Thursday, 23 April, 2026
عمران کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت ریفرنس کی تیاری شروع

عمران کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت ریفرنس کی تیاری شروع

 اسلام آباد - حکومت نے صدر مملکت عارف علوی، سابق وزیر اعظم عمران خان، قاسم سوری اور عمر سرفراز چیمہ کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔میڈیا کے مطابق وفاقی حکومت نے دستور پاکستان پر عمل درآمد سے متعلق بڑا فیصلہ کرتے ہوئے آئین شکنی کے جرم میں سابق حکومت کی اہم شخصیات کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان شخصیات میں صدر عارف علوی، سابق وزیراعظم عمران خان، ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری، گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ شامل ہیں جن کے خلاف کارروائی کے لیے وزرات قانون وانصاف اور وزرات داخلہ نے ریفرنس کی تیاری شروع کردی۔

میڈیا کے مطابق قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے عمل میں واضح آئین شکنی کی گئی، صدر عارف علوی، ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے عمران خان کے ایماء پر آئین شکنی کی، دستور کوسبوتاژ کیا، پنجاب اسمبلی میں آئینی عمل کو سبوتاژ کیا گیا اور گورنر نے آئین شکنی کی۔

میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر عارف علوی نے پارٹی چیئرمین کے حکم پر آئین قربان کر دیا، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے آئین پر عمل درآمد کرنے واضح احکامات کی توہین کا جرم کیا گیا، بیانات اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کا ریکارڈ حاصل کرنے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔

میڈیا کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات اور عدالتی نظائر بھی طلب کرلیے گئے ہیں جنہیں شواہد کے طور پر ریفرنس کے ساتھ منسلک کیا جائے گا،  ریفرنس سے پاکستان کی سیاسی وعدالتی تاریخ میں ایک نیا باب لکھا جائے گا۔ میڈیا کا مزید کہنا ہے کہ قانون کے تحت آرٹیکل 6 کی کارروائی کرنے کی مجاز وفاقی حکومت ہے، قانون کے تحت وفاقی حکومت ریفرنس تیار کرکے دائر کرتی ہے۔

آئین کا آرٹیکل 6 کیا ہے؟
خیال رہے کہ آئین کے آرٹیکل 6 کے مطابق کوئی بھی شخص جو طاقت کے استعمال یا طاقت سے یا دیگر غیر آئینی ذریعے سے دستور کی تنسیخ کرے تخریب کر ے یا معطل کر ے یا التواء میں رکھے یا اقدام کرے یا تنسیخ کرنے کی سازش کرے یا تخریب کر ے یا معطل یا التواء میں رکھےسنگین غداری کا مجرم ہوگا۔

(2) کوئی شخص جوشق (1) میں مذکورہ افعال میں مدد دے گایا معاونت کرے گا، ۳ یا شریک ہو گا اسی طرح سنگین غداری کا مجرم ہوگا۔

(2الف) شق(۱) یاشق (2) میں درج شدہ سنگین غداری کاعمل کسی بھی عدالت کے ذریعے بشمول عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ جائز قرارنہیں دیا جائے گا۔

(3) 5مجلس شوریٰ ( پارلیمنٹ ) بذریہ قانون ایسے اشخاص کے لئے سزا مقرر کرے گی جنہیں سنگین غداری کا مجرم مقرار دیا گیا ہو ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  35636
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم شہبازشریف نے امیرقطر کو مشکل وقت میں پاکستان کی مکمل یکجہتی اورحمایت کا یقین دلادیا۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے امیرقطر سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، وزیراعظم نے امیرقطر اور
سکیورٹی ذرائع کے مطابق 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب پاک افواج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ہم امن پسند ہیں، امن کو ترجیح دیتے ہیں، ہمارا پہلا انتخاب امن ہے، اگر تم نے دوبارہ یہ حماقت کی تو ہمارا جواب اس سے بھی شدید ہو گا۔ پاک فوج کے شعبہ
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اور وفاقی سیکریٹری داخلہ نے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق خضدار میں اسکول بس حملے میں فتنۃ الہندوستان ملوث ہے۔ میڈیا کے مطابق پاک فوج

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں