![]() |
تہران -ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ انہوں نے روس اور پاکستان کے رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے خطے میں امن کے لیے ایران کے عزم کا دوبارہ اعادہ کیا ہے، اس جنگ کو صہیونی حکومت اور امریکا واسرائیل نے بھڑکایا ہے، اس کو ختم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ایران کے حقوق کو تسلیم کیا جائے، اسے ہونے والے نقصانات کا معاوضہ دیا جائے اور مستقبل میں کسی بھی جارحیت کے خلاف مضبوط بین الاقوامی ضمانتیں فراہم کی جائیں۔
دوسری جانب امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے خبردار کیا ہے کہ ایران امریکی حملوں کے جواب میں امریکا کے مغربی ساحل پر ڈرون حملے کر سکتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف بی آئی نے امریکی ریاست کیلیفورنیا کے مختلف پولیس محکموں کو الرٹ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر ویسٹ کوسٹ کو ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنا سکتا ہے۔ امریکی اے بی سی نیوز نے بھی اس الرٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ انتباہ امریکا کے ایران پر حملوں کے ممکنہ ردعمل کے تناظر میں جاری کیا گیا ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل روکنے کی دھمکی بھی دیتے ہوئے کہا کہ پیٹرول کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ ایران کے مشترکہ فوجی کمان خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے جنگ کی نئی حکمت عملی بیان کی، جس میں انہوں نے کہا کہ ایران کی پالیسی اب دشمنوں پر صرف جوابی حملے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اب دشمنوں پر مسلسل اور بڑھتے ہوئے حملے کیے جائیں گے۔
ابراہیم ذولفقاری نے امریکا کو خبردار کیا کہ ایران آبنائے ہرمز سے ایک قطرہ تیل بھی امریکا، اسرائیل یا ان کے اتحادیوں تک نہیں جانے دے گا، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ 28 فروری سے جنگ کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز میں تیرہ بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جس سے دنیا بھر میں تیل کی ترسیل رک گئی ہے اور قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ