوں میں گزشتہ کئی روز سے جاری طوفانی بارشوں اور برف باری نے نظامِ زندگی درہم برہم کر دیا ہے۔ ملک کے مختلف صوبوں میں چھتیں گرنے اور دیگر حادثات کے نتیجے میں کم از کم 43 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں بچوں

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں