Saturday, 30 May, 2026
اقوام متحدہ میں پاکستان کی اسلاموفوبیا کیخلاف عالمی دن منانے کی قرارداد منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کی اسلاموفوبیا کیخلاف عالمی دن منانے کی قرارداد منظور

نیویارک - پاکستان اور او آئی سی کی اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن منانے کی قرارداد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کرلی ہے جس پر وزیراعظم عمران خان نے امت مسلمہ کو مبارکباد دی ہے۔ میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن منانے کے لیے قرارداد پیش کی گئی۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیراکرم نے اسلاموفوبیا کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اسلاموفوبیا کے خلاف اقوام متحدہ میں آوازاٹھائی، نائن الیون کے بعد مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات بڑھے، مذہبی آزادی ہرشخص کا بنیادی حق ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مختلف ملکوں میں سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اسلاموفوبیا کوہوا دی جاتی ہے، اسلاموفوبیا کے خلاف آگاہی اور تدارک کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے، اس سے مسلمانوں کے خلاف تشدد اورمنافرت بڑھتی ہے۔ منیر اکرم کا کہنا تھا کہ اسلام اورمسلمانوں کے خلاف نفرت کوروکنا ہوگا، اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے مذہبی رواداری کا فروغ وقت کا تقاضا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسلاموفوبیا کے خلاف منظور کردہ قرارداد کے بعد وزیراعظم عمران خان کی جانب سےخوشی کا اظہار کیا گیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے عمران خان نے لکھا کہ میں آج امت مسلمہ کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں، اسلامو فوبیا کی بڑھتی ہوئے لہر کے خلاف ہماری آواز سنی گئی ہے، اقوام متحدہ نے او آئی سی کی جانب سے پاکستان کی طرف سے متعارف کرائی گئی ایک تاریخی قرارداد منظور کی ہے، قرارداد میں 15 مارچ کو اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن قرار دیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے مزید لکھا کہ آج اقوام متحدہ نے بالآخر دنیا کو درپیش سنگین چیلنج کو تسلیم کر لیا ہے، اگلا چیلنج اس تاریخی قرارداد پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  87104
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو امریکہ کی 'سو فیصد کامیابی' قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس جنگ بندی کے نتیجے میں ایران کے یورینیم ذخائر کو اب مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکے گا۔ انہوں نے اس اہم سفارتی پیش رفت میں چین کے کلیدی کردار کا بھی اعتراف کیا، جس نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد فراہم کی۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں