Tuesday, 26 May, 2026
بھارت میں تحریک طالبان انڈیا کے قیام کا اعلان

بھارت میں تحریک طالبان انڈیا کے قیام کا اعلان
فائل فوٹو

نئی دہلی - اقلیتوں پر ظلم بے نقاب ہونے کے بعد نئی چال سامنے آگئی، "را" مودی سرکار کو دباؤ سے نکالنے کیلئے سرگرم ہوگئی اور بھارت میں تحریک طالبان انڈیا کے قیام کا اعلان کردیا گیا ہے۔ میڈیا کے مطابق عالمی آوازوں نے مودی حکومت کی اقلیت مخالف فاشسٹ پالیسیوں کو بے نقاب کرنا شروع کر دیا ہے، عین اسی وقت بھارت میں ٹی ٹی آئی کے قیام کا اعلان بھی سامنے آ گیا ہے، بھار ت میں تحریک طالبان انڈیا کے قیام کا اعلان نامعلوم مقام پر ایک میٹنگ کے بعد کیا گیا جبکہ تحریک طالبان انڈیا نے ایک ٹوئٹر پیغام میں بھارت میں کاروائیاں شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔

ٹی ٹی آئی را کا ایک نیا پروجیکٹ ہے جس کے ذریعے مودی حکومت کو دباؤ سے نکالنے کا پروگرام بنایا گیا ہے، اس سے پہلے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی ) کو بھی را نے ہی منظم کیا اور اس کی بھرپور مالی ، عسکری اور فنی امداد کی۔

را نے ٹی ٹی آئی کو منظم کر کے لانچ کیا ہے تاکہ ریاستی دہشتگردانہ کارروائیوں سے ایک کور مل سکے، تحریک طالبان انڈیا کے ذریعے آنے والے دنوں میں نہتے بھارتی مسلمانوں کے خون کے ساتھ ہولی کھیلی جائے گی، ساتھ ہی ساتھ پاکستان کو ان دہشت گردوں کی پشت پناہی پر مورد الزام ٹھہرایا جائے گا، دہشتگردی کے فروغ کے لیے کا یہ نیا پروجیکٹ خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بنے گا جس کا نقصان سارے خطے کے پر امن باشندوں کو ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  45792
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایران کے نو منتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے چہلم کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران اپنے قائد اور دیگر شہداء کے خون کے ایک ایک قطرے کا بدلہ لینے کے لیے پُرعزم ہے۔ سرکاری ٹی وی پر پڑھے گئے اپنے تحریری بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ اس جنگ میں دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا گیا ہے اور حتمی فتح ایران ہی کی ہے۔
ایران کے سابق سپریم لیڈر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای، اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور میناب اسکول کے بچوں کے چہلم کے موقع پر تہران سمیت ملک بھر میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ جمعرات کی صبح شروع ہونے والی مرکزی ریلی تہران کے جمہوری اسکوائر سے اس مقام تک نکالی گئی جہاں آیت اللہ خامنہ ای نے جامِ شہادت نوش کیا تھا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسرائیل کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی افواج ہر لمحہ الرٹ ہیں اور ان کی "انگلیاں اب بھی ٹریگر پر" موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ لبنان پر جاری وحشیانہ اسرائیلی حملے حالیہ جنگ بندی کے معاہدے اور پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے متوقع مذاکرات کو بے معنی بنا سکتے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی انٹیلی جنس تنظیم کے سربراہ میجر جنرل ماجد خادمی امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔ سرکاری اور عسکری ذرائع نے واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ میجر جنرل ماجد خادمی آج صبح ہونے والی ایک کارروائی کا نشانہ بنے۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں