Wednesday, 22 April, 2026
لانگ مارچ خون خرابے کے خوف سے ختم کیا، عمران خان

لانگ مارچ خون خرابے کے خوف سے ختم کیا، عمران خان

 اسلام آباد - تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی، میں نے لانگ مارچ صرف خون خرابے کے خوف سے ختم کیا. اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  ہمارا احتجاج پر امن تھا لیکن حکومت نے اسے پرتشدد بنادیا، لاہور میں پولیس نے وکلا کو بسوں سے نکال نکال کر مارا، حکومت نے پنجاب پولیس کو استعمال کیا، آئی جی سمیت چن چن کر ایسے افسران لائے جنہوں ںے ظلم کیا، کون سی ملک دشمن پولیس نے جو اپنے ملک کی خواتین اور بچوں پر تشدد کرے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ ہمارے خلاف پروپیگنڈا ہے کہ ہم انتشار پھیلانے جارہے تھے، کیا کوئی خواتین کو اور اہل خانہ لے کر انتشار پھیلانے جائے گا؟ یہ لوگ یزید کو ماننے والے ہیں، ماڈل ٹاؤن میں چودہ افراد کو قتل کے باوجود انہیں سزا نہیں ملی اگر مل جاتی تو یہ لوگ اس طرح کا ظلم نہ کرپاتے۔

انہوں ںے کہا کہ میں وہ آدمی ہوں جو 126 دن دھرنے میں بیٹھا، میرے لیے ایک اور دھرنے میں بیٹھنا کوئی مشکل نہیں تھا، جب ہم دھرنے میں پہنچے تو اندازا ہوا کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں، مجھے معلوم ہوا کہ خون خرابہ ہونے والا ہے، لوگ لڑنے کے لیے تیار ہوگئے تھے، ہمارے لوگ پولیس کی مار کھاکر وہاں پہنچے وہ بہت مشتعل تھے، لوگ بہت غصے میں تھے، میں گارنٹی کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس دن خون خرابہ ہوتا اور پولیس کے ساتھ تصادم ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے گلو بٹ بٹھائے ہوئے ہیں، پولیس کا قصور نہیں اسے استعمال کیا جارہا ہے، اگر ہمارا تصادم ہوتا تو ملک کا نقصان ہوتا کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہماری کمزوری تھی یا ہم نے کوئی ڈیل کرلی، میں نہیں چاہتا کہ ملک میں اداروں اور عوام کے درمیان خلیج بڑھے، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہم آرام سے بیٹھ جائیں گے اور اس امپورٹڈ حکومت کو تسلیم کرلیں گے تو یہ لوگوں کی بھول ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہم چھ دن دے رہے ہیں، اگر انہوں ںے واضح طور پر انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کیا اور اسمبلیاں تحلیل نہ کیں تو ہم دوبارہ نکلیں گے اور اب کی بار تیاری کے ساتھ نکلیں گے کیوں کہ نہیں پتا تھا کہ ہمیں اس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑجائے گا، سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ہمارے جلسے کی راہ میں رکھی رکاوٹیں نہیں ہٹائیں گئیں انہیں کارکنان نے ہٹایا، میں اپنے کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ عمران خان نے کہا کہ میں نے چیف جسٹس کو خط لکھ کر سوالات کیے ہیں کہ اپنی پوزیشن کلیئر کریں، چھ دن میں پتا چل جائے گا کہ سپریم کورٹ ہمارے حقوق کا تحفظ کرتی ہے کہ نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  43930
کوڈ
 
   
مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں