Saturday, 16 May, 2026
روس کا یکم اپریل سے پیٹرول برآمدات پر پابندی کا اعلان، عالمی منڈی میں تشویش

روس کا یکم اپریل سے پیٹرول برآمدات پر پابندی کا اعلان، عالمی منڈی میں تشویش

ماسکو - روس نے یکم اپریل سے پیٹرول کی برآمدات پر عارضی پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پابندی ابتدائی طور پر 31 جولائی 2026 تک نافذ رہے گی۔ اس فیصلے سے وہ ممالک زیادہ متاثر ہونے کا امکان ہے جو روسی ریفائنڈ پیٹرول پر انحصار کرتے ہیں، جن میں چین، ترکی، برازیل اور افریقہ کے متعدد ممالک شامل ہیں۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیشِ نظر روس نے اپنے بفر اسٹاک کو محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملکی ضروریات کو ترجیح دینا اور عوام و صنعتوں کو سستے ایندھن کی فراہمی یقینی بنانا ہے تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکے۔

روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک کے مطابق یہ فیصلہ خاص طور پر گھریلو صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زرعی سیزن اور ریفائنریز کی طے شدہ دیکھ بھال کے دوران ملک میں پیٹرول کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کے باعث برآمدات کو محدود کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔

واضح رہے کہ روس دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے اس کی برآمدی پالیسی میں کسی بھی تبدیلی کا براہ راست اثر عالمی منڈی پر پڑتا ہے۔ تاہم یہ پابندی یوریشین اکنامک یونین کے رکن ممالک اور ان ممالک پر لاگو نہیں ہوگی جن کے ساتھ روس کے خصوصی معاہدے موجود ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  9146
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو امریکہ کی 'سو فیصد کامیابی' قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس جنگ بندی کے نتیجے میں ایران کے یورینیم ذخائر کو اب مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکے گا۔ انہوں نے اس اہم سفارتی پیش رفت میں چین کے کلیدی کردار کا بھی اعتراف کیا، جس نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد فراہم کی۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں