Sunday, 17 May, 2026
"امریکہ، ایران مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم"

اسلام آباد - پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کی ناکامی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طویل نشستیں ہوئیں لیکن کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، اس لیے بغیر کسی ڈیل کے واپس امریکہ جا رہے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا نے بھی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے کہ فریقین کے درمیان مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران جے ڈی وینس نے بتایا کہ گزشتہ 21 گھنٹوں سے جاری مذاکرات میں مختلف امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نے نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کی اور اپنی شرائط واضح طور پر سامنے رکھیں، مگر ایران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا۔"

ضرور پڑھیں: وزیراعظم پاکستان سے امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقاتیں

امریکی نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی وفد کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے کوئی واضح عزم سامنے نہیں آیا، جبکہ امریکہ کو اس بات کی مثبت تصدیق درکار ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوشش نہیں کرے گا۔ پریس بریفنگ کے اختتام پر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے انعقاد اور میزبانی پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ بھی ادا کیا۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا کا موقف ہے کہ امریکہ کے حد سے زیادہ مطالبات نے مشترکہ فریم ورک اور معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ڈالی۔ ذرائع کے مطابق امریکی وفد کا اصرار تھا کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کی واضح ضمانت دے جس پر ایرانی وفد نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور ایران کے جوہری حقوق جیسے معاملات بھی فریقین کے درمیان شدید اختلاف کا باعث بنے۔

عالمی مبصرین کے مطابق، اسلام آباد مذاکرات کی اس ناکامی سے خطے میں پاک ایران اور امریکہ کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، جو عالمی امن و امان کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  81920
کوڈ
 
   
مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں