Wednesday, 13 May, 2026
برطانیہ ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہیں ہوگا، برطانوی وزیراعظم

برطانیہ ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہیں ہوگا، برطانوی وزیراعظم

لندن - برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ ایران کے خلاف جاری جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، خطے میں سمندری آمدورفت کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔

لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنا آسان کام نہیں ہے لیکن عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اس بحری راستے کی بحالی نہایت ضروری ہے، اس مقصد کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے اور مشاورت جاری ہے۔

کیئر اسٹارمر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایک مستند اور قابلِ عمل منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، اس معاملے کو نیٹو کا باضابطہ مشن بنانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

برطانوی وزیراعظم نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنازع فوری طور پر ختم ہونا چاہیے کیونکہ اس کے باعث عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، توانائی کی فراہمی اور عالمی تجارت کے تسلسل کے لیے خطے میں استحکام انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک تقریباً بانوے ہزار برطانوی شہری مشرقِ وسطیٰ سے واپس آ چکے ہیں اور حکومت اس حوالے سے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے، ضرورت پڑنے پر مزید شہریوں کے انخلا کے لیے بھی انتظامات کیے جا سکتے ہیں۔

کیئر اسٹارمر نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد ایران کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں مذاکرات کرنا ہوں گے تاکہ مستقبل میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے، برطانیہ اس تنازع کے جلد از جلد حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، وقت کے ساتھ یہ واضح ہو جائے گا کہ اس جنگ کے حوالے سے برطانیہ کا مؤقف درست تھا۔

اس موقع پر برطانوی وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات مضبوط اور مثبت ہیں اور دونوں ممالک اہم عالمی معاملات پر قریبی رابطے میں ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  93525
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو امریکہ کی 'سو فیصد کامیابی' قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس جنگ بندی کے نتیجے میں ایران کے یورینیم ذخائر کو اب مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکے گا۔ انہوں نے اس اہم سفارتی پیش رفت میں چین کے کلیدی کردار کا بھی اعتراف کیا، جس نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد فراہم کی۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں