![]() |
تہران - ایران کے صدر مسعود پزشکیاں نے امریکی عوام کے نام ایک کھلا خط جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اپنے خط میں ایرانی صدر نے سوال اٹھایا کہ کیا واشنگٹن واقعی ’امریکہ فرسٹ‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے یا وہ اسرائیل کا نمائندہ بن کر آخری امریکی فوجی تک جنگ لڑنے کا ارادہ رکھتا ہے؟ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو امریکی عوام سے کوئی دشمنی نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکی عوام گھڑی ہوئی کہانیوں کے بجائے زمینی حقائق کا ادراک کریں۔
صدر پزشکیاں نے مزید کہا کہ ایران کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے کبھی جارحیت یا توسیع پسندی کا راستہ اختیار نہیں کیا، تاہم ہر حملہ آور کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو عالمی سطح پر ایک خطرہ بنا کر پیش کرنا محض مخصوص طاقتور حلقوں کے سیاسی اور معاشی مفادات کا حصہ ہے۔
دفاعی صلاحیتوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک اپنے دفاع سے دستبردار نہیں ہو سکتا اور ایران کا ردعمل ہمیشہ متوازن اور جائز رہا ہے۔ انہوں نے امریکی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا معصوم بچوں کا قتل اور انسانی ہمدردی کے اداروں کی تباہی امریکہ کے عالمی وقار میں اضافہ کرتی ہے؟
خط کے آخر میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایران کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے تاکہ فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹائی جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا ایک نازک موڑ پر ہے اور تصادم کا راستہ کسی کے مفاد میں نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ