Wednesday, 13 May, 2026
بھارت نے پاکستان میں میزائل گرنے کو تکنیکی غلطی قرار دے دیا

بھارت نے پاکستان میں میزائل گرنے کو تکنیکی غلطی قرار دے دیا

نئی دہلی - بھارت نے پاکستان میں میزائل داغنے کو فوج کی ’غلطی ‘قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’انتہائی افسوسناک‘ واقعہ ہے۔ بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’معمول کی دیکھ بھال کے دوران، ایک تکنیکی خرابی کی وجہ سے بدھ کو میزائل حادثاتی طور پر فائر ہوا جو پاکستان کے ایک علاقے میں گرا‘۔

بھارتی وزارت دفاع نے میزائل داغنے کو فوج کی ’غلطی ‘ تسلیم کرتے ہوئے واقعے کو ’انتہائی افسوسناک‘ قرار دیا اور کہا کہ واقعے میں کسی انسانی جان کے نقصان کا نہ ہونا باعث اطمینان ہے۔

بھارتی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ حکومت نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطح کی انکوائری کا حکم بھی دیاہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ شب پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے ہنگامی پریس کانفرنس کی تھی اور بتایا تھاکہ 9 مارچ کو 6 بج کر 33 منٹ پر بھارتی حدود سے ایک 'شے' نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ یہ ایک سوپر سونک پروجیکٹ تھا جو ممکنہ طور پر میزائل تھا اور غیر مسلح تھا، یہ آبجیکٹ بھارت میں سو کلو میٹر اندر تھا، تبھی ہم نے اسے نوٹس کرلیا۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پاکستانی فضائی حدود میں وہ چیز 3 منٹ اور چندسیکنڈ تک رہی اور 260 کلومیٹر اندر تک سفر کیا، اس کے خلاف ضروری کارروائی بروقت کرلی گئی، پاک فضائیہ نے اس کی مکمل نگرانی کی اورپتا چلایا کہ وہ بھارتی علاقے سرسا سے آئی تھی۔

ترجمان پاک فوج نے کہا تھا کہ پاکستان فضائی حدود کی خلاف ورزی کی مذمت کرتا ہے، بھارت کو اس واقعے کی وضاحت دینی ہوگی، پاکستان نے ہمیشہ ذمہ دار ملک ہونے کا ثبوت دیا ہے، ہم اس واقعے پر کسی قسم کی اشتعال انگیزی نہیں کر رہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  57673
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایران کے نو منتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے چہلم کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران اپنے قائد اور دیگر شہداء کے خون کے ایک ایک قطرے کا بدلہ لینے کے لیے پُرعزم ہے۔ سرکاری ٹی وی پر پڑھے گئے اپنے تحریری بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ اس جنگ میں دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا گیا ہے اور حتمی فتح ایران ہی کی ہے۔
ایران کے سابق سپریم لیڈر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای، اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور میناب اسکول کے بچوں کے چہلم کے موقع پر تہران سمیت ملک بھر میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ جمعرات کی صبح شروع ہونے والی مرکزی ریلی تہران کے جمہوری اسکوائر سے اس مقام تک نکالی گئی جہاں آیت اللہ خامنہ ای نے جامِ شہادت نوش کیا تھا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسرائیل کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی افواج ہر لمحہ الرٹ ہیں اور ان کی "انگلیاں اب بھی ٹریگر پر" موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ لبنان پر جاری وحشیانہ اسرائیلی حملے حالیہ جنگ بندی کے معاہدے اور پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے متوقع مذاکرات کو بے معنی بنا سکتے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی انٹیلی جنس تنظیم کے سربراہ میجر جنرل ماجد خادمی امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔ سرکاری اور عسکری ذرائع نے واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ میجر جنرل ماجد خادمی آج صبح ہونے والی ایک کارروائی کا نشانہ بنے۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں