Saturday, 30 May, 2026
برطانوی عدالت نے الطاف حسین کو دہشت گردی پر اکسانے کے کیس میں بری کردیا

برطانوی عدالت نے الطاف حسین کو دہشت گردی پر اکسانے کے کیس میں بری کردیا

لندن - برطانوی عدالت نے بانی ایم کیو ایم کو اشتعال انگیز تقریر میں دہشت گردی پر اکسانے کے الزامات میں بے گناہ قرار دے دیا۔ برطانوی عدالت نے 7 روز سماعت کے بعد مقدمے کا فیصلہ سنایا، جس میں بانی ایم کیو ایم کو دہشت گردی اور اشتعال انگیز تقاریر میں بری کیا گیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بانی ایم کیو ایم پر دہشت گردی پر اکسانے کا جرم ثابت نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ بانی ایم کیو ایم کو 22 اگست 2016 کی تقریر میں دہشت گردی اور اشتعال انگیزی کو فروغ دینے کے دو الزامات کا سامنا تھا، برطانوی پولیس (کراؤن پراسیکیوشن سروس) نے بانی متحدہ کے خلاف دہشت گردی کی دفعہ 2006 کے تحت 2019 میں اشتعال انگیز تقاریر کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا، جس کے بعد بانی متحدہ کو 2019 میں دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کے الزام میں گرفتار بھی کیا گیا، بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہائی ملی تھی۔

اس کے بعد بانی ایم کیو ایم کے وکلا نے ذہنی اور جسمانی صحت کی بنیاد پر عدالت سے کیس ختم کرنے کی استدعا کی تھی جس کو مسترد کردیا گیا تھا۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت اکتیس جنوری کو مکمل ہونے کے بعد جیوری کا انتخاب کیا، جس نے گزشتہ جمعے کے دوران ٹرائل کیا اور اس دوران استغاثہ، وکیل دفاع، عینی شاہدین سمیت دیگر کے بیانات قلم بند کر کے تقریر کے ٹرانسپکرٹ کو بھی بغور دیکھا۔

وکیل صفائی اور دفاع نے جمعے کے روز اپنے دلائل مکمل کرلیے تھے جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے اسے پیر 14 فروری 2022 کو جاری کرنے کا اعلان کیا تھا البتہ کچھ ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر اس میں تاخیر ہوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  70558
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو امریکہ کی 'سو فیصد کامیابی' قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس جنگ بندی کے نتیجے میں ایران کے یورینیم ذخائر کو اب مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکے گا۔ انہوں نے اس اہم سفارتی پیش رفت میں چین کے کلیدی کردار کا بھی اعتراف کیا، جس نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد فراہم کی۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں