Sunday, 17 May, 2026
مذاکرات کیلئے اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا، عباس عراقچی

مذاکرات کیلئے اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا، عباس عراقچی
عباس عراقچی ایران فائل فوٹو

تہران - ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران نے کبھی بھی مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکی میڈیا کی جانب سے ایرانی موقف کو غلط رنگ میں پیش کیا جا رہا ہے، جس کی وہ سختی سے تردید کرتے ہیں۔

ضرور پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ: ایران نے امریکی جدید ترین ایف 35 طیارہ مار گرایا

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کا تہہ دل سے شکر گزار ہے اور انہوں نے اس موقع پر "پاکستان زندہ باد" کا نعرہ بھی لگایا۔ عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ہم پر جنگ مسلط کی گئی ہے اور ہم اس غیر قانونی جنگ کے حتمی و دیرپا خاتمے کے لیے سنجیدہ ہیں، تاہم امن کے لیے طے کی جانے والی شرائط پر ہمیں بعض تحفظات اور فکر مندی لاحق ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملاقات کرنے سے معذرت کر لی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ ایران نے امریکی مطالبات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ثالثوں کو باضابطہ آگاہ کیا ہے کہ وہ فی الحال اسلام آباد میں کسی ملاقات کے لیے تیار نہیں۔

امریکی میڈیا کی رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد میں مذاکرات کی کوششوں میں تعطل کے بعد اب متبادل مقامات کے طور پر قطر کے دارالحکومت دوحہ یا ترکیے کے شہر استنبول پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ ترکیے اور مصر اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے نئی تجاویز پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ایرانی وزیر خارجہ کے حالیہ بیان نے ان تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے اور پاکستان کے کلیدی کردار کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  49546
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایران کے نو منتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے چہلم کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران اپنے قائد اور دیگر شہداء کے خون کے ایک ایک قطرے کا بدلہ لینے کے لیے پُرعزم ہے۔ سرکاری ٹی وی پر پڑھے گئے اپنے تحریری بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ اس جنگ میں دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا گیا ہے اور حتمی فتح ایران ہی کی ہے۔
ایران کے سابق سپریم لیڈر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای، اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور میناب اسکول کے بچوں کے چہلم کے موقع پر تہران سمیت ملک بھر میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ جمعرات کی صبح شروع ہونے والی مرکزی ریلی تہران کے جمہوری اسکوائر سے اس مقام تک نکالی گئی جہاں آیت اللہ خامنہ ای نے جامِ شہادت نوش کیا تھا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسرائیل کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی افواج ہر لمحہ الرٹ ہیں اور ان کی "انگلیاں اب بھی ٹریگر پر" موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ لبنان پر جاری وحشیانہ اسرائیلی حملے حالیہ جنگ بندی کے معاہدے اور پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے متوقع مذاکرات کو بے معنی بنا سکتے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی انٹیلی جنس تنظیم کے سربراہ میجر جنرل ماجد خادمی امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔ سرکاری اور عسکری ذرائع نے واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ میجر جنرل ماجد خادمی آج صبح ہونے والی ایک کارروائی کا نشانہ بنے۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں