Sunday, 12 April, 2026
چین اور روس نے آبنائے ہرمز کھلوانے کی بحرینی قرارداد ویٹو کردی

چین اور روس نے آبنائے ہرمز کھلوانے کی بحرینی قرارداد ویٹو کردی
آبنائے ہرمز کھلوانے کی قرارداد ویٹو

جنیوا - اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے پیش کی گئی بحرین کی قرارداد کو چین اور روس نے ویٹو کر دیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں اس قرارداد کے حق میں 11 ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ فرانس سمیت چین اور روس نے اس کے مسودے کی سخت مخالفت کی۔ سلامتی کونسل کے دو ارکان نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا، جبکہ دیگر 10 غیر مستقل اراکین کے درمیان بھی اس قرارداد پر واضح اختلافات پائے گئے۔

ضرور پڑھیں: ڈیجیٹل فراڈ سے کیسے بچیں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں

اگر یہ قرارداد منظور ہو جاتی تو اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو یہ قانونی اختیار مل جاتا کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے فوجی یا دیگر ضروری اقدامات کر سکیں۔ تاہم، چین اور روس کے ویٹو پاور استعمال کرنے سے یہ کوشش ناکام ہو گئی ہے۔ یاد رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد سے آبنائے ہرمز بند ہے، جس کی وجہ سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔

دوسری جانب، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملے پر ووٹنگ جیسے اقدامات کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیں گے۔ ایران کا موقف ہے کہ خطے کے مسائل کا حل بیرونی مداخلت کے بجائے مقامی سطح پر مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  95318
کوڈ
 
   
مقبول ترین
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفود نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال اور دو طرفہ اہمیت کے حامل امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکہ کے ساتھ انتہائی اہم مذاکرات کے لیے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا ہے۔ نور خان ایئر بیس پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے معزز مہمانوں کا استقبال کیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں